بجٹ میں مختلف ٹیکسزکے نفاذ سے مرغی مزیدمہنگی ہوگی،پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن

بجٹ میں مختلف ٹیکسزکے نفاذ سے مرغی مزیدمہنگی ہوگی،پاکستان پولٹری ایسوسی ...

  



لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ نئے وفاقی بجٹ میں پولٹری مصنوعات پرمختلف ٹیکسزکے نفاذ سے مرغی کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا،جس کا براہ راست نقصان عوام کو پہنچے گا۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن(نارتھ زون) کے مطابق حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں پولٹری مصنوعات پرپانچ فیصد جبکہ سویا بین کی درآمد پر دس فیصد سیلزٹیکس اوردس فیصد کسٹم ڈیوٹی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو صنعت اور عوام کیلئے نہایت مضر ہے۔ گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس اور بعد ازاں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے پی پی اے (نارتھ) کے چیئرمین ڈاکٹر مصطفی کمال نے کہا کہ پولٹری فیڈ پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں بالترتیب پانچ ،پانچ فیصد اضافہ قبول نہیں، اضافے سے فیڈ کی بوری200روپے جبکہ پولٹری مصنوعات 7فیصد تک مہنگی ہوجائیں گی۔اضافہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں گوشت کی ضروریات کا چالیس فیصد پولٹری صنعت سے حاصل کیا جا رہا ہے۔ٹیکسز کے نفاذ سے مرغی کے گوشت اور انڈوں کی پیداواری لاگت میں ناقابل برداشت اضافہ ہو جائے گا ۔پریس کانفرنس میں پی پی اے کے سابق چیئرمین خلیق ارشداور عبدالحئی مہتا اور سیکرٹری میجر(ر) جاوید بخاری بھی موجود تھے، پی پی اے کی سینئر قیادت نے پریس کانفرنس کے بعد شدید احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا کہ پولٹری فیڈ پر سیلز ٹیکس 5 فیصد لگا دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سویا بین جو کہ پولٹری فیڈ کا اہم جزو ہے اس پر امپورٹ ڈیوٹی 10 فیصد اور سویا بین پر سیلز ٹیکس بھی 10 فیصد(ر لگا دیا گیا ہے ۔ اس سے انڈے اور مرغی کی قیمتوں پر نہایت منفی اثرات پڑیں گے جس کی وجہ سے انڈے اور مرغی کی پیداواری قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ انڈے اور مرغی ایک ایسا انیمل پروٹین کا ذریعہ ہے جو ہر عام آدمی کی پہنچ تک ہے لیکن اس کی بڑھتی ہوئی قیمت اس کی رسائی کو عام آدمی تک نا ممکن بنا دے گی۔پاکستان پولٹری انڈسٹری کے چیئر مین ڈاکٹر محمد مصطفی کمال نے حکومت سے درخواست کی کہ پولٹری انڈسٹری پر لاگو کئے گئے سیلز ٹیکس اورامپورٹ ڈیوٹی کو فورا واپس لیا جائے نہیں تو پولٹری انڈسٹری کی پچھلے 50سال کی محنت بے سود ہو جائے گئی ۔

پولٹری ایسوسی ایشن

مزید : صفحہ آخر


loading...