بھارتی حکومت کا پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے پر اعتراض بلا جواز ہے ‘ شہباز شریف

بھارتی حکومت کا پاک چائنہ اقتصادی راہداری منصوبے پر اعتراض بلا جواز ہے ‘ ...

  



 لاہور(کامرس رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کا عظیم منصوبہ پاکستان کے 18کروڑ عوام کیلئے ہے۔منصوبے سے سندھ،بلوچستان،خیبر پختونخواہ، پنجاب،گلگت بلتستان،آزاد کشمیرسمیت پورے ملک کے عوام مستفید ہوں گے اوراس منصوبے پر ملکر کام کرکے پاکستان کوعظیم ملک بنائیں گے۔چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورکے منصوبے سے پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی استفادہ کریں گے اورخطے میں معاشی و تجارتی سرگرمیاں فروغ پائیں گی۔بھارت کی مودی سرکار کاچائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے منصوبے کے بارے میں واویلا اوراعتراض بلاجواز ہے۔چین کی بھارت کے ساتھ 75ارب ڈالر کی تجارت ہے اور چین نے بھارت میں توانائی کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے لیکن پاکستان نے آج تک اس کے بارے میں نہ کبھی کوئی اعتراض کیا اور نہ ہی کوشکایت کیونکہ ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں۔بھارت کی مودی سرکار کو بھی خطے کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے حوالے سے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور منصوبے پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے اور اس پر سیخ پانہیں ہونا چاہیے ۔چین کا پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تاریخی پیکیج دراصل چینی قیادت کاپاکستان کی عوام سے والہانہ محبت اوروزیراعظم نوازشریف کی پالیسیوں پر بھر پوراعتماد کا اظہار ہے ۔چین نے پاکستان کی تقدیر بدلنے کیلئے تاریخ ساز اقتصادی پیکیج دیا ہے ،جس پر پوری پاکستانی قوم چینی قیادت اورعوام کی ممنون ہے ۔ہماری آئندہ نسلیں بھی چین کی اس فراخدلی ،مشکل وقت میں ہاتھ تھامنے اوراربو ں ڈالر کی سرمایہ کاری کو کبھی فراموش نہیں کرپائیں گی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار ایوان وزیراعلیٰ میں محکمہ توانائی پنجاب کے زیر اہتمام چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC)کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال ،پاکستان میں چین کے سفیر سن ویڈانگ،صوبائی وزراء،اراکین قومی صوبائی اسمبلی،وائس چانسلرز، ماہرین توانائی،پنجاب میں توانائی کے منصوبوں پر کام کرنے والی چین کی کمپنیوں کے نمائندوں ،دانشوروں ،کالم نگاروں، صحافیوں اورطلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے سیمینار میں شرکت کی ۔وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی موقع ہے کہ ہم پاکستان کی معیشت کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھنے والے عظیم الشان منصوبے چائنہ پاکستان اکنامک کویڈور پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں ۔چین پاکستان کا ایک ایسا مخلص اور بااعتماد دوست ہے جومصیبت کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔جنگ ہویا امن،سیلاب ہو یا زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت ،چین نے ہمیشہ پاکستان کا سچے اورمخلص دوست کی طرح ساتھ نبھایا ہے۔ چین پاکستان اور پاکستان کے عوام کی ترقی چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین نے پاکستان کیلئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا پیکیج دیا ہے ۔چین کی دوستی پاکستان اورپاکستان کے عوام کے ساتھ ہے،چین کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ پاکستان میں کس کی حکومت ہے ۔ہر گزرتے لمحے پاکستان اور چین کے معاشی و تجارتی تعلقات نیا رخ اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چین کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوران اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں نے پاکستان کی تاریخ کا دھارا موڑ دیا ہے ۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے2013ء میں جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان کو تین بڑے چیلنجز دہشت گردی،توانائی بحران اورکمزور معیشت کا سامنا تھا ۔محمدنوازشریف نے ملک کا تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد 6جولائی 2013ء کو چین کا دورہ کیا اور اس دورے کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے تصور کو آگے بڑھایا۔دونوں ممالک کی قیادت اور حکام کی انتھک کاوشوں کی بدولت آج ہمیں یہ تاریخی لمحہ میسر آیا ہے کہ پاکستان میں چین کے 46ارب ڈالر کی تاریخی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے ۔ان میں سے 33ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں پر صرف کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ چین پہلے بھی ہمیں مواقع فراہم کرتا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان مواقعوں کو ضائع کیا اب ہم ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے بلکہ اس تاریخی منصوبے پر عملدر آمد کیلئے دن رات ایک کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ غیر یقینی صورتحال ،رکاوٹوں،بے پناہ مسائل اوردھرنوں کی وجہ سے ضائع ہونے والے قیمتی وقت کے باوجوداللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بار پھر عظیم موقع عطا کیا ہے اورچین جیسا مخلص دوست ہماری مددکیلئے آیا ہے۔بعض عناصر نے دھرنوں کی آڑ میں اس ملک اورقوم کے ساتھ سنگین مزاق کیااورآئندہ نسلوں کے ساتھ ظلم اورزیادتی کی،آج یہ عناصرعوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔دھرنا دینے والوں نے اس ملک کے غریب عوام ،مزدوروں اورعام شہریوں کی ترقی اورخوشحالی کے سفر میں رکاوٹ ڈالی۔کنٹینرز والوں نے اس ملک کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں ترقی اورخوشحالی کا سفر دوبارہ شروع ہوچکا ہے اورنئے پاکستان کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام چین کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر بے حد خوش ہیں اور وہ اس سنہری موقع کو کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہتے اور اب گیند ہمارے کورٹ میں ہے ہم نے اپنے عمل سے تاریخ کا دھارا بدلنا ہے ۔ اگر خدانخواستہ ہم نے اس تاریخی موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ چائنہ پاکستان اکنامک کویڈور کے منصوبے کو نئے عزم ،حوصلے،لگن اورجذبے سے کا م کرتے ہوئے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اورماضی کی کوتاہیوں کی تلافی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ چین نے محنت اورلگن سے کا م کرتے ہوئے تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں اور آج چین کی دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت بن چکا ہے اور چین کے 4 ٹریلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں جبکہ اس شر ح نمو7فیصد سے زائد ہے ۔چین کی ترقی ہمارے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے ہم چین کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ترقی کے سفر کو کامیابی سے آگے بڑھا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چین ہماری مدد اورتعاون کیلئے سچے دوست کی طرح موجود رہا لیکن پاکستان میں کرپشن ،نااہلی اورسیاسی عدم استحکام کے باعث عوام کوفائدہ نہیں پہنچ سکا۔اب ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے اور وقت ضائع کیے بغیر اپنی محنت سے تاریخ کا دھارا بدلنا ہے ۔وزیراعلیٰ نے پاکستان کے سرمایہ کاروں کی بیرون ممالک سرمایہ کاری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی دکھ اورافسوس کی بات ہے کہ بعض پاکستانی بزنس مینوں نے پاکستان سے اربوں روپے کمائے لیکن مشکل کی گھڑی میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے بیرون ممالک سرمایہ کاری کو ترجیح دی۔پاکستان میں اب جعلی ٹھیکیداروں کیلئے کوئی جگہ نہیں،صرف ان کیلئے مواقع موجود ہیں جو جائز منافع کمائیں گے ،خائن،ڈکیت اورچورکیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔آج جب پاکستان کی قوم کو ان سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ضرورت تھی تو وہ غائب ہیں لیکن چین کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے دوستی کا حق نبھارہے ہیں،اگر مشکل کی اس گھڑی میں چین بھی ہماری مدد کو نہ آتا تو خدا جانے پاکستان کا کیا حال ہوتا ۔یہ وہ چبھتے ہوئے سوال ہیں جن کا قوم جواب مانگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورپاکستان کی معیشت کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اوراس منصوبے پر عملدر آمد سے پاکستان میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔تعمیراتی صنعت ترقی کرے گی،کنٹریکٹرز کی استعدد کار میں اضافہ ہوگا،نجی شعبہ کیلئے آگے بڑھنے کا نادر موقع ہے لیکن یہ موقع جائز منافع کمانے اور پاکستان کی خدمت کرنے والوں کیلئے ہے۔کسی خائن اور بددیانت کو قوم کا ایک پیسہ بھی لوٹنے نہیں دیں گے۔ چائنہ پاکستان اکنامک کویڈور عظیم سفر کا آغاز ہے اوراسے ہم محنت سے طے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی قومی معیشت اور ملک و قوم کی ترقی کے اس عظیم منصوبے کے بارے میں عوام کو بھر پورآگاہی دینے کیلئے اپنا مثبت کردارادا کرنا ہے۔ منصوبے کو حتمی شکل دینے پر پاکستان اور چین کی قیادت اور حکام کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال،چین کے سفیر سن ویڈانگ ،دونوں ممالک کے ورکنگ گروپس اور دیگر متعلقہ اداروں کی انتھک کاوشوں کی بدولت ہی یہ منصوبہ طے پایا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اس منصوبے پر مکمل اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے ۔انشاء اللہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر دنیا پر ثابت کردیں گے کہ ہم باصلاحیت قوم ہیں اور بڑے سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ ہم اپنے دوستوں اور اپنی آنے والی نسلوں کاسرفخر سے بلند کریں گے اور اپنے مقاصد میں سرخروہوں گے۔