چین کا ایک ا ور زبردست اقدام، مزدور بھیجنے کے بدلےاسرائیل کے سامنے شاندار شرط رکھ دی

چین کا ایک ا ور زبردست اقدام، مزدور بھیجنے کے بدلےاسرائیل کے سامنے شاندار ...
چین کا ایک ا ور زبردست اقدام، مزدور بھیجنے کے بدلےاسرائیل کے سامنے شاندار شرط رکھ دی

  



بیجنگ (نیوز ڈیسک) اسرائیل اپنے تعمیراتی منصوبوں کے لئے درکار لیبر کی کمی پوری کرنے کے لئے چین سے افرادی قوت منگوانے کے لئے بے تاب ہے لیکن چین نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر اہم شرط عائد کر دی ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق چین نے اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ اس کے شہری اسرائیل کے زیر تسلط فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں کام نہیں کریں گے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے اعتراف کیا کہ چین کا فیصلہ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت پر مبنی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اہلکار نے کہا، ”چین کی دلیل غالباً بیجنگ کی اس پوزیشن کے ساتھ منسلک ہے جس کے مطابق چین فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی موجودگی کی مخالفت کرتا ہے۔“

واضح رہے کہ مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور یہاں اسرائیلی مظالم مدت سے جاری ہیں لیکن گزشتہ سال کی جارحیت کے بعد حالات سخت دگرگوں ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اپنے تعمیراتی پراجیکٹس کے لئے تقریبآ 8 ہزار مزید غیر ملکی کارکن منگوانا چاہتا ہے اور چین کی مدد کے بغیر یہ ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں۔ چین کی طرف سے مغربی کنارے میں اپنے شہری بھیجنے سے انکار اسرائیلی پالیسی پر اس کے عدم اعتماد کا واضح اعلان ہے۔ چین نے اسرائیلی قوانین کے برعکس اپنے ہر مزدور کے لئے تقریبآ 6 ہزار ڈالر کمیشن کی شرط بھی منوا لی ہے، تاہم تا حال دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس