سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی اور ناقص سہولیات کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب

سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی اور ناقص سہولیات کیخلاف درخواست کے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نامہ نگارخصوصی)ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کوادویات کی عدم فراہمی اور ناقص طبی سہولیات کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی ۔درخواست گزار مقامی شہری لیاقت علی چوہان نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب،نادرار اور ضرورت مند مریضوں کو مفت ادویات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ اپنی کمیشن کے چکر میں نجی ہسپتالوں اور تشخیصی مراکز کی ملی بھگت کے ساتھ مریضوں کو باہر سے مہنگے داموں ٹیسٹ اور ادویات خریدنے پر مجبور کرتے ہیں اور انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں عملے کے خلاف شکایات کا کوئی فورم ہی موجود نہیں۔حکومت پنجاب اورنج ٹرین اور میٹرو جیسے منصوبوں کی تکمیل کے لئے صحت کے شعبے کو فراموش کر چکی ہے لہذا عدالت میٹرو بس،اورنج ٹرین اور صحت کے شعبے کو فراہم کئے جانے والے بجٹ کی تفصیلات طلب کرئے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت محکمہ صحت کے افسران کو ہسپتالوں میں چھاپوں کا پابند بنائے،عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ہسپتالوں میں ون ونڈو آپریشن کا نظام متعارف کرانے کے علاوہ مریضوں کو مفت ادویات اور صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کا بھی پابند بنانے کے احکامات صادر کئے جائیں۔جس پر عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کہ سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی۔

مزید :

صفحہ آخر -