جعلی ڈگری سکینڈل ‘ حکومت ایگزیکٹ کیخلاف کارروائی کرے ‘ قائمہ کمیٹی اطلاعات

جعلی ڈگری سکینڈل ‘ حکومت ایگزیکٹ کیخلاف کارروائی کرے ‘ قائمہ کمیٹی اطلاعات

  



 اسلام آباد(آن لائن )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ نے ا یگزیٹ کمپنی کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر حکومت سے کارروائی کرنے کی سفا رش کر دی تاہم کسی بھی پرائیویٹ چینل کی نشریات کو بند نہ کیا جا ئے کیونکہ یہ آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے خلاف ہے،قائمہ کمیٹی معلومات تک رسائی کے بل اور کوڈ آف کنڈکٹ کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے لہٰذااس پر جلد سے جلد عمل درآمد کرایا جائے ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا ،اجلاس میں سینیٹرز خوش بخت شجاعت ، ڈاکٹر اشوک کمار ، نہال ہاشمی ، لیفیٹنٹ جرنل (ر) صلاح الدین ترمزی سعید غنی ، سسی پلیجو ، روبینہ خالد اور فر خت اللہ بابر کے علاوہ سیکریٹری اطلاعات و نشریات ،چیئر مین پیمرا ،پی آئی ڈی ، لوک ورثہ ، پیمرا ، پی این سی اے،اے پی پی اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ اور اسکے ملحقہ اداروں کی کارکردگی طریقہ کار و دیگر معاملات پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی گئی ۔کمیٹی کے اجلاس میں ٹی وی چینل بول اور کوڈ آف کنڈکٹ کی موجودہ صورتحال کے علاوہ پیمرا کے غیر ملکی نشریات کے حوالے سے اور خاص طور پر انڈین پروگرام اور بچوں کے پروگرام کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔سیکریٹری اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ نے قائمہ کمیٹی کو پی آئی ڈی ، پیمرا ، پی ٹی وی ، پی بی سی ، اے پی پی کی کاکردگی ، کام کے طریقہ کار اور انتظامی امور متعلق تفصیلی آگاہ کیا۔ سیکریٹری اطلاعات و نشریات نے بول ٹی وی کے معاملات کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بول ٹی وی کے خلاف حکومت نے ملکی ساکھ کو بہتر کرنے کیلئے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔اراکین کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ا یگزیٹ کمپنی کی جعلی ڈگریوں کے معاملات کیخلاف حکومت کارروائی کرے مگر کسی بھی پرائیویٹ چینل کی نشریات کو بند نہ کیاکیونکہ یہ آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے خلاف ہے۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کچھ معاملات اس چینل کے متعلق ابھی کچھ معاملات واضح نہیں کئے گئے لہٰذا آئندہ اجلاس میں باقی معاملات پر تفصیل سے بحث کی جائیگی۔قائمہ کمیٹی نے معلومات تک رسائی کے بل اور کوڈ آف کنڈکٹ جن کی قائمہ کمیٹی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے ان پر جلد سے جلد عمل درآمد کرانے کی ہدایت کر دی ۔

مزید : صفحہ اول