قیامِ امن کے لئے اکمل اویسی کی کاوش

قیامِ امن کے لئے اکمل اویسی کی کاوش
قیامِ امن کے لئے اکمل اویسی کی کاوش

  



مَیں جب لاہور میں نیا نیا آیا تھا تو سب سے پہلے میری طرف دوستی کا ہاتھ جس شخص نے بڑھایا، اس کا نام محمد اکمل اویسی ہے۔ آج تین دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن اکمل اویسی کی محبت اور دوستی کا تعلق آج بھی ویسا ہی ہے، جیسا تیس سال پہلے تھا۔ انہوں نے آج تک میرا ہاتھ نہیں چھوڑا ۔ہم دونوں چاہے ہر روز ملیں ،چاہے دو چار سال کے بعد ملیں۔ لگتا یہی ہے جیسے آج پہلی بار ہی مل رہے ہیں۔ دونوں طرف تڑپ ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ آج جب ہمارا معاشرہ بہت سی برائیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ اکمل اویسی ہمیشہ مثبت بات کرتا ہے اور مفید کام کرنے پر زور دیتا ہے۔ خدمتِ خلق اس کا شعار ہے۔ وہ آپ کے پاس جب بھی آئے گا، کسی اور کے کام کے لئے آئے گا۔ اپنے لئے اور اپنے بارے میں کچھ سوچنے کا اس کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ اس نے الفجر کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی ہے جو معاشرے کے گرے پڑے لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دیتی ہے۔ اب معاشرے میں امن کے قیام کے لئے بھی اس نے ایک کلب بنایا ہے جو مختلف انداز میں سرگرم عمل ہے۔ آج میں اکمل اویسی کی تنظیم الفجر اور امید جواں پیس کلب کا تعارف کرانا چاہتا ہوں، تاکہ قارئین کو علم ہو سکے کہ کچھ لوگ صلہ و ستائش سے بے نیاز ہو کر بھی کام کررہے ہیں۔

تنظیم الفجر پاکستان گزشتہ 28سال سے نوجوانوں، خواتین، بچوں، طلباء کی فلاح و بہبود اور منشیات کی روک تھام کے لئے سرگرم عمل ہے۔تنظیم الفجر پاکستان سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب ،منسٹری آف یوتھ پاکستان اینٹی نارکو ٹکس فورس پنجاب اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں باقاعدہ رجسٹر ہے۔ تنظیم الفجر پاکستان کی ملک بھر میں 26برانچیں کام کررہی ہیں۔ تنظیم الفجر کے تحت ایک ماہنامہ انٹرنیشنل الفجر ٹائمز باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے جو کہ ملک کی سماجی ا ور یوتھ تنظیموں اور این جی اوز کا نمائندہ ہے۔ تنظیم الفجر پاکستان کو یوتھ کی بھرپور نمائندگی پر کامن ویلتھ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

تنظیم الفجر پاکستان امید جوان پروگرام کے تحت لاہور کے 3ٹاؤنوں کے 30سکولوں میں انتہا پسندی کے خلاف امن کی دیوار کے حوالے سے پراجیکٹ پر کام کررہی ہے، جس میں 30کلب بنا دیئے گئے ہیں۔ الفجر امید جوان پیس کلب راوی ٹاؤن، داتا گنج بخش ٹاؤن اور سمن آباد ٹاؤن میں لاہور شاہدرہ سے لے کر موٹروے شیراکوٹ کے ساتھ بند روڈ تک کے علاقہ کے سکولوں میں قائم کئے گئے ہیں۔

کلب کے قیام کے اولین مقاصد میں طلباء و طالبات کو امن ،راواداری کا فروغ ، معاشرے میں مذہبی راوداری کی کوششوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، معاشرے سے منفی رجحانات کا خاتمہ، معاشرے سے نفرت اور دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کرنا، تمام انسانوں کا رنگ و نسل ، ذات ، عقیدہ ا ور دیگر تمام قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر بحیثیت انسان عزت و احترام بحال کرنا، نفرت اور تعصب پھیلانے والوں کے نظریات کو مسترد کرنا، پاکستان میں مختلف مذاہب، مسالک، ثقافت اور لسانی بنیادوں پر تمام شہریوں کا یکساں احترام اور عزت و تکریم دینا،ہر طالب علم کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف ان سب امور پر خود کار بند ہو،بلکہ اپنے بہن، بھائیوں ، رشتہ داروں ، دوست احباب اور جاننے والوں کو بھی ان امور پر کار بند رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے، تاکہ معاشرے میں امن کی کوششوں کو تقویت ملے۔الفجر امید جواں پیس کلب کے زیر اہتمام ’’انتہا پسندی کیخلاف امن کی دیوار‘‘ کے تحت 3ٹاؤنوں کے 30سکولوں کے طلبہ کے درمیان پینٹنگ مقابلے کرائے جائیں گے۔ فائنل پینٹنگز سکولوں کی دیواروں پر لگائی جائیں گی۔

کسی بھی ملک کی ترقی اور لوگوں کے معیار زندگی کی بلندی کے لئے امن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے ملک میں پچھلے کچھ سالوں سے امن کی صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ ہمارے ملک میں امن کی خراب صورت حال بیرونی عناصر نے پیدا نہیں کی، بلکہ امن کی تباہی میں ہمارے اپنے لوگوں کا ہاتھ بھی کارفرما ہے، جس کے باعث ہمارے ملک کا امن و امان تباہ ہوچکا ہے۔ تعلیمی ادارے، تفریحی مقامات، پبلک مقامات، ہسپتال، حساس عمارتیں سب پر ملک دشمن عناصر حملے کرکے ملک میں خوف و ہراس پھیلا چکے ہیں، جس سے شہری بہت زیادہ پریشان ہیں اور خوف و ہراس کی فضا میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہماری بہادر افواج ملک دشمن عناصر کے خلاف ہمت اور بہادری سے نبردآزما ہیں، تاکہ ملک میں امن کا قیام کیا جا سکے۔ اس مشن میں ہماری بہادر افواج کے کئی جوانوں کے ساتھ ساتھ، طالب علم اور کئی سویلین بھی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو آگے لایا جائے اور مختلف عقائد اور طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے، تاکہ وہ یک جان ہو کر معاشرہ میں قیام امن کے لئے جدوجہد کر سکیں اور معاشرہ میں درپیش مسائل کا جواں ہمت سے مقابلہ کر سکیں۔ بزرگان دین کی تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں کہ انہوں نے امن کے فروغ کے لئے کس قدر مصائب برداشت کئے، مگر ہمت نہیں ہاری اور آخر اپنے مشن میں کامیاب رہے۔ امن کے فروغ کے لئے سول سوسائٹی اور غیر سیاسی تنظیمیں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور امن کے فروغ کے لئے مختلف پروگرام مرتب کریں، جن میں امن کے فروغ کے لئے کالجز، یونیورسٹیز میں سیمینار، ورکشاپ، سٹیج ڈرامے اور تقریری مقابلے کرائے جائیں، تاکہ طالب علموں کو امن کے فروغ کے لئے زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جا سکے۔ آج پاکستان میں امن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سارا ایسا مواد نشر کیا جا رہا ہے جو امن کی راہ میں رکاوٹ ہے، لہٰذا فوری طور پر ایسے مواد کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کے لئے کام کیا جائے۔ اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے، کیونکہ قیام پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر قائداعظم کا ساتھ دیا تھا، جس کی بدولت ہمارا ملک آزاد ہوا۔ اس لئے ہمیں چاہیے کوئی بھی ایسا کام نہ کریں، جس سے کسی بھی مسلک کی دل آزاری ہو، بلکہ سب کو ملا کر امن کے فروغ کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے اس طرح ہمارے ملک میں امن فروغ پائے گا اور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا۔

نوجوان کسی بھی ملک کے لئے سرمایہ افتخار ہوتے ہیں، جب یہ ملکی ترقی اور امن کے لئے میدان میں آتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں ان کے عزم سے نہیں روک سکتی اور وہ ملک ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتا ہے اور پھر ان کا ملک پوری دنیا کے لئے مثال بن جاتا ہے۔ جاپان، ملائیشیا، چین اور دیگر کئی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ا س کے علاوہ معاشرے میں موجود نفرت کے بیج کو ختم کرکے امن، محبت، بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لئے بھی نوجوان نہایت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ہمارا پیارا وطن جو حالیہ کئی سالوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، امن بُری طرح متاثرہوچکا ہے، ایسے میں نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں موجود نفرت کے بیج ختم کرنے کے لئے اپنا کردار مثبت انداز میں انجام دیں۔ انتہا پسند امن و امان کو تہس نہس کرنا چاہتے ہین، لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ والدین اور نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کے میدان میں نہ صرف خود آگے بڑھیں، بلکہ اپنی بہنوں، بیٹیوں کو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں، تاکہ وہ بھی ملکی ترقی اور معاشرہ میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرسکیں۔

تنظیم الفجر پاکستان بھی ’’امید جوان پیس کلب‘‘ کے قیام سے معاشرہ میں انتہا پسندی کے خلاف امن کی دیوار کے تحت طالب علموں کو آگاہی اور پینٹنگ مقابلے کراکے امن کے فروع کے لئے کوشاں ہے۔ اس میں گورنمنٹ آف پنجاب، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور غیر سرکاری تنظیموں کا اسے اعتماد حاصل ہے۔ راوی ٹاؤن، داتا گنج بخش ٹاؤن اور سمن آباد ٹاؤن کے 30سکولوں میں پیس کلبوں کا قیام ہو چکا ہے۔ سکولوں میں پیس کلب کے ممبران کے ساتھ میٹنگز بھی ہو رہی ہیں، ان کو سرٹیفکیٹ بھی دیئے گئے ہیں۔ پیس کلب کے ممبران کے درمیان’’ انتہا پسندی کے خلاف امن کی دیوار‘‘ کے موضوع پر پیٹنگ مقابلے کرائے گئے ، جن میں بہترین قرار دی گئی پینٹنگ سکولوں کی دیواروں پر لگائی جا رہی ہیں۔

آخر میں میری ایک نظم کے چند اشعار جو پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے اپنی مختلف کتابوں میں شامل کی ہے۔

پاکستانی بچے ہیں ہم، امن سے اتنا پیار ہمیں

اپنے اندر کے دشمن سے لڑنا ہے اس بار ہمیں

دریا میں طغیانی ہے، منجدھار میں کشتی ٹھہری ہے

لیکن ہم نے سوچ لیا ہے، جانا ہے اس پار ہمیں

کلیاں دل کی کھل جائیں گی، بادِ صبا اٹھلائے گی

فصل بہار ہے آنے والی دکھتے ہیں آثار ہمیں

صحن چمن کی مٹی کو ہم اپنے خون سے سینچیں گے

اس کا اک اک صحرا آخر کرنا ہے گلزار ہمیں

ہم آنکھوں میں سپنے لے کر آگے بڑھتے جائیں گے

موت سے ہم کو ڈر نہیں لگتا، جینے سے ہے پیار ہمیں

منزل پر پہنچیں گے اک دن وہیں قیام کریں گے

روک نہیں سکتی ہے،ناصر کوئی بھی دیوار ہمیں

مزید : کالم