روزہ ایک دن!کیا نماز کا وقت بھی ایک ہو سکے گا؟

روزہ ایک دن!کیا نماز کا وقت بھی ایک ہو سکے گا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

1473 ہجری کا رمضان المبارک اس لحاظ سے انفرادیت کا حامل ہے جہاں نیکیوں کا موسم بہار بن کر آیا ہے وہیں قوم کو پورے ملک میں ایک دن روزے کی خوشی بھی ملی ہے امید ہو چلی ہے اس سال عید بھی ایک ہو گی ایک دن روزہ ایک دن عید پاکستانی قوم کی دیرینہ خواہش تھی جو 2016ء میں اللہ نے پوری کر دی اس کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف جو گزشتہ تین سال سے پوری قوم کو نماز روزے عید کے لئے اکٹھا کرنے کے لئے سرگرم تھے بالاخر وہ قوم کی دعاؤں سے کامیاب ٹھہرے ہیں اس میں یقیناً کے پی کے کی حکومت کا تعاون بھی شامل رہا ہے کہ ہر سال ایک دن پہلے چاند دیکھنے والوں نے اس سال وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی درخواست قبول کرتے ہوئے اس سال سعودی عرب کے ساتھ روزہ نہیں رکھا اور نہ ایک دن پہلے چاند دیکھنے کے لئے اجلاس بلایا اس کے لئے پوری قوم کی طرف سے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو بالعموم اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور ان کی ٹیم کو بالخصوص مبارک باد پیش کرتا ہوں اس مبارک موقع پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف پورے پاکستان کی مساجد میں جمعتہ المبارک کا وقت ایک کرنے اور نمازوں کے اوقات ایک کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں اس کے لئے انہوں نے علماء کرام سے تفصیلی ملاقاتیں بھی کی ہیں قانون کا سہارا بھی لیا ہے اور تجربے کے طور پر نماز جمعتہ المبارک اور نماز ظہر کا وقت ایک کر کے اسلام آباد کے بعض علاقوں میں آغاز بھی کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں جزوی کامیابی ملی ہے مکمل نہیں دیگر شہروں میں کوشش جاری ہے مگر حوصلہ افزا نتائج نہیں آ رہے اس کی کیا وجوہات ہیں رکاوٹیں کیا ہیں؟ کن بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہاں مصلحت کی ضرورت ہے کہاں سختی کی ضرورت ہے۔ مساجد کی تقسیم، علماء کی تقسیم علماء کرام کے عقائد مساجد کی مسلکی بنیادوں پر تقسیم بہت مضبوط انداز میں موجود ہے اس کو کسی صورت سختی سے ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ کرنا چاہئے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف کا علماء کرام، مشائخ کرام کو اعتماد میں لینا احسن اقدام ہے آغاز بہت اچھا ہے پھر مثبت نتائج کیوں نہیں آ رہے۔کئی برس بعد قوم کو ایک ساتھ روزہ رکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے اس لئے میں مایوس نہیں ہوں مگر یہ بھی عرض کروں گا یہ کام ایک آدمی کا بھی نہیں ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی ذمہ داری نہیں ہے چاروں صوبوں کی ذمہ داری ہے تمام مسالک کی ذمہ داری ہے۔ تمام علماء کرام کی ذمہ داری ہے تمام دانشور حضرات اور کالم نویس حضرات کی ذمہ داری ہے میں تو کہوں گا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جہاں جو کردار ادا کر سکتا ہے اسے کرنا چاہئے رکاوٹیں کیا کیا ہیں کیسے دور ہو سکتی ہیں ہمارے کئی دوست اینکرز نے مذہبی سکالروں اور علماء کرام کو ٹی وی ٹاک شو میں ایک ساتھ بٹھا کر جب متحد کیوں نہیں ہونے کا سوال کیا تو تمام علماء اکرام نے باہمی اختلافات کو معمولی قرار دیا اور اس معمولی اختلاف کو دور کرنے کا طریقہ نہیں بتایا۔


اختلاف ختم نہیں ہوسکتا یہ بھی نہیں کہا، بطور مسلمان تمام مسالک میں نماز جمعہ اور نمازوں کی تعداد ایک ہے فرق صرف نمازوں کے اوقات کا ہے اور مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اوقات کار میں اتفاق ممکن ہے البتہ علماء کرام کے درمیان سب سے اتفاق ضروری ہے مسلکی اختلاف اپنی جگہ مگر مساجد کے باہر یا مساجد کے اندر جو موٹے حروف میں لکھا ہوا ہے جہاں صرف مخصوص فرقے کا امام ہو سکتا ہے مخصوص فرقے کے لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں فرقوں کا نام میں نہیں لکھوں گا تاکہ کسی کی دل آزادی نہ ہو البتہ مسلکی بنیادوں پر ہم تقسیم ہیں اس سے اختلاف بھی ممکن نہیں ٹی وی ٹاک شو میں ایک عالم دین فرقہ واریت کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہمارے فرقوں میں ایسا اختلاف نہیں جس کی وجہ سے ہم متحد نہ ہو سکیں۔ مسلکوں کو ایک میز پر لانے کے لئے ایثار کا مظاہرہ کرنا پڑے گا قربانی دینا پڑے گی۔


اگر تمام فرقے یا مسلک ابتدائی طور پر اپنی مساجد سے مخصوص مسلکی نعروں اور رجسٹریشن مع نام مٹا دیں تو آغاز اچھا ہو جائے گا دوسرا اس بات پر متفق ہو جائیں۔ نماز اپنے اپنے مسلک کے عقائد کے مطابق پڑھیں گے وقت ایک ہو گا اگر دل سے تسلیم کر لیں تو آسانی سے ہو جائے گا۔ اس میں میڈیا کا کردار اہم ہے۔ وہ منفی کی بجائے مثبت انداز میں تمام معاملات کو لے اور آگے بڑھائے مسلکی بنیاد پر ہم رجسٹرڈ ہیں اگر کہہ لیا جائے کہ ہم فرقہ کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہیں تو درست ہو گا اگلے مرحلے میں 5بڑے مسلکی بنیادوں یعنی فرقہ کی بنیاد پر رجسٹریشن کے وفاقی ادارے موجود ہیں جو مسلکی بنیادوں لاہور بورڈ، سرگودھا بورڈ، راولپنڈی بورڈ کی طرح مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو اسناد جاری کرتے ہیں۔


تیسری تجویز یہ ہے کہ ایسا وفاقی ادارہ بنایا جائے جس پرسب کا اتفاق ہو۔ اس طرح مسلکی یا فرقہ کی بنیاد پر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ مسلکی آبیاری کا یہ سلسلہ بند ہو گا تو پھر انشاء اللہ، ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ ورنہ جمعتہ المبارک اور دیگر نمازوں کے اوقات کار ایک ہونا ناممکن ہے۔


رمضان المبارک کے بابرکت لمحات میں پوری قوم میری طرح دُعاگو ہے اللہ ہمارے وطن عزیز کو فرقہ واریت کی لعنت سے ہمیشہ کے لئے پاک کر دے اور علماء کرام دانشور حضرات صحافی حضرات جو کردار ادا کرسکتے ہیں وہ ضرور کریں کئی برس بعد جس طرح ایک دن روزہ رکھنے پر اتفاق ہوا ہے اسی طرح عید بھی ایک دن کرنے پر اتفاق ہو جائے گا اور انشاء اللہ قوم وہ دن بھی ضرور دیکھے گی جب پاکستان میں نمازوں کے اوقات بھی ایک ہوں گے اور جمعتہ المبارک کی نماز بھی ایک ہوگی وفاقی حکومت کو ایسی کوشش جاری رکھنا چاہیں اور رمضان کے لمحاتِ قبولیت میں قوم کو دُعا کرنا چاہیے۔

مزید :

کالم -