بجلی کے مارے یہ لوگ

بجلی کے مارے یہ لوگ
بجلی کے مارے یہ لوگ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان میں آباد بوہری برادری کا شمار پرامن برادریوں میں ہوتا ہے۔ احتجاج، مظاہرہ، شور شرابہ سے یہ برادری دور رہتی ہے، لیکن یہ برادری بھی مجبور ہوئی اور بدھ کی رات حیدرآباد میں اہم ترین سڑک کو بند کر دیا ۔ خواتین اور بچوں سمیت لوگ سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ یہ دھرنا اس لئے دیا گیا کہ ان کے گھروں کو بجلی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوا، وہ لوگ کئی گھنٹے تک متعلقہ ادارے سے رابطہ کرتے رہے، لیکن جب کہیں سے اطمینان بخش جواب نہیں ملا تو سڑک تو حاضر ہی تھی۔ یہ ایسی سڑک ہے جہاں سے کراچی جانے اور حیدرآباد آنے، اوراندرونِ سندھ جانے کی سہولت ہے۔ جب سڑک پر انسان بیٹھے ہوں گے تو بھلا گاڑی چلانے کی ہمت کون کرے گا۔ بوہریوں کے دھرنے کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ وزارت بجلی اور پانی دو روز سے شہریوں کو یہ احساس دلا رہی ہے کہ ملک میں جو بجلی بھی موجود ہے اس میں سے شہری اور دیہی علاقوں کو فراہم کی جارہی ہے۔ بوہری برادری کا توتذکرہ ہو گیا، لیکن حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کے تمام شہروں میں لوگوں کے کاموں میں ایک اضافہ یہ بھی ہو گیا ہے کہ انہیں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، جبری بندش، اور کسی فنی خرابی کی وجہ سے عدم فراہمی پر احتجاج بھی کرنا ہے۔ دن ہو یا رات، لوگ سڑکوں پر جمع ہوتے ہیں، استعمال شدہ ٹائر نذر آتش کرتے ہیں ، احتجاج کرتے ہیں اور رخصت ہو جاتے ہیں، جن محلوں میں ریل گاڑی کی پٹری قریب ہے وہاں لوگ پٹریوں پر بیٹھ کر احتجاج کرتے ہیں۔ گرمی کی شدت ہے۔ درجہ حرارت45ڈگری سے زیادہ رہنا معمول ہے۔ گرمی کی تپش ایسی ہوتی ہے کہ جسم جھلس جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی وزارت نہ جانے کیوں لوگوں کا مذاق اڑا رہی ہے۔ لوگوں کو کیوں کہا جارہا ہے کہ مُلک کے 90فیصد دیہی علاقوں اور95فیصد شہری علاقوں میں بجلی فراہم کی جارہی ہے۔اگر مذاق نہیں اڑا رہی ہے تو لوگوں کو مشتعل کرنے کا کام ضرور کیا جارہا ہے۔ انہیں کہا جارہا ہے کہ دیکھو تم بجلی سے محروم ہو، لیکن ہم اپنے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں اُلجھا کر یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ مُلک میں بجلی موجود ہے۔ وزارت بجلی و پانی کے بابو لوگوں کو کیا علم کہ ایسے ہی ہتھکنڈے انقلاب کا سبب بنتے ہیں۔


پاکستان میں اس وقت عوام کے ساتھ جس طرح کا افسوس ناک کھیل کھیلا جارہا ہے اس کا نتیجہ تو وفاقی حکومت کرنے والی سیاسی جماعت مسلم لیگ(ن) کو آئندہ انتخابات میں معلوم ہی ہوجائے گا۔ کسی بھی علاقے میں لوگوں کو کسی قسم کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ یہ آخر کیسی حکومتیں ہیں جو سہولتیں فراہم کرنے میں تو ناکام ہیں، لیکن اپنی تشہیری مہم میں یہ دعوی کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ عوام کو تمام سہولتیں حاصل ہیں۔ بجلی کا گھنٹوں غائب رہنا ایسا معمول ہو گیا ہے جس کے لوگ بھی عادی ہو گئے ہے۔ یہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث بجلی کی کھپت زیادہ ہے۔ جہاں جہاں ٹرانسفارمر جل جاتے ہیں ان کی سرکاری طور پر مرمت کی بجائے اہلکار لوگوں کو چندہ جمع کر کے مُنہ مانگی رقم ان کے حوالے کرنے کا پابند کرتے ہیں ۔ جن علاقوں کے لوگ اہل کاروں کی فرمائش پوری کردیتے ہیں ان کے ٹرانسفارمر کی مرمت فوری کرادی جاتی ہے اور جن علاقوں میں لوگ فرمائش پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے ا نہیں تپش میں جھلس جانے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی حیسکو نے ایک انوکھا رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ کسی رہائشی علاقے میں اگر بجلی کی چوری کی جاتی ہے اور حیسکو کو مطلوبہ وصولی نہیں ہوتی ہے تو ٹرانسفامر ہی ہٹا دیا جاتا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں وہ صارفین بھی پریشانی سے دوچار ہوتے ہیں جو ادائیگی کے بارے میں شکایت کا موقع نہیں دیتے ہیں۔ جب صارفین اس رویہ کی شکایت کرتے ہیں تو انہیں ٹال دیا جاتا ہے یا جھڑک دیا جاتا ہے۔ یہ کون سا کاروباری اصول ہے کہ ادائیگی کرنے والوں اور ادا ئیگی نہ کرنے والوں کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھا جائے ۔اہل کاروں کے رویہ سے ایسا لگتا ہے کہ حیسکو کسی اور ملک کی کمپنی ہے جو اس ملک میں کاروبار کرنے آئی ہے یا حیسکو گوروں کی کمپنی ہے جسے کالے پر حکمرانی کرنا ہے۔ حکومت سندھ کے مشیر اطلاعات نے تو ایک موقع پر کہا بھی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ وفاقی وزیر مملکت حیسکو کے ذریعہ سندھ میں بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ امن و امان کا مسلہ کھڑا ہو۔


وزیر مملکت عابد شیر علی اور ان کے ماتحت حیسکو افسران ممکن ہے کہ اپنی حکمت عملی کے ذریعہ وصولی بہتر بنانا چاہتے ہوں، لیکن لوگوں اور صارفین کو ایذا پہنچانا بھی اگر حکمت عملی کا حصہ ہے تو پھر امن امان کا مسئلہ تو پیدا ہونا ہی ہے۔ حیدرآباد میں حیسکو کے ایک سپرنٹنڈنگ انجینئر امتیاز ملک کہتے ہیں کہ انہیں خطرہ ہے کہ ا نہیں کہیں فل فرائی یا ہاف فرائی نہ کر دیا جائے۔ فل فرائی کی اصطلاح پولس کی زبان میں مقابلے میں ہلاک کردینا اور ہاف فرائی کا مطلب زخمی کر دینا ہوتا ہے۔ امتیاز کی بات توجہ طلب ضرور ہے، لیکن امتیاز ملک اور ان کے ساتھی افسران کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ صارفین کو ایذا پہنچانے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں یا اپنے محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانا ان کی ذمہ داری ہے اور کیا کارکردگی بہتر بنانے کے طریقے یہ ہی ہوتے ہیں جیسے انہوں نے اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وزارت بجلی اور پانی اپنے ذرائع سے تحقیق تو کرے کہ صارفین کے ساتھ کس قسم کا ناقابل برداشت ہتک آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ حیسکو افسران کی اس بات کر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ علاقوں کے علاقے بجلی چوری کر رہے ہیں، ادا ئیگی نہیں کرتے ہیں، میٹر نہیں لگائے ہوئے ہیں، توکیا اس کا طریقہ یہ ہے کہ پورے علاقے کو سزا دی جائے۔


حیسکو نے سخت کارروائی کو اپنی مہم کا حصہ تو بنایا ہوا ہے، لیکن آج تک کبھی صارفین کے ساتھ مشاورت یا انہیں آمادہ کرنے کی مہم پر عمل نہیں کیا گیا۔ کسی نوٹس کے بغیر بجلی منقطع کر دینا غیر انسانی رویہ ہے یا اذیت دینا مقصود ہے ۔ چوری کرنے والوں ، میٹر لگائے بغیر بجلی استعمال کرنے والوں اور دیگر اسباب کے ذمہ داروں کو زبانی طور پر ہفتہ یا دو ہفتے کا وقت دینا چاہئے تاکہ وہ بجلی کے حصول کو قانونی بنا سکیں۔ وزارت بجلی اور پانی اگر حیسکو اور دیگر تقسیم کار کمپنیوں کو صارفین کے سا تھ بہتر رویہ اختیار کرنے کا درس نہیں دے سکتی تو اعلیٰ حکمرانوں کو مطلع کرے کہ کوئی ایک چنگاری ہی تو انقلاب کا سبب بن جاتی ہے۔ جب پر امن بوہری برادری سڑک پر آ جائے تو سمجھ لو کہ خرابی زیادہ ہے جسے دور کرنے اور رویوں میں بہتری لانے کی فوری ضرورت ہے۔

مزید :

کالم -