وزیراعلیٰ نے سیمینار کے شرکاء کے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پوری پاکستانی قوم سی پیک کے منصوبے پر متحد ہے اور آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں نے چائنہ اکنامک کوریڈور پر مکمل اتفاق کیا ہے ،تاہم اگر پھر بھی کسی کے تحفظات موجودہیں توانہیں مل بیٹھ کر دور کیا جاسکتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ توانائی کے متعدد منصوبے 2017ء کے آخر تک مکمل ہوجائیں گے۔بجلی کے منصوبے مکمل ہونے سے ترقی کی شرح میں دو فیصد اضافہ ہوگا۔چینی زبان کے فروغ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ چینی زبان کا فروغ وقت کی اشد ضرورت ہے اورلاہور میں چینی زبان سکھانے کیلئے کالج قائم کیا جائے گا۔ چائنہ پاکستان اکنامک کویڈور منصوبے پر بھارتی اعتراض کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں دن رات محنت کرنا ہے پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اورکوئی اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ہم دن رات محنت کر کے منصوبے پر عملدر آمد کریں گے تو انشا ء اللہ راستے خود بخود کھلتے جائیں گے اور اعتراض کرنے والے خود خاموش ہوجائیں گے۔وہ لمحہ آگیا ہے جب 18کروڑ عوام سرخروہوں گے اور اغیار سرنگوں،انشاء اللہ ہم سب مل کراپنا اوردوستوں کا سر فخر سے بلند کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کیلئے بجٹ میں خطیر رقم رکھی گئی ہے۔داسوڈیم اوردیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اراضی خریدنے کیلئے بھی رقم مختص کی گئی ہے ۔انشاء اللہ جب یہ ڈیم بنیں گے تو ہزاروں میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کا منصوبہ پاکستان اورچین کے مابین مضبوط معاشی روابط کا ذریعہ بنے گااوریہ منصوبہ تاریخ کا دھارا بدل دے گا۔چین کی جانب سے 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے راستہ کھول دیا ہے ۔سی پیک کے تحت 11ارب ڈالر انفراسٹرکچر اور33ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں پر صرف کیے جارہے ہیں ۔ منصوبے سے تمام صوبوں کے عوام کو فائدہ ہوگا اور یہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین رابطوں کا ذریعہ بنے گا۔منصوبے کے حوالے سے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کی کاوشیں لائق تحسین ہیں اورانہوں نے چاروں صوبے کا وکیل بن کر کام کیا ہے۔ انہوں نے منصوبے کے بارے میں چین کے سفیر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب پاکستان میں ہوتے ہیں تو چین کے سفیر ہیں اورجب چین جاتے ہیں تو پاکستان کے سفیر ہوتے ہیں ۔ چین کے سفیر سن ویڈانگ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کے صدر نے پاکستان کااس سال تاریخ ساز اور کامیاب دورہ کیا جس کے نتیجے میں پاک چین دوستی مزید مضبوط ہوئی۔چین کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان کی حکومت ،ملٹری اورعوام نے شاندار استقبال کیا ،اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے جن سے دونوں ملکوں کے مابین معاشی تعاون کی نئی راہیں کھلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک بڑا منصوبہ ہے جس سے پورے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔پاکستان میں تجارتی و معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور روزگار کے لاکھوں نئے مواقعے پیدا ہوں گے۔یہ منصوبہ پاکستان کی ترقی کیلئے ٹھوس بنیادیں فراہم کرے گا۔ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھائیں گے۔سی پیک پر عملدر آمد سے چین کی ٹیکنالوجی پاکستان منتقل ہوگی۔چین کے سرمایہ کاروں کو راغب کریں گے تو وہ پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کریں۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کی قیادت میں صوبہ پنجاب نے بے مثال ترقی کی ہے ۔میٹروبس سسٹم کامیابی سے چل رہا ہے جس سے عوام کو بہتر سفری سہولتیں میسر آرہی ہیں۔انہوں نے پاکستان میٹروبس منصوبے کی کامیابی پر وزیراعلیٰ کو مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ چین کی کمپنی پنجاب حکومت کے ساتھ ملکر اورنج لائن ٹرین کے منصوبے پر کام کررہی ہے ۔زراعت، سائنس،ٹیکنالوجی،صنعت اوردیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔چین ایشیاء اورگلوبل فیملی کا اہم ممبر ہے اور وہ تمام ہمسایوں کے ساتھ تعلقات اورتعاون کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔انہوں نے کہاکہ چین اورپاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے ۔سی پیک کا منصوبہ ہماری روایتی دوستی میں مزید استحکام لائے گا۔پنجاب میں توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی چین کے کمپنیوں کے نمائندوں نے توانائی کے منصوبوں پر پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی جہانزیب خان اورسیکرٹری معدنیات ارشد محمود نے بھی سیمینار سے خطاب کیا ۔

مزید : صفحہ اول


loading...