’یورپ کے اس معروف شہر پر ایٹمی حملے کی تیاریاں مکمل‘ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ مغربی ممالک کے ہوش اُڑگئے

’یورپ کے اس معروف شہر پر ایٹمی حملے کی تیاریاں مکمل‘ ایسا انکشاف منظر عام پر ...
’یورپ کے اس معروف شہر پر ایٹمی حملے کی تیاریاں مکمل‘ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ مغربی ممالک کے ہوش اُڑگئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام و عراق میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش اکثر مغربی ممالک کو حملوں کی دھمکیاں دیتی رہتی ہے، مگراب اس کے ایک ایسے منصوبے کا انکشاف منظر عام پر آ گیا ہے جس نے اہل مغرب کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق ”داعش آئندہ خودکش حملوں میں بہت بڑی تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے مطلوبہ مواد اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ مغربی ممالک کے بڑے شہروںکو ایک ہی حملے میں نیست و نابود کر سکے۔“ یہ انکشاف ایٹمی حملوں کے انسداد کے لیے کام کرنے والے فورم لکسمبرگ نے کرد فوج کے حوالے سے کیا ہے۔ فورم کے سربراہ موشے کینٹر (Moshe Kantor)کا کہنا ہے کہ ”ہم جانتے ہیں کہ داعش ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ یورپ کے دل پر حملہ کر سکے۔سابق سوویت یونین کے نیوکلیئرریسرچ سنٹرز کی سکیورٹی انتہائی ناقص ہے جس کی وجہ سے یورپی دارالحکومت پر حملے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔“

سنگین خطرہ! مغربی ممالک کی فوجیں میدان میں آنے کے بعد پیوٹن نے بھی روسی فوج کو سرحد پر پہنچادیا تاکہ۔۔۔

رپورٹ کے مطابق موشے کینٹر نے امریکہ اور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ ”دونوں ملک مل کر تابکاری کے حامل مواد کی نقل و حمل کی نگرانی کریں۔“ رپورٹ کے مطابق برسلز میں خودکش حملے کرنے والے دونوں بھائی خالد اور ابراہیم البکراوئی ان حملوں سے قبل بیلجیئم میں ایک نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ڈیفنس پولیس فیڈریشن کے چیئرمین ایامن کیٹنگ (Eamon Keating)کا کہنا ہے کہ ”ہمار ے انتہائی اہم دفاعی اثاثوں کی سکیورٹی میں کئی رخنے موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ان اثاثوں کی حفاظت پر مامورآفیسرز کو کسی اور ڈیوٹی پر بھی نہیں لگایا جا سکتا، خواہ بدامنی کی کتنی ہی سنگین صورتحال کیوں نہ ہو، کیونکہ ان آفیسرز کے نقصان سے ہمارے ایٹمی اثاثے داﺅ پر لگ سکتے ہیں۔ حکومتوں کو سکیورٹی کے اخراجات کم کرنے کے لیے ان آفیسرز کو دیگر ڈیوٹیوں پر نہیں بھیجنا چاہیے۔“رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ داعش کی ٹارگٹ لسٹ میں درجنوں برطانوی شہریوں کے نام بھی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر اس لسٹ میں لوگوں کے نام، پتے اور ای میل ایڈریس تک درج ہیں۔