متعدد اضلاع میں سروس سنٹر انچارجو ں کو سرکاری گاڑیاں دیدی گئیں

متعدد اضلاع میں سروس سنٹر انچارجو ں کو سرکاری گاڑیاں دیدی گئیں

  



 لاہور(عامر بٹ سے)بورڈ آف ریونیو کے شعبہ (پی ایم یو)کی شاہ خرچیاں ،وزیراعلیٰ پنجاب کی بچت پالیسز کو پس پشت ڈال دیا گیا ، پنجاب کے متعدد اضلاع میں سروس سنٹر انچارج کو نیلی لائٹ اور سبز سرکاری نمبر پلیٹ سے مزین قیمتی گاڑیاں معہ ڈرائیور دینے کا انکشاف ہوا ہے ،چمکتی دھمکتی اپلائیڈ فار گاڑیوں کی خریداری نے دیگر محکموں کے افسران کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیاکرنے کی ڈیمانڈ نے سونے پر سہاگے کا کام کر دیا ،ایل ڈی اے ،اینٹی کرپشن ،پی ایچ اے،اوقاف،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ،ہیلتھ،ایجوکیشن سمیت دیگر صوبائی محکموں کے افسران بھی گاڑیوں کی خریداری کی اطلاعات ملنے پر دوبارہ متحرک ہو گئے ،معلومات کے مطابق بورڈ آف ریونیو کے شعبہ پی ایم یو کی طرف سے پنجاب کے متعدد اضلاع میں سروس سنٹر انچارج کو ٹرانسپورٹ کی سہولت دیتے ہوئے نیلی بتی اور سرکاری نمبر پلیٹ سے آراستہ قیمتی کلٹس گاڑیوں کی خریداری نے تمام صوبائی محکموں میں اضطرابی کیفیت پیدا کردی تو دوسری جانب سروس سنٹر انچارج کو ایک مرتبہ پھر اے ڈی ایل آرز پر فوقیت دیتے ہوئے تعلیم ،قابلیت،سنیارٹی ،عہدے اور ذمہ داریوں کو ایک مرتبہ پھر نظر انداز کر دیا ہے ،قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ گاڑیوں کی خریداری سے لے کر گاڑیوں کی تقسیم تک بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر پنجاب ندیم اشرف کو بھی بے خبر رکھا ہے جبکہ ایسے وقت میں سروس سنٹر انچارج اور پی ایم یو کے دیگر کنٹریکٹ افسران کو نئی گاڑیوں سے نوازا گیا ہے جب ان پر کرپشن ،رشوت وصولی ،اختیارات کے ناجائز استعمال او رسنگین نوعیت کے الزمات کے تحت مقدمات کا سامنا ہے ،ریونیو ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایم یو کی جانب سروس سنٹر انچارج کے لئے گاڑیوں کی خریدار ی کی منطق سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ سروس سنٹر انچار ج سمیت دیگر پی ایم یو مانیٹر افسران کی نہ تو کوئی فیلڈ ڈیوٹی ہے اورنہ ہی کوئی لمبے ٹورز ہیں ،ان کا کا م سنٹرز میں بیٹھ کر صرف ہدایات جاری کرنا اندرونی مانیٹرنگ کرنا ہے اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنرز ،اے ڈی سی آرز ،ڈی سی اوز اور کمشنرز کو اپنی مانیٹرنگ اور انتظامی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے سنبھالے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ، اس حوالے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی بچت پالیسیوں کو ناصر ف کھلے عام نظر انداز کیا جارہا ہے بلکہ دوسرے صوبائی محکموں کو بھی اس کی ترغیب دی جارہی ہے ،اس حوالے سے ڈپٹی پی ڈی پنجاب کیپٹن (ر )ظفر اقبال نے واضح موقف دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری ورلڈ بنک کے پیسوں سے کی گئی ہے اور اس کے پی سی ون کی منظوری بھی قبل از وقت ہو چکی ہے اس وقت 9 گاڑیوں کی خریداری کی گئی ہے جو کہ آنے والے چند دنوں میں پنجاب کے تمام اضلاع میں موجود ڈسٹرکٹ سطح پر 36گاڑیاں استعمال میں لائی جائیں گی،شاہ خرچیوں کاالزام بے بنیاد ہے اس کا مقصد مانیٹرنگ ،ورکشاپ اور سروس سنٹر ز پر وزٹ کرنے کیلئے آنے والے افسران کو گاڑی مہیا کرنا ہے کیونکہ قبل از وقت لاہور سے ڈیرہ غازی خان او ر ملتان تک سفر کرنے کیلئے یہاں سے گاڑی جاتی تھی اوراس پر اخراجات بھی زائدخرچ ہوتے تھے لہیذاب مانیٹرنگ ،ورکشاپ اور سروس سنٹر وزٹ کرنے والے افسران ڈائیوو گاڑی پر سفر کرتے ہوئے اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق اضلاع میں جہاں نئی گاڑیاں اور ڈرائیور انہیں پک اینڈ ڈراپ کی سہولت مہیا کرے گے،ان گاڑیوں میں خصوصی ٹریکنگ سسٹم لگایا گیا ہے جس کا کنٹرول لاہور میں بیٹھے ڈائریکٹر آپریشنل کے پاس موجود ہے لہیذا اس گاڑی کو نا تو کوئی سروس سنٹر انچارج استعمال کرپائے گا نہ ہی کوئی اے ڈی ایل آرز اور نہ ہی کوئی ڈی ایس سی آئی استعمال کر پائیں گے، اگر کوئی گاڑی کا غیر قانونی استعمال کرتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کاروئی عمل میں لائی جائے گی اس کے علاوہ یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہماری ٹیمیں اور افسران گاؤں گاؤں جاکر کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے حوالے سے آگاہی مہم بھی چلا رہے ہیں ،دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ پی ایم یو کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری کے بعد ایل ڈی اے،اینٹی کرپشن،ہیلتھ،ایجوکیشن ،پی ایچ اے ،تعمیرات و مواصلات سمیت دیگر صوبائی محکموں کے افسران بھی اس خریدار ی کو مثا ل بناتے ہوئے نئے جذبے کے ساتھ اپنے لئے ٹرانسپورٹ کی فراہمی کیلئے متحرک ہو چکے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر