کبھی سوموٹو، کبھی اجینو موٹو اور کبھی عتیقہ اوڈھو، ایوان میں قہقہے

کبھی سوموٹو، کبھی اجینو موٹو اور کبھی عتیقہ اوڈھو، ایوان میں قہقہے
کبھی سوموٹو، کبھی اجینو موٹو اور کبھی عتیقہ اوڈھو، ایوان میں قہقہے

  



اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اپوزیشن نے منگل کو بجٹ پر بحث کے دوران حکومت کو اپنی طاقت اور اہمیت کا احساس کورم توڑ کر دلا دیا جبکہ کورم ٹوٹنے پر وفاقی وزراء اور لاجز میں چلے جانے والے اراکین کو بھی واپس آنا پڑا۔ اجلاس میں بندر اور استرے کی کہانی بیان کی گئی تو وہیں پر سابق صدر پرویز مشرف کی باقیات کا بھی ذکر ہوا ۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اپنی تقریر میں ایک موقع پر کہا کہ ان کے دور میں تو انھیں کام ہی نہیں کرنے دیا گیا کبھی سوموٹو ، کبھی اجینو موٹو اور کبھی ان کی حکومت کی عتیقہ اوڈھو کے معاملات میں پھنسی رہی اس پر ایوان زعفران بن گیا دوسری طرف قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزراء اور ن لیگ کے ممبران اسمبلی کی اکثریت وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اجلاس سے غائب رہی جس کا فائدہ تحریک انصاف کے عارف علوی نے اٹھایا اور نماز ظہر کے وقفے کے بعد جونہی اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو انہوں نے کورم کی نشاندہی کردی گنتی کرنے پر کورم پورا نہ تھا جس پر ڈپٹی سپیکر کو کورم پورا ہونے تک اجلاس ملتوی کرنا پڑا اور پندرہ سے بیس منٹ کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا جب چیف وہپ شیخ آفتاب کی دوڑیں لگ گئیں انہوں نے چیمبرز اور لابیوں سمیت لاجز میں جانے والے اراکین کو واپس بلایا ۔

ایوان میں موجود گی اکثریت بجٹ بحث پر عدم دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور گپ شپ میں مصروف رہی جب اجلاس شروع ہوا تو صرف 35ممبران اور چار وزراء ایوان میں موجود تھے جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، مسلم لیگ ق کے سینئر راہنما و سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ ، پی ٹی آئی کے راہنما شاہ محمود قریشی سمیت حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصیات نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

اجلاس کے دوران جب اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اپنی ڈھائی گھنٹے کی تقریر ختم کی تو وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار سمیت بڑی تعداد میں ممبران اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کی نشست پر ان کی تقرر پر مبارکبادیں بھی دی جبکہ اس موقع پر تحریک انصاف کی خاتون رکن عائشہ گلالئی نے قوائد و ضوابط کیخلاف سپیکر قومی اسمبلی سے پوائنٹ آف آرڈر مانگا تو سردار ایاز صادق نے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈی چوک نہیں ہے قومی اسمبلی ہے۔

مزید : اسلام آباد


loading...