پیپلز پارٹی کی تنظیم نو ، پہلے مرحلے میں ذیلی تنظیموں کو مکمل کرنے کا فیصلہ

پیپلز پارٹی کی تنظیم نو ، پہلے مرحلے میں ذیلی تنظیموں کو مکمل کرنے کا فیصلہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر ملک بھر کی تنظیموں کو معطل کر کے نئے سرے پارٹی کو مضبوط اور متحرک کرنے کے لئے نئی تنظیم سازی کے سلسلہ میں پہلے مرحلے میں پیپلزپارٹی کی ذیلی تنظیموں کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےْ ۔ سندھ کی ایک اہم شخصیت مشاورت کی بجائے تنظیم پر گرفت مضبوط رکھنے کے لئے اپنے اعتماد کے لوگوں کی نامزدگی کرنا چاہتی ہے جس کے باعث سندھ میں تنظیم نو کا سلسلہ التوا کا شکار ہوسکتا ہے۔پیپلزپارٹی کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ کی کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے سندھ میں تنظیم سازی کے سلسلہ میں حیدرآباد ڈویژن کے اضلاع سے شروع کئے گئے ورکرز مشاورتی اجلاسوں سے پیدا ہونے والی صورتحال اور مختلف گروپوں میں اختلافات میں شدت کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت نے تنظیم سازی کے پہلے مرحلے میں پیپلزپارٹی کی ذیلی تنظیموں پیپلز یوتھ،پی ایس ایف،خواتین ونگ، اقلیتی ونگ کے علاوہ لیبر اور ہاری ونگ،کلچر ونگ اور پیپلز ڈاکٹر فورم کی تنظیم سازی کو مکمل کرنے کے لئے مختلف سطح پر مشاورتی عمل کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے تنظیموں کو مضبوط اور کارکنوں کو متحرک اور سرگرم کرنے کے لئے واضح گائیڈلائن دی ہے جس میں انہوں نے نوجوانوں خواتین اور اقلیت کی ہر سطح پر شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔اس سلسلہ میں معلوم ہوا ہے کہ شہید بینظیر بھٹو کی پالیسی کو اپناتے ہوئے ذیلی تنظیموں میں نوجوان سرگرم خواتین کو نائب صدر، انفارمیشن سوشل سیکرٹری اور سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر کے عہدوں پر نامزد کرنے کے علاوہ پیپلزیوتھ اور پی ایس ایف کے سابق عہدیداروں کو پیپلزپارٹی کے اہم عہدوں پر نامزد کرنے کی حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس سلسلہ میں پارٹی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلز یوتھ سندھ کے سابق صدر سنیٹر عاجز مختار دہامرہ،پی ایس ایف کے مرکزی صدر میر سہراب خان مری، سلمان دستی،ڈویژنل صدور پیپلز یوتھ احسان ابڑو،اقبال ساند، ٹھارو خان پنہور،قاضی ندیم سمیع کو پیپلزپارٹی کی صوبائی اور ڈویژن سطح پر اہم عہدوں پر نامزدگی کا فیصلہ کیا گیا ۔ پیپلزپارٹی اور ذیلی تنظیموں کی تنظیم سازی کے سلسلہ میں اب تک ہونے والی تمام سطح کی مشاورت اور ملنے والی تجویزوں اور سندھ بھر کے سابق صوبائی ڈویژن اور ضلع سطح کے عہدیداروں اور کارکنوں کی حمایت کے مطابق پیپلزپارٹی کی ذیلی تنظیم پیپلز یوتھ سندھ کی صدارت کے لئے مضبوط امیدوار پیپلز یوتھ کے سابق صوبائی سیکٹری اطلاعات پیپلزپارٹی بلاول ہاؤس میڈیا سیل کے سابق انچارج اور بلاول بھٹو میڈیا ٹیم کے اہم رکن فدا حسین ڈھکن ہیں ۔ان کے علاوہ پی ایس ایف کے سابق مرکزی صدر میر سہراب مری اور سابق صدر سندھ سلمان دستی بھی پیپلز یوتھ سندھ کی صدارت کے امیدوار ہیں جبکہ صوبائی سیکٹری جنرل کے لئے لاڑکانہ ڈویژن کے صدر شفقت میرانی،سابق صوبائی عہدیدار اور حیدرآباد کے صدر سید اکرم شاہ اور پی ایس ایف میرپور خاص ڈویژن کے صدر اور شہید جگ دیش کمبار کے فرزند شوشیل جگ دیش کمار امیدوار ہیں جبکہ بلاول بھٹو کی ہدایت اور گائیڈ لائن کے کے مطابق نئی تنظیم سازی میں خواتین اور اقلیت کو ترجیح دینے کی روشنی میں پیپلز یوتھ کے صوبائی سطح کے مختلف عہدوں کے لئے جو نام سامنے آئے ہیں ان میں روما مشتاق مٹو جو منارٹی ونگ کراچی ڈویژن کے صدر مشتاق مٹو کی بیٹی جو اقلیتی برادری کو پیپلزپارٹی میں سرگرم رکھنے اورپیپلزپارٹی کی تنظیمی پروگرام کو آرگنائزر کرنے اور سوشل میڈیا میں انتہائی سرگرم اس کے علاوہ پارٹی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا میں اہم اور متحرک سندھو ملک اور کرن آفتاب خان کے نام نمایاں ہیں۔پی ایس ایف کے صوبائی صدارت کے لئے جاوید نایاب لغاری،فقیر ذاکر ہسبانی،میررزاق بروہی اور سوشیل جگ دیش ملانی کے نام قیادت کی منظوری کے لئے سامنے آئے ہیں۔خواتین ونگ سندھ کی صدارت کے لئے رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ،وزیراعلی سندھ کی مشیر حنا دستگیر، سابق رکن صوبائی اسمبلی شمیم آرا پنہور،کلثوم چانڈیو،کراچی ڈویژن کی صدر اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کے نام سامنے آئے ہیں جبکہ خواتین ونگ سندھ کی صدارت کے لئے اہم خواتین رہنماؤں سابق وفاقی وزیر اور صوبائی صدر خواتین ونگ شگفتہ جمانی اور ڈیپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا، صوبائی مشیر نادیہ گبول کو پارٹی کی اہم شخصیات کی جانب سے تو حمایت حاصل ہے پر سندھ بھر کی عہدیدار اور کارکن خواتین کی اکثریت کی سخت محالفت کا سامنا ہے ان عہدیداروں اور کارکن خواتین کا الزام ہے کہ ان خواتین رہنماؤں نے اہم عہدوں پر ہوتے ہوئے بھی سینئر کارکنوں کو نظرانداز کیا اور پارٹی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد حاصل کئیجبکہ ایک اور اہم خواتین رہنما اور صوبائی مشیر شرمیلہ فاروقی بھی امیدوار ہیں پر آج کل وہ چند اہم معاملات کی وجہ سے ملک سے باہر موجود قیادت کی حمایت اور قربت کو بیٹھی ہیں جس کے باعث کسی اہم پارٹی عہدے پر آنا ممکن دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ایک اور مضبوط امیدوار شازیہ مری ہیں جن کی اسلام آباد میں اہم مصروفیات کے باعث سندھ میں میں ان کی اسلام آباد کی مصروفیات کے باعث تنظیمی ذمہ داری دینا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔سندھ خواتین ونگ کی صدارت کے لئے سسی پلیجو کا نام بھی مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آیاہے لیکن ان کو سنیٹر بننے کے علاوہ ان کے والد غلام قادر پلیجو کو ٹھٹہ ضلع کونسل کی چئرمین شپ دیئے جانے کے باعث تیسری اہم ذمہ داری نہیں دی جا رہی۔بلاول بھٹو زرداری اور سینئر رہنما شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کی حکمت عملی اور پالیسی کے تحت تنظیم نو کارکنوں اور سابق عہدیداروں کی مشاورت اور ملنے والی تجاویزکی روشنی میں تنظیم سازی کو حتمی شکل دینا چاہ رہے ہیں جبکہ سندھ کی ایک اہم شخصیت مشاورت کی بجائے تنظیم پر گرفت مضبوط رکھنے کے لئے اپنے اعتماد کے لوگوں کی نامزدگی کرنا چاہتی ہے جس کے باعث سندھ میں تنظیم نو کا سلسلہ التوا کا شکار ہوسکتا ہے۔