اگر اپوزیشن کے ٹی او آرز پر تحقیقات ہوئیں تو اسحاق ڈار کا بچنا مشکل ہو جائے گا، کیا سزا مل سکتی ہے؟ معروف صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

اگر اپوزیشن کے ٹی او آرز پر تحقیقات ہوئیں تو اسحاق ڈار کا بچنا مشکل ہو جائے ...
اگر اپوزیشن کے ٹی او آرز پر تحقیقات ہوئیں تو اسحاق ڈار کا بچنا مشکل ہو جائے گا، کیا سزا مل سکتی ہے؟ معروف صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی ارشد شریف نے شریف خاندان کی منی لانڈرنگ اور اس میں اسحاق ڈار کے کردار سے پردہ اٹھا دیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ اسحاق ڈار نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے جو اعترافی بیان دیا تھا اس سے بہت سی باتوں کی تصدیق ہوتی ہے اور اگر پانامہ پیپرز کے معاملے پر اپوزیشن کے ٹی او آرز پر تحقیقات ہو جائیں تو اسحاق ڈار بالکل نہیں بچ پائیںگے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں
معروف صحافی ارشد شریف نے اپنے پروگرام ”پاور پلے“ میں دی گئی رپورٹ میں بتایا کہ شریف خاندان پر منی لانڈرنگ کا الزام نیا نہیں، تمام اعترافی بیانات، بینک ریکارڈ اور دستاویزات مختلف ادوار میں سامنے آتے رہے مگر مختلف خفیہ معاہدوں کے ذریعے ان پر قانونی چارہ جوئی کبھی مکمل نہیں ہوئی اور نہ ہی منطقی انجام تک پہنچی۔ پانامہ پیپرز کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن نے جو 70 سوالات پارلیمینٹ کے ریکارڈ کا حصہ بنائے ان میں سے کچھ سوالات کا تعلق وزیراعظم کے سمدھی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ہے۔ یہ 70 سوالات جو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے سربراہ خورشید شاہ نے اسمبلی میں پیش کئے ان میں سوال نمبر پر 45-46-47-48 اور 57 کا تعلق براہ راست اسحاق ڈار کے ساتھ ہے ۔ سوال نمبر 45 میں اسحاق ڈار کو شریف خاندان کے مالی معاملات کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے قاضی فیملی، سٹی بینک، بینک آف امریکہ، حدیبیہ انجینئرنگ اور حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں مگر جوابات کوئی نہیں اور جب ان سوالات کے جوابات معلوم کرنے کیلئے کھوج لگانی شروع کی تو جہاں دیگر بینک ریکارڈ، چیکس اور رسیدیں سامنے آئیں وہاں اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی سامنے آیا ۔ وزیراعظم کے سمدھی اسحاق ڈار 164 کے مجسٹریٹ کے سامنے دئیے گئے اس بیان میں جہاں شریف خاندان کیلئے منی لانڈرنگ کا اعتراف کرتے ہیں وہیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ 1964ءسے 1966ءتک میاں نولاز شریف گورنمنٹ کالج لاہور میں ان کے ہم جماعت تھے لیکن قریبی دوستی نہیں تھے۔
اسحاق ڈار کے اس بیان کو مزید تقویت میاں نواز شریف کی بی اے کی ڈگری سے ملتی ہے جس کے مطابق انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کے سابق طالب علم کی حیثیت سے تقریباً اسی دور میں آرٹس میں بی اے کا امتحان دیا اور 700 میں سے 340 نمبر یعنی سیکنڈ ڈویژن حاصل کی۔ وزیراعظم کے سمدھی کا یہ کہنا ہے کہ سن 2000ءمیں دفعہ 164 کا یہ بیان زبردستی لیا گیا مگر قانون دان کہتے ہیں کہ 164 کے بیان پر لوگ پھانسی لگ جاتے ہیں اور اس سے قانونی طور پر انحراف ممکن نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماءاور سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ کے مطابق اسحاق ڈار سے اس بیان کیلئے کوئی زبردستی نہیں کی گئی۔ لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ جب وہ جب اٹارنی جنرل تھا تو انہوں نے اس تفتیشی افسر کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے کون سا حربہ استعمال کیا تھا تو اس نے کہا کہ میں نے اسحاق ڈار کو ہاتھ بھی نہیں لگایا البتہ یہ کہا تھا کہ اس حوالے سے تمام معلومات اور ثبوت موجود ہیں اور اگر مہربانی کر کے بیان دے دیں تو ہمارا کام بھی آسان ہو جائے گا اور آپ کا بھی جس پر انہوں نے کہا کہ مجھے جہاں لے جانا ہے لے چلو میں بیان دینے کیلئے تیار ہوں اور پھر انہوں نے 45 صفحوں کا بیان دیا ۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں
پانامہ پیپرز میں شریف خاندان کے خلاف ثبوت آنے کے بعد اسحاق ڈار کے اس اعترافی بیان کی حیثیت کسی بھی تحقیقات میں بہت اہم ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کے سوال نمبر 45 میں اسحاق ڈار کو شریف خاندان کے مالی معاملات کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے۔ اس اعترافی بیان میں اسحاق ڈار یہ بتاتے ہیں کہ وہ شریف خاندان کے قریب اس وقت ہوئے جب انہوں نے 1991ءمیںفرسٹ ہجویری موداربہ بنائی اور پھر شریف گروپ، کریسنٹ گروپ اور سہگل گروپ ان کے گاہک بنے ۔ اس سے پہلے 1990ءمیں اسحاق ڈار کی ملاقات شہباز شریف سے ہو چکی تھی جو اس وقت لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر تھے۔ عمران خان نے اپنے جلسے میں ایک بار پھر یہ الزام لگایا کہ نواز شریف نے منی لانڈرنگ کر کے پیسہ باہر بھیجااور یہ الزام کوئی نیا نہیں ہے اور شائد پہلی بار بھی نہیں لگایا گیا ۔ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک بھی ایک پریس کانفرنس کر کے شریف خاندان سے متعلق کئی اہم انکشافات کر چکے ہیں اور یہ بتا چکے ہیں کہ شریف خاندان منی لانڈرنگ میں ملوث رہا اور اس سلسلے میں پشاور کے دو ہنڈی اور حوالہ ڈیلرز کے نام بھی سامنے آئے۔
رحمان ملک اور عمران خان کے ان منی لانڈرنگ کے الزامات کو تقویت 2000ءمیں مجسٹریٹ کو دیئے گئے اسحاق ڈار کے اس ایفی ڈیوٹ سے ملتی ہے جس میں انہوں نے شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کی ایک ایک تفصیل کو اپنے مجسٹریٹ کے سامنے دیئے گئے بیان کے ذریعے بے نقاب کیا تھا ۔ اسحاق ڈار کا ایفی ڈیویٹ ہی شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ کو بے نقاب کرنے والا واحد ڈاکیومنٹ نہیں ہے۔ سرکاری تحقیقاتی اداروں نے برسوں کی عرق ریزی کے بعد شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ پر ایک جامع رپورٹ تیار کی تھی یہ تحقیقات 1993ءمیں شروع کی گئی تھیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ اسحاق ڈار نے سن 2000ءمیں شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کی جو تفصیلات بتائی تھیں وہ اس رپورٹ میں بھی تھیں۔ سرکاری کاغذات کے اس پلندے کے مطابق نواز شریف نے اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے 1992ءمیں اکنامک ریفارمز ایکٹ متعارف کرایا۔ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایفی ڈیویٹ میں یہی لکھا ہے کہ جب نواز شریف نے کہا تو انہیں اکنامک ریفارمز ایکٹ کا حوالہ دیا کہ آپ فکر نہ کریں ہم یہ ایکٹ لا رہے ہیں آپ کو کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا۔
تحقیقاتی اداروں کے مطابق نواز شریف نے واشنگٹن میں مقیم اپنے قریبی دوست سعید شیخ کے بھانجے جاوید کیانی کی خدمات حاصل کیں تاکہ اپنے کالے دھن کو سفید کر سکیں۔ اگست 1992ءمیں جاوید کیانی نے محمد رمضان، سلمان ضیاءاور اصغر علی کے نام سے حبیب بینک اے جی زیورخ لاہور میں تین جعلی بینک اکاﺅنٹ کھولے۔ تینوں اکاوئنٹ غیر ملکی کرنسی کے تھے اوران میں ڈیپوزٹ 300 ڈالر سے بھی کم تھا۔ دستاویزات یہ بتاتے ہیں کہ یہ جعلی اکاﺅنٹ باہر سے پیسہ واپس منگوانے کیلئے بنائے گئے تاکہ بعد میں اس پیسے کو کولیٹرل رکھوا کر شریف خاندان کی کمپنیوں کو قرضہ دلوایا جا سکے ۔ اس طرح غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجا گیا پیسہ قانونی طریقے سے شریف خاندان کو واپس مل گیا۔ نواز شریف کے سابق بزنس پارٹنر اور فرسٹ کزن میاں خالد سراج نے اپنے 1994ءکے خط میں بھی اس بات کا ذکر کیا ہے۔ اسی بات کا ذکر اسحاق ڈار نے اپنے ایفی ڈیویٹ میں کیا اور اب سرکاری فائل بھی یہی بتا رہی ہے۔
تحقیقاتی اداروں کے مطابق محمد رمضان، سلمان ضیاءاور اصغر علی کے اکاﺅنٹ جعلی شناختی کارڈ استعمال کر کے بنائے گئے تھے اور ان اکاﺅنٹس میں کیش اور چیک کی صورت میں 37 لاکھ 94 ہزار اور 762 ڈالر جمع کروائے گئے تھے اور اس کے عوض لاکھوں ڈالرز کے بیریرز سرٹیفکیٹ جاری کروائے گئے تھے۔ اس سے اگلے مرحلے پر تین مزید اکاﺅنٹ کھولے گئے جن میں س تین اکاﺅنٹس کا ذکر اسحاق ڈار کے ایفی ڈیوٹ میں ملتا ہے۔ یہ اکاﺅنٹ لندن کی قاضی فیملی کے کاشف محمود قاضی اور نصرت گوہر قاضی کے نام پر بینک آف امریکہ لاہور اور سکندرا مسعودقاضی کے نام پر سٹی بینک لاہور میں کھولے گئے۔ اسحاق ڈار اپنے ایفی ڈیویٹ میں لکھتے ہیں کہ 1992ءکے اوائل میں میاں نواز شریف نے ان سے رابطہ کیا اور 100 ملین روپے کے کی کریڈیٹ لائن کی درخواست کی جو میرے مداربہ سے ان کے کاروبار کو دی جانی تھی۔ اسحاق ڈار کے بقول جب انہوں نے میاں نواز شریف سے پوچھا کہ اس کے بدلے کولیٹرل میں کیا ہو گا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ فارن کرنسی فنڈ کولیٹرل کی صورت میں دیں گے۔ اسحاق ڈار نے آگے چل کر یہ بھی بتایا کہ ان کو نواز شریف نے قاضی خاندان کے چار افراد کے پاسپورٹس کی کاپیاں فراہم کیں اور کہا کہ ان اکاﺅنٹس کو آپ آپریٹ کریں۔ ان چار میں سے 2 اکاﺅنٹ جو سکندرا مسعود قاضی اور طلعت مسعود قاضی کے نام پر تھے کھولے جبکہ باقی دو اکاﺅنٹ ہجویری مداربہ کے ڈائریکٹر نعیم نے کھولے اور آپریٹ کئے۔ یہ دونوں اکاﺅنٹ نصرت گوہر اور کاشف محمود قاضی کے نام پر تھے۔
اسحاق ڈار صاحب نے اپنے ایفی ڈیویٹ میں تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ دو اکاﺅنٹ ان کے دستخط جبکہ باقی کے دو نعیم کے دستخط سے چلا کرتے تھے جبکہ ان کے احکامات براہ راست نواز اور شہباز شریف سے آتے تھے۔ اسحاق ڈار نے ان چار اکاﺅنٹس کے علاوہ ایک پانچویں اکاﺅنٹ کا ذکر بھی اپنے ایفی ڈیوٹ میں کیا جو سعید احمد کے نام تھا۔ اسحاق ڈار نے سعید احمد کو اپنا قریبی دوست اور اپنی کمپنی کا سابق ڈائریکٹر بتایا، سعید احمد اس وقت سٹیٹ بینک میں ڈپٹی گورنر کