رمضان المبارک میں عوام ریلیف سے محروم ‘ گرانفروش لوٹ مار میں مصروف

رمضان المبارک میں عوام ریلیف سے محروم ‘ گرانفروش لوٹ مار میں مصروف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


رحیم یار خان، لڈن، گڑھا موڑ، جتوئی ، چوٹی زیریں (نمائندگان) حکومت پنجاب کے تمام تر دعوؤں کے باوجود جنوبی پنجاب میں رمضان بازاروں سے عوام کو ریلیف حاصل نہیں ہو رہا اور(بقیہ نمبر37صفحہ7پر )
گرانفروش دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار میں مصروف ہیں ‘مصنوعی گرافی کی کی وجہ سے لوگ مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں رحیم یار خان سے بیورونیو ز کے مطابق رحیم یارخان(بیورو نیو) انتظامی افسران کی کوششوں کے بعد بھی رحیم یارخان کی اوپن مارکیٹوں میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکی جس کے باعث گراں فروشی کا رحجان جاری ہے۔گزشتہ روز رحیم یارخان فروٹ مارکیٹ میں پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں ۔سیب 200سے 300روپے فی کلو،آلو بخارا 200سے 250روپے فی کلو ،خوبانی 200سے 250روپے فی کلو،کیلا انڈین 200روپے فی درجن اور عام کیلا 120سے 150روپے فی درجن ،آم چونسہ 100سے 120،اور دیگر نسل کے آم 60سے 100روپے کے درمیان فی کلو گرام فروخت ہوئے جبکہ کھجور کی قیمت 100سے 500روپے کے درمیان رہی ۔ ادھر سبزیوں اور لیموں کی قیمتیں بھی زائد ہی رہیں ،لیموں 240روپے فی کلو ،بھنڈی 35سے 40روپے ،کھیرا 20سے 30روپے فی کلو ،ٹماٹر 50سے 60روپے ،پیاز 50 روپے فی کلو ،آلو 20روپے فی کلو ،کریلا 20روپے فی کلو،پالک 20روپے فی گڈی ،پودینہ اور دھنیہ 20روپے فی گڈی ، اور گھیا توری و کدو 20سے 30روپے فی کلو گرام ٖفروخت ہوئے ۔سبزی و فروٹ فروشوں کا کہنا ہے کہ گذز ٹرانسپوٹیشن پر نئے ٹیکس کے اجراء کے بعد چونکہ کھیت تا مارکیٹ کرائے بڑھ گئے ہیں اس لئے تھوک مارکیٹ میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے اور عام مارکیٹ میں بھی قیمتیں زائد ہوئی ہیں ۔ شہریوں نے اعلی حکام سے نوٹس لے کراصلاح واحوال کامطالبہ کیاہے۔ لڈن سے نامہ نگار کیمطابق حکومتی نمائندوں کی طرف سے دعوے کئے جارہے تھے کہ رمضان المبارک میں غریب عوام کو ریلیف دینے کیلئے اشیاء خوردونوش کے ریٹس میں کمی کی جائے گی لیکن لڈن میں ایساکچھ بھی نہیں ہو سکا ہے بلکہ ان دنوں مہنگائی کا جن آپے سے باہر آچکا ہے اور سبزیوں ،پھلوں سمیت اشیاء خوردونوش کے ریٹس آسمان کو چھوہنے لگے ہیں اسکے علاوہ آٹا ،چینی ،گھی اور چاول بھی مہنگے داموں فروخت ہو نے لگے ہیں جبکہ حد تو یہ ہے کہ کسی بھی سبزی ،فروٹ فروش یا دوسرے دکاندار نے ریٹ لسٹ تک آویزاں نہیں کررکھی ہے ۔گڑھا موڑ سے سپیشل رپورٹر کیمطابق گڑھا موڑ میں مصنوعی مہنگائی کا طوفان زورپکڑ گیا ،فروٹ اور سبزی ڈبل ریٹ پر فروخت ہونے لگے،ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کی جگہ پر سبزی اور فروٹ کی دکانیں بنا کر لوٹ مار کرنے والے دکانداروں نے تمام اشیاء کے ریٹ ڈبل وصول کرنا شروع کر رکھے ہیں آم ایک سو بیس روپے فی کلو،خوبانی 320 روپے کلو،آلو بخارہ320 روپے فی کلو اور کیلا ایک سو بیس روپے فی درجن دھڑلے سے فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ آلو پیاض ،لہسن ادرک،ٹماٹر اور دھنیا کے ریٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر دیا گیا ہے اشیاء کے ریٹ ڈبل ہو جانے سے صارفین کے لئے سبزی فروٹ خرید کرنا ان کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے. جتوئی میں انتظامیہ کی نااہلی کی انتہا سستا رمضان بازار صرف خانہ پُری کی گئی عوام گراں فروشوں کے ہاتھوں لٹنے پرمجبور ۔ سستا رمضان بازار میں کولڈ ڈرنک آم اور سویوں کے سوا کوئی بھی روزمرہ کی اشیا ء نہیں ہے کوئی بھی مانیٹرنگ افسر یا انتظامیہ کا عملہ موجو د نہیں جو اشیاء خوردنوش کی فراہمی کو ممکن بنائے یا ریٹ کا تعین کرے ۔ چوٹی زیریں سے نامہ نگار کیمطابق ماہ رمضان کی آمد چوٹی زیریں میں ریٹ لسٹ نہ ہونے سے دکانداروں نے من مانے ریٹ مقرر کررکھے ہیں پھل آم 120سے 200۔کیلے 80روپے درجن سے 120روپے ۔لیمن 150روپے سے 250روپے کلو ،سبزیاں توری 20روپے سے 50روپے کلو ۔ٹماٹر 20روپے کلو سے 60،کریلہ 20روپے سے 40کلو۔کھجور160روپے سے 300روپے کلو،گوشت فارمی 200روپے سے 240روپے کلو ،گوشت بڑا250 سے 300روپے کلو کولڈڈرنک60روپے سے 80میں فروخت ہونے لگی اہلیان علاقہ محمد عاصم چنگوانی ۔کونسلرمحمد فہیم چنگوانی ،جام عصمت اللہ کچھیلا۔حبیب الرحمن ۔محمد تو قیر ۔زوہیب مغل۔عبدالستار چنگوانی۔محمدکلیم کلیری کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے بڑے شہروں کے لیے تو سستے رمضان بازارکا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ دیہی علاقوں کی عوام ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔عبدالحکیم سے نمائندہ پاکستان کیمطابق عبدالحکیم کے رمضان بازار میں کچھ اشیاء بازار سے بھی مہنگی کچھ میں معمولی فرق ، رمضان بازار میں سٹال لگانے والوں نے بتایاہے کہ ہمیں جبری طور مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم سبزی منڈی سے کم قیمت پر چیزیں کی فروخت کریں سبزی منڈی کو کوئی چیک نہیں کرتا جہاں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ، آڑھتی منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں اسکے بعد ہم کرایہ بھر کر جنس کو لیکر آتے ہیں جبکہ آڑھتی آپنا کمیشن بھی لیتے ہیں، اور پھر ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم سستے داموں اشیاء فروخت کریں۔