بھارتی حکومت کی بد تمیزی حد سے بڑھ گئی، نماز کے بارے میں وزیر کا ایسابیان کہ مسلمانوں کا صبر جواب دے گیا

بھارتی حکومت کی بد تمیزی حد سے بڑھ گئی، نماز کے بارے میں وزیر کا ایسابیان کہ ...
بھارتی حکومت کی بد تمیزی حد سے بڑھ گئی، نماز کے بارے میں وزیر کا ایسابیان کہ مسلمانوں کا صبر جواب دے گیا

  



نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارتی حکام مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ایک طرف تو سیکولرازم کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن دوسری طرف مذہبی تعصب کا بدترین مظاہرہ بھی جاری رہتا ہے۔ ریاست مہاراشٹرا کے ایک وزیر کا تازہ بیان بھی اسی تعصب کی واضح مثال ہے۔

وزیر برائے اقلیتی امور ایکناتھ کھادسے نے مسلمانوں کے عقائد کا مذاق اڑاتے ہوئے نماز کو یوگا کی شکل قرار دے دیا اور مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ یوگا کرتے ہوئے اپنے خدا کو یاد کر لیا کریں۔ منگل کے روز جاری کردہ بیان میں وزیر نے کہا کہ یوگا صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہے لیکن اگر مسلمان اس پر کوئی اعتراض رکھتے ہیں تو یوگا کے مختلف آسنوں کے دوران جب وہ کھڑے ہوں یا جھکیں تو اپنی عبادت بھی کر لیا کریں کیونکہ محض عبادت کرنا یوگا کا متبادل نہیں ہے۔

ریاست مہاراشٹرا کے حکام نے انٹرنیشنل یوگا ڈے کے موقع پر عوامی سطح پر یوگا کے مظاہروں کا اعلان کیا ہے، جبکہ مسلمانوں کی طرف سے یوگا کے بعض آسنوں کے لئے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو مخصوص آسن پسند نہیں وہ ان کے دوران اپنی عبادت کر لیا کریں۔ انہوں نے مذہبی جذبات اور آزادی کے حق میں بات کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں سیاسی مفاد پرستی کا شکار قرار دیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس