’’غیرت کے نام پر ایک اور قتل‘‘ :اصلاح کیسے؟

’’غیرت کے نام پر ایک اور قتل‘‘ :اصلاح کیسے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چونگی امرسدھو فیکٹری ایریا میں ’’غیرت‘‘ کے نام پر ایک اور نوجوان لڑکی کو خود اُس کی والدہ نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر قتل کر دیا ،یہ واردات بھی لڑکی کو زندہ جلا دینے کی ہے۔ سترہ، اٹھارہ سالہ میٹرک کی طالبہ زینت نے اپنے ایک محلے دار حسن کے ساتھ محبت کی شادی کر لی اور اُس کے گھر رہنے لگی۔ اس کی والدہ پروین نے اُسے بہانے سے گھر بلایا کہ باعزت طور پر رخصتی کرتے ہیں۔ زینت ،دھوکے میں آ کر والدہ کے پاس آ گئی،جس نے بیٹے کے ساتھ مل کر اُسے زندہ ہی جلا دیا اور پھر محلے میں آ کر اعلان کیا کہ اُس نے بے غیرت کو زندہ جلا دیا ہے۔گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران یہ تیسرا سانحہ ہے، جو میڈیا کی نظروں میں آیا۔ پہلا وقوعہ ایبٹ آباد کا تھا ،جہاں نوجوان دوشیزہ کو نام نہاد جرگے نے سہیلی کے ساتھ شادی میں تعاون کرنے کے ’’جرم‘‘ میں اُسے مار کر اس کی نعش اور گاڑی جلا دی تھی، یہ ملزم گرفتار ہو چکے ہیں۔دوسرا سانحہ مری میں پیش آیا، جہاں ایک ٹیچر کو شادی سے انکار کرنے پر قتل اور جلا دیا گیا۔ ملزم پہلے سے ہی شادی شدہ تھا۔ اس واردات میں پانچ افراد ملوث ہیں، ابھی سب گرفتار نہیں ہوئے، اب یہ تیسرا سانحہ لاہور میں پیش آ گیا اور خود ماں نے بیٹی کے ساتھ یہ ظلم کیا، اس کی مامتا کو بھی رحم نہیں آیا۔غیرت کے نام پر قتل کی وارداتیں ہمارے معاشرے میں روایت کے طور پر چلی آ رہی ہیں ،جبکہ اِس سلسلے میں کئی ملزم عدالتوں سے بری بھی ہو چکے ہوئے ہیں۔ اِس حوالے میں نئے قانون کی ضرورت ہے اور ماہرین آئین و قانون کے مطابق یہ منتخب اراکین کا فرض ہے کہ وہ قانون سازی کریں کہ ایسے سانحات کی روک تھام ہو سکے، لیکن ابھی تک کسی اسمبلی میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی، حالانکہ اِس کی اشد ضرورت ہے۔ اب پے در پے واقعات نے اِس ضرورت کو مزید اُجاگر کر دیا ہے، اِس لئے قانون ساز منتخب حضرات کا فرض ہے کہ وہ جلد از جلد قانون سازی کر لیں۔یہ مسئلہ قانون بنانے ہی سے حل نہیں ہو گا ۔اِس کے لئے ذہنی اور فکری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ فریضہ منتخب نمائندوں اور علمائے کرام کا ہے کہ وہ عوامی سطح پر ایسے اعمال کی نفی کریں اور لوگوں کو سمجھائیں۔

مزید :

اداریہ -