کراچی کیلئے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے ، حافظ نعیم الرحمن

کراچی کیلئے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے ، حافظ نعیم الرحمن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن کے ساتھ ساتھ کراچی کی عوام کے لیے 500ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے ۔تاکہ حقیقی معنوں میں کراچی کی ضروریات کا احاطہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے اور پچھلے تین سالوں میں سندھ حکومت نے بھی کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگرچہ کراچی میں امن و امان کی حالت کافی حد تک بہتر ہوچکی ہے، لیکن آپریشن کے بعد اور اس کے ساتھ ساتھ جس چیز کی اشد ضرورت تھی اُس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، یعنی کراچی کے انفراسٹرکچر کی بحالی اور یہاں پر پانی و بجلی سے متعلق دیرینہ مسائل کی مستقل بنیادوں پر حل کرنا۔ انہوں نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کے صورتِ حال کی حقیقی تصویر کشی کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ انتخابات اور انتخابی فہرستوں کی جو صورتِ حال بتائی جاتی ہے وہ حقیقت سے بہت دور ہے۔ کراچی کی موجودہ منتخب قیادت جن انتخابی فہرستوں پر الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں بیٹھی ہے وہ انتخابی فہرستیں بھی شدید قسم کی بے ضابطگیوں سے بھری پڑی ہیں۔ بہت سارے گھر ایسے ہیں جن کے نام پر درجنوں ووٹ رجسٹرڈ ہیں لیکن حقیقت میں وہاں پر کسی کی رہائش ہی نہیں ہے اور وہ خالی گھر ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں انتخابات ہوں توجماعتِ اسلامی کراچی کی ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر سامنے آئے۔ حافظ نعیم الرحمن نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کراچی کے مرکزِ اسلامی اور کے الیکٹرک کے حوالے سے کیسوں کی سماعت کے بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اسلامی پر نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کے زمانے سے کام شروع ہوا اور بعد ازاں وہاں پر ایک سال تراویح بھی ہوتی رہی۔ نعمت اللہ خان صاحب کے دور کے بعد اس مرکز کو کلچر سینٹر اور اب سینما گھر میں تبدیل کردیا گیا ہے، جو انتہائی قابل افسوس ہے۔ ہم نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کررکھی ہے اور سپریم کورٹ نے بھی مسجد اور اسلامی مرکز کو سینما گھر میں تبدیل کرنے پراز خود نوٹس لیا ہے اور فریقین کو اس حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران حاضر رہنے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دوسرا کیس کے الیکٹرک کے حوالے سے ہے۔ ویسے تو لوڈ شیڈنگ پورے ملک میں ہے لیکن کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ عرصے سے جاری ہے۔ اور بعض علاقوں میں تو 15، 15 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی پرائیویٹائزیشن کے وقت طے ہوا تھا کہ ملازمین کو نہیں نکالا جائے گااور capacity میں اضافہ کیا جائے گا۔ لیکن اب صورتِ حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ بہت سارے ملازمین کو نکالا گیا ہے اور capacity کی حالت سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک انتظامیہ نے مختلف پارٹیوں کے ملٹری ونگز کے غنڈوں کو ریکوری آفیسرز کے طور پر تعینات کیا ہے جو لوگوں کے ساتھ انتہائی غیر مناسب رویہ رکھتے ہیں جس سے ایک بزرگ شہری دلبرداشتہ ہوکر جان کی بازی ہار بھی چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ کے الیکٹرک کے حوالے سے بد انتظامیوں اور بے قاعدگیوں کی رپورٹنگ روکنے کے لیے میڈیا کے بہت سارے لوگوں کو خریدا گیا ہے، اس لیے میڈیا پر بھی اس قسم کی بدانتظامیوں اور بے قاعدگیوں کی رپورٹنگ نہیں ہونے دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اس ساری صورتِ حال کے پیش نظر ہمیں سپریم کورٹ میں کیس دائر کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ بھی کراچی میں ایک گھمبیر صورت اختیار کرگیا ہے۔حالت یہ ہے کہ کے 3 منصوبہ نعمت اللہ خان صاحب کے دور میں مکمل ہوا، اور کے 4 منصوبے پر فزیبلٹی اور معاہدہ وغیرہ ہوگیا تھا، لیکن بعد ازاں یہ منصوبہ بھی سرخ فیتے کی نظر ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ 70 فیصد ریونیو generate کرنے والے شہر کراچی کے ساتھ یہ ظلم اور ناانصافی سمجھ سے بالا تر ہے۔ موجودہ وفاقی بجٹ میں بھی کراچی کے لیے کوئی خاص پیکج announce نہیں کیا گیا، اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن کے ساتھ ساتھ وہاں پر 5 سو ارب کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے۔