تعلیمی بجٹ2016-17 اُمیدیں اور چیلنجز

تعلیمی بجٹ2016-17 اُمیدیں اور چیلنجز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

زلیخا اویس
پاکستان میں تعلیم کا جو حشر ہو رہا ہے وہ ایک ایسی گھناونی سازش ہے کہ جس کی مثال شاید انگریز دور کے متحدہ ہندوستان مین بھی نہ ملتی ہو۔ جس قوم کے راہبر حضور نبی کریم ؐ نے اپنے لیے سب سے زیادہ خوبصورت لفظ معلم انسانیت پسند فرمایا ہو اور آج مملکت خداد اد پاکستان میں تعلیم کو جس طرح امتیازی گروہوں میں تقسیم کردیا گیا ہے یہ آئین پاکستان کے بنیادی حقوق کے آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے۔
نت نئی قومی تعلیمی پالیسیاں، بین الاقوامی پروگرامز برائے تعلیم، ایجوکیشن کانفرنسز اور مذاکرے اس شعبہ کے لئے کبھی آب حیات نہ بن سکے۔ ملک میں 25 ملین یعنی اڑھائی کروڑ بچے سکول ہی نہیں جا پاتے اور جو جاتے ہیں ان میں سے تقریباً نصف پرائمری کے بعد ہی تعلیم کو خدا حافظ کہہ دیتے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے ہاں شرح خواندگی کے اعداد و شمار کبھی تسلی بخش قرار نہیں پائے۔ حال ہی میں جاری ہونے والے اقتصادی سروے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 58 فیصد آبادی خواندہ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بچوں کو سکول میں داخل کروانے کی شرح 60 فیصد جبکہ بلوچستان میں یہ شرح صرف 39 فیصد ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں پانچویں جماعت کے تقریباً آدھے بچے دوسری جماعت میں پڑھائی جانے والی اردو تک نہیں پڑھ سکتے۔
قابل غور امر یہ ہے کہ سرکاری رپورٹ کے مطابق ہمارے شعبہ تعلیم کا یہ عالم ہے جبکہ غیر سرکاری تنظیموں کے اعدادوشمار تو کہیں نیچے ہیں اور یہاں ہر اس شخص کو خواندہ تسلیم کیا جاتا ہے جو کسی بھی زبان کا ایک اخبار پڑھ لے یا سادہ زبان میں خط لکھ سکے۔ پوری دنیا میں خواندگی کی شرح اگر دیکھی جائے تو یورپی ممالک سب سے آگے ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں ہمارے پڑوسی بھارت میں خواندگی کی شرح 74 جبکہ چین کی شرح خواندگی 93 فیصد ہے جو پاکستان سے ایک سال بعد آزاد ہوا۔
بہرحال ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تنقید پر بالآخر پاکستانی حکمرانوں کو بھی تعلیم کی اہمیت کا کچھ ادراک ہوا ہے جس کی بناء پر حکومت نے حالیہ بجٹ میں تعلیم کے لئے مختص رقم میں واضح اضافہ کیا ہے۔حکومت کو تعلیمی شعبے میں بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ حالیہ تعلیمی بجٹ کو مطلوبہ مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
آئیے اب تعلیمی بجٹ کی تفصیلات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی حکومت نے تعلیم کے فروغ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔اورتعلیم کے شعبہ کیلئے ترقیاتی بجٹ کی مد میں مجموعی طورپر 24ارب 78 کروڑ 12لاکھ روپے مختص کر دیئے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزارت کیڈ کے ماتحت تعلیم کے شعبہ میں 50 نئے منصوبے شروع کئے جائیں گے جبکہ 96 جاری منصوبوں کے لئے رقم مختص کی گئی ہے۔
لورالائی میں یونیورسٹی کے قیام کے لئے 35 کروڑ ، تربت میں یونیورسٹی کے قیام کے لئے 50 کروڑ، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور کے ناروال میں سب کیمپس کے قیام کے لئے 40کروڑ ، ملتان میں خواتین یونیورسٹی کے قیام کے لئے 41کروڑ 46 لاکھ ،سوات میں یونیورسٹی کے قیام کے لئے 20کروڑ ، فل برائیٹ سکالرشپ سپورٹ پروگرام کے لئے 50کروڑ روپے، انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں ایما یس لرننگ، پی ایچ ڈی پروگرام کے لئے سہولیات کی ترقی کے لئے 79 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پانچ ہزار سکالرز کے انڈیجنس پی ایچ فیلوشپ 90کروڑ، این ڈبلیوایف پی یونیورسٹی برائے انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے جلوزئی کیمپس کے لئے 45کروڑ،غیر ملکی سکالرشپ کے لئے 78 کروڑ، گلگت یونیورسٹی اور اس کے کیمپس کو بہتر بنانے کے لئے 45 کروڑ روپے ،زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں زرعی انجینئرنگ اور خواتین کے ترقیاتی پروگراموں کو بہتر بنانے کے لئے 20کروڑ روپے ،انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور کو بہتر بنانے کے لئے 40کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں۔ ایچ ایس سی کے نئے منصوبوں میں آزاد کشمیر خواتین یونیورستی باغ کے قیام کے لئے 6کروڑ 50لاکھ مختص کئے گئے ہیں۔
وزارت کیڈ کے ماتحت تعلیم کے شعبہ کے لئے 6جاری اور 6نئے منصوبوں کے لئے ایک ارب 9کروڑ 38لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ تعلیم کے نئے منصوبوں میں اسلام آباد ماڈل سکول برائے طالبات کھنہ ڈاک، اسلام آباد ماڈل سکول برائے طلباء سنگیال کی تعمیر اور وزیراعظم تعلیمی اصلاحات پروگرام کے منصوبے شامل ہیں جبکہ جاری منصوبوں میں فیڈرل گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس ایف الیون ون کے لئے 50 کروڑ، اسلام آباد ماڈل سکول برائے طالبات پی اے ایف کمپلیکس ای نائن کے قیام کے لئے 39 کروڑ روپے اور اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء جی ٹین فورکی اپ گریڈیشن کیلئے 38کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔
ہائیرایجوکیشن کمیشن کیلئے 21.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں نیشنل یونیورسٹی آف پبلک پالیسی لاہور کے لئے 1کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، تعلیمی اصلاحات کے لئے 60 کروڑ روپے اسلام آباد میں نجی شرکات کے ساتھ ووکیشنل سکولز کے لئے 5کروڑ روپے ایچ ای سی کے تحت رحیم یارخان میں یونیورسٹی کیمپس کے لئے 8کروڑ 43لاکھ نوابشاہ میں نرسنگ کالج کے لئے 12کروڑ روپے ،جعفرآباد میں کامسیٹ انسٹی ٹیوٹ کے لئے ایک کروڑ روپے فاٹا یونیورسٹی کے لئے 25 کروڑ روپے، بے نظیر یونیورسٹی ، قائد آباد قائم کرنے کے لئے 20کروڑ، لورالائی کے علاوہ سبی اور تربت میں بھی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی سوات یونیورسٹی کے لئے 20کروڑ روپے رکھے گئے ہیں 5ہزار پی ایچ ڈی فیلوشپ کے لئے 90کروڑ روپے مختص ہیں بیرون ملک سکالرشپ دینے کے لئے 4کروڑ 90لاکھ روپے، پاک یو ایس جوائنٹ پروگرام کے لئے 50لاکھ روپے رکھے گئے ہیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی بہتری کے لئے 23کروڑ روپے، باغ آزاد کشمیر میں ویمن یونیورسٹی قائم کی جائے گی جس کے لئے مالی وسائل مختص کئے گئے ہیں اسی طرح حیدرآباد میں بھی وفاقی یونیورستی قائم کی جائے گی، پشین و خضدار میں خواتین جامعہ کے کیمپس بنانے کے لئے بھی بیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر صوبوں کی تعلیم کا بجٹ بھی شامل کیا جائے تو پاکستان میں تعلیم کا بجٹ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2.4 فیصد کے لگ بھگ ہی رہتا ہے جو کہ ایشیائی ممالک کی نسبت بھی بہت کم ہے۔ افغانستان جی ڈی پی کا 6فیصد تعلیم کے لئے جبکہ ملائیشیا 8 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔
وفاقی اور صوبائی سطح پر تعلیمی بجٹ میں اضافہ خوش آئند ہے لیکن صرف پیسے سے کوئی بھی شعبہ یا ملک ترقی نہیں کر سکتا، اس مقصد کیلئے جذبہ، خلوص اور درست سمت میں سفر ضروری ہے۔
سابقہ بجٹ میں بھی تعلیمی اداروں کی تعمیر اور طلبہ کو وظائف دینے کے لئے اربوں روپے رکھے گئے اور ان کے گْن گائے جاتے رہے لیکن زبان، نصاب تعلیم، طلبہ کی رہنمائی اور پرائمری ایجوکیشن کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ بہت سے ممالک میں تعلیم اپنی زبان میں ہے۔ سب سے بڑی مثال جاپان کی ہے جس نے ہیروشیما اور ناگاساکی کے سانحہ کے بعد امریکہ کا ہر مطالبہ تسلیم کیا لیکن جب بات زبان کی آئی تو انہوں نے امریکہ کے سارے مطالبات ایک طرف اور تعلیم اپنی زبان میں جاری رکھنے کا اپنا مطالبہ دوسری طرف رکھ دیا۔ آج جاپان کی شرح خواندگی، اقتصادی و معاشی ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے۔ قابل افسوس امر تو یہ ہے کہ ابھی تک ہم زبان پر بھی متفق نہیں ہو سکے۔
دوسرا اہم مسئلہ یکساں نصاب تعلیم ہے، ہمارے ملک میں 20 سے زائد مختلف نصاب پڑھائے جا رہے ہیں۔ پبلک سیکٹر، مدرسہ ایجوکیشن اور پرائیویٹ سکولوں کا اپنا اپنا نصاب ہے بلکہ پرائیویٹ اداروں میں تو مزید نصابوں کا ایک جال ہے۔ ایک سکول میں آکسفورڈ ہے تو دوسرے میں امریکن نصاب۔ اگرچہ ہر تعلیمی پالیسی میں یکساں نصاب کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا تاہم عملی طور پر ابھی تک اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ بچوں کی تعلیمی رہنمائی سے متعلق تاحال کوئی مستند ادارہ معرض وجود میں نہیں آسکا جو ہمارے نظام تعلیم کی بہت بڑی خامی ہے۔ پرائمری تعلیم اور اساتذہ کی تربیت اس شعبہ کی بنیاد ہے جس کی مضبوطی کے بغیر یہ عمارت کبھی کھڑی ہی نہیں ہو پائے گی۔ وزیراعلیٰ اور گورنرہاؤسز کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنے کے وعدے اور دعوے تو پورے نہ کئے جا سکے تاہم خدارا!نظام تعلیم کی بہتری کے لئے نمائش سے ہی بچا جائے۔
ایسا نہیں کہ پاکستان میں تعلیمی شعبوں میں کام نہیں ہورہا یا انھیں مناسب فنڈ دستیاب نہیں ہیں بلکہ ہر سال تعلیم کے لیے خاطر خواہ رقم مختص کی جاتی ہے ،تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی فنڈنگ کی جاتی ہے جس میں اندرون اور بیرون ہر قسم کی فنڈنگ شامل ہے۔بلاشبہ یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ ملک کے بعض حصوں میں تعلیم کی راہ میں رکاوٹیں اور مشکلات حائل ہیں مگر پھر بھی تعلیم کی شاہراہ پر پیش قدمی کا عمل جاری و ساری ہے ،جب سب کچھ ہو رہا ہے تو کیا وجہ ہے ہمارا تعلیمی گراف بلند نہیں ہو رہا ؟
کیا ہمارے پڑھانے والے اعلیٰ تعلیمی معیار نہیں رکھتے یا وہ وقت کی ضروریات سے آگاہ نہیں ہیں ؟آج رٹا سسٹم کا دور نہیں رہا سب جانتے ہیں ریسرچ کا دور ہے ایسے اساتذہ اور سرگرمیوں کی ضرورت ہے جو بچوں میں فہم و فکر کو اجاگر کر سکیں ،مگر اگر سکول کی دس سالہ تعلیم میں طلبا میں تنقید و تحقیق کے لیے شوق یا مہارت پیدا نہ ہوئی ہوتو ایسا ہونا بہت مشکل ہے ،یہی وجہ ہے موجودہ تعلیم حقیقی زندگی میں نفع بخش ثابت نہیں ہو پا رہی۔آج اگر ہم اس سروے کو قابل اعتنا نہ بھی جانیں تب بھی ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم ان خطوط پر اپنے تعلیمی اداروں کو استوار کریں جو ہماری معاشی اور معاشرتی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوں۔کیونکہ اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ آج تک جن جن ممالک نے بھی ترقی کی ہے اس کی بنیاد تعلیم ہی تھی اس کے لیے ہمیں محکمہ تعلیم اور تعلیمی ماہرین سے جواب طلب کرنا ہوگا کہ وہ کن ترجیحات کے تحت تعلیمی شجر کی آبیاری کر رہے ہیں
بحر حال نئی جامعات کا قیام، معیاری تعلیم کا فروغ اور نصاب میں بہتری موجودہ سال کے تعلیمی بجٹ کی نمایاں خصوصیات بیان کی گئی ہیں جبکہ تعلیم کے شعبہ کی بہتری اور شرح خواندگی میں اضافہ کیلئے خصوصی اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں۔ لہٰذا یہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ تعلیمی شعبوں میں بہتری آئے گی ۔
***

مزید :

ایڈیشن 2 -