5چھوٹی بڑی جماعتوں کی کانفرنس کا نام ’’ آل پارٹیز کانفرنس‘‘ رکھ دیا گیا

5چھوٹی بڑی جماعتوں کی کانفرنس کا نام ’’ آل پارٹیز کانفرنس‘‘ رکھ دیا گیا

  



تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

آپ چاہیں تو پانچ جماعتوں کی اس کانفرنس کو آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی ) کہہ کر دل پشاوری کرسکتے ہیں، ان میں تین جماعتیں تو وہ تھیں جو خیبر پختونخوا حکومت کا حصہ ہیں یعنی تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد، چوتھی جماعت جو اس کانفرنس میں شریک ہوئی آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی ہے ، ابتداء میں یہ بھی پرویز خٹک کی کابینہ کا حصہ تھی، لیکن اس کے وزیروں کو بے آبرو کرکے حکومت کے کوچے سے نکال دیا گیا، پانچویں جماعت جو شریک کانفرنس ہوئی مسلم لیگ (ق) تھی، سہ فریقی اتحاد نے جو اے این پی، پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) پر مشتمل ہے، اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی، مسلم لیگ (ن) بھی شریک نہیں ہوئی۔

اس کانفرنس کو آپ جو بھی نام دیں، وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس میں کہا کہ اگر تمام جماعتیں متفق ہوں تو وہ دوبارہ انتخابات کے لئے تیار ہیں، یہی بات اس صوبے کی حکمران جماعت کے سربراہ عمران خان خود بھی کہہ چکے ہیں لیکن اس پر الیکشن کمیشن کا تبصرہ یہ ہے کہ دوبارہ انتخاب کوئی گڈے گڈی کا کھیل نہیں ہے ۔الیکشن کمیشن کا مؤقف پہلے بھی یہ تھا کہ بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے چاہئے تھے اس لئے کہ ان انتخابات میں امیدوار بھی زیادہ تھے اور ہر ووٹر کو بیک وقت سات ووٹ ڈالنے تھے جو ایک طویل مرحلہ تھا، الیکشن اگر مرحلہ وار ہوتے تو انتظامات زیادہ بہتر طورپر کئے جاسکتے تھے، سیکیورٹی فورسز کو تسلی بخش طورپر ڈیپلائے کیا جاسکتا تھا اور یوں ہنگامے اور لڑائی مارکٹائی کے واقعات کو کنٹرول کرنے میں آسانی رہتی، لیکن الیکشن کمیشن کے مطابق عمران خان نے ایک ہی دن الیکشن پر اصرار کیا، اب کہا جارہا ہے کہ الیکشن کا عمل پیچیدہ تھا اور پہلی دفعہ ایک ووٹر کو سات ووٹ ڈالنے کے عمل سے گزرنا پڑرہا تھاتو کیا یہ کوئی ایسی بات تھی جس کا علم پہلے نہیں تھا اور یہ الیکشن کے بعد سامنے آئی ؟ الیکشن کے بعد سہ فریقی اتحاد مسلسل یہ الزام لگارہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی حکومت کے ایما پر ہوئی اس لئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو استعفا دینا چاہئے، جبکہ عمران خان کہتے ہیں وہ استعفا نہیں دیں گے، اس ماحول میں جوکانفرنس ہوئی اس کا کیا نتیجہ نکل سکتاتھا ؟ سہ فریقی اتحاد نے آج (10جون) کو شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کررکھا ہے یہ احتجاجی تحریک اب دھاندلی سے زیادہ پرویز خٹک کے استعفے پر زور دے گی۔

آپ کو یاد ہوگا عمران خان نے جب خود دھرنے کا آغاز کرنے کے لئے لاہور سے اسلام آباد کا رخ کیا تھا تو وزیراعظم نواز شریف نے اپنے نشری خطاب میں انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن کا اعلان کردیا تھا لیکن عمران خان نے اسے مسترد کرکے اپنا دھرنا پروگرام جاری رکھااور مرحلہ وار آگے بڑھتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس کے دروازے پر پہنچ گئے اور اعلان کیا کہ اگر وزیراعظم نے استعفانہ دیا تو انہیں گھسیٹ کر باہر نکال دیاجائے گا، خیر اس کی نوبت تو نہ آئی نہ وزیراعظم نے استعفا دیا اور نہ ہی انہیں گھسیٹ کر باہر نکالا جاسکا، اب خیبر پختونخوا میں ’’ایکشن ری پلے‘‘ ہورہا ہے، کردار بدل گئے ہیں مطالبات وہی ہیں، وزیراعظم کی جگہ وزیراعلیٰ کا استعفا مانگاجارہا ہے استعفا مانگنے والا سہ فریقی اتحاد ہے جسے شکایت ہے کہ اس کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ عمران خان نے پورے انتخابات کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے دھرنے کے دوران وہ کہا کرتے تھے کہ میں نواز شریف کی جگہ ہوتا تو فوراً استعفا دے دیتا لیکن اب وہ کہتے ہیں پرویز خٹک استعفا نہیں دیں گے، انقلابات ہیں زمانے کے ، وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بھی اسے تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت سے مشروط کردیا ہے لیکن الیکشن کمیشن جس نے انتخاب کرانا ہے اسے گڈی گڈے کا کھیل قرار دے رہا ہے ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا نئے انتخابات ممکن ہیں؟ بظاہر اس کا امکان بھی نہیں اگر ہو بھی جائیں تو پھر وہی کچھ ہوگا جو پہلے ہوچکا، امیدوار وہی ہوں گے یا ان کے بھائی بند ہوں گے، ووٹر بھی وہی ہوں گے، انتظامیہ بھی وہی ہوگی ، تو کیا تبدیلی آچکی ہوگی جس کی وجہ سے بہتر نتائج کی امید کی جاسکے ؟ اصل بات یہ ہے کہ پہلے نظام کو بدلا جائے، جب تک نظام نہیں بدلے گا، انتخابی دھاندلیوں کی شکایات دورنہیں ہوں گی، بہرحال تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں مشکل کا شکارہے۔ اور گلگت بلتستان کے انتخاب سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ دلی ابھی بہت دور ہے۔

مزید : تجزیہ


loading...