وہ گاﺅں جس پر یکدم سینکڑوں سانپوں نے حملہ کردیا، وجہ سامنے آئی تو گاﺅں والوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی

وہ گاﺅں جس پر یکدم سینکڑوں سانپوں نے حملہ کردیا، وجہ سامنے آئی تو گاﺅں والوں ...
وہ گاﺅں جس پر یکدم سینکڑوں سانپوں نے حملہ کردیا، وجہ سامنے آئی تو گاﺅں والوں کے پیروں تلے زمین نکل گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) جس طرح ہمارے ہاں چڑیا، طوطے و دیگر پرندے آزاد کرکے ”ثواب“ کمایا جاتا ہے، چین میں ایک خاتون نے مذہبی رسم کے طور پر ایک گاﺅں کے نزدیک اتنے سانپ رہا کر دیئے کہ اس گاﺅں کے لئے زندگی عذاب بن گئی۔ ویب سائٹ شنگھائسٹ کی رپور ٹ کے مطابق یہ خاتون بدھ مت کی پیروکار تھی جس میں فینگ شینگ(Fang Sheng) نامی ایک رسم کے تحت کوئی نہ کوئی جانور آزاد کیے جاتے ہیں۔چینی شہر نن جنگ کی رہائشی اس خاتون نے ایک ہزار سے زائد سانپ لیے اورشہر کے مضافات میں پہاڑی کے دامن میں واقع گاﺅں کے پاس جھاڑیوں میں تمام سانپ رہا کر دیئے۔ سانپوں کے رہا ہونے کی دیر تھی کہ یہ گاﺅں کی گلیوں میں جا نکلے۔ گاﺅں میں ہر طرف سانپ ہی سانپ ہو گئے۔

کپڑوں کی دکان کی سی سی ٹی وی ویڈیو، رات گئے دکان میں پھرتی ایک ایسی چیز نظر آگئی کہ جو دیکھے اوسان خطا ہوجائیں

گاﺅں کے لوگ ان سانپوں کو مار مار کر پھینکتے رہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں ان سانپوں کی وجہ سے کئی دن تک عذاب برداشت کرنا پڑا اور کئی راتیں جاگ کر گزارنی پڑی تھیں۔ ان دنوں پورے گاﺅں میں خوف و ہراس کی فضاءقائم رہی۔ گاﺅں کے کئی لوگوں نے اپنے گھروں کے گرد لکیریں کھینچ لی تھیں تاکہ اگر کوئی سانپ ان کے گھر میں داخل ہو تو لکیر اس جگہ سے ٹوٹ جائے اور انہیں معلوم ہو جائے۔ نن جنگ پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے اپنی قسمت اچھی بنانے کے لیے دوسروں کی قسمت داﺅ پر لگا دی ہے۔ جنگل میں اتنی بڑی تعداد میں سانپ چھوڑنے سے جنگلی مخلوق کا توازن بھی بگڑ سکتا ہے اور ایسے اقدامات قریب واقع آبادیوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -