پھانسی کے  عوض  کچھ نہیں ملتا، اسی کام کی تنخواہ دی جاتی ہے: جلاد کوٹ لکھپت جیل

پھانسی کے  عوض  کچھ نہیں ملتا، اسی کام کی تنخواہ دی جاتی ہے: جلاد کوٹ لکھپت ...
پھانسی کے  عوض  کچھ نہیں ملتا، اسی کام کی تنخواہ دی جاتی ہے: جلاد کوٹ لکھپت جیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(خصوصی رپورٹ )پنجاب میں دوجلاد موجود ہیں جوآپس میں ماموں اور پھوپھوزاد ہیں ، ان میں سے ایک نبیل مسیح نے دعویٰ کیاکہ پھانسی کے عوض کوئی رقم نہیں ملتی ، تنخواہ مقرر ہے اور کسی دوسرے شہر میں مجرم کو پھانسی دینے کیلئے کرایہ ملتاہے جوبعدمیں ٹریولنگ الاﺅنس سے کرایہ دینے والا کلرک کٹوتی کرلیتاہے ۔
روزنامہ پاکستان کیساتھ خصوصی نشست میں تارا مسیح کے جلاد نواسے نبیل مسیح نے بتایاکہ 25روپے فی پھانسی ملنے کی باتیں محض افواہیں ہیں ، کوئی فالتوپیسہ نہیں ملتا، کسی دوسرے شہر میں جانے کیلئے گاڑی کا ٹکٹ ملتاہے جو ایڈوانس کلرک سے لے لیتے ہیں اور تنخواہ میں ٹی اے ڈی اے کی مدمیں آنے کے بعد کلرک ایڈوانس میں لیا گیاکرایہ کاٹ لیتاہے ، 17ہزار روپے فکس تنخواہ ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں اُن کاکہناتھاکہ ہم اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں ،پھانسیاں دینے سے کوئی ذہنی کوفت نہیں ہوتی ،ملازمت شروع کرنے سے پہلے ہی بتادیاگیاتھاکہ آپ کو پھانسی کیلئے لیور کھینچنا ہوگا۔ ان کاکہناتھاکہ ڈاکٹر بھی موقع پر موجود ہوتاہے اور اشارہ ملتے ہی لیور کھینچ دیتے ہیں ، تین سے چھ منٹ تک لاش لٹکتی ہے جس کے بعد ڈاکٹر تصدیق کرتاہے اور ضروری کاغذی کارروائی کے بعد لاش ورثاءکے حوالے کردی جاتی ہے ۔ اُنہوں نے بتایاکہ عمومی طورپر صبح ساڑھے چار بجے پھانسی دی جاتی ہے اور وہ 15منٹ پہلے جیل پہنچ جاتے ہیں ۔

اُنہوں نے روزنامہ پاکستان کیساتھ فیس بک پر لائیو گفتگومیں اور کیا کیا بتایا؟ خود ہی سن لیجئے 

مزید :

جرم و انصاف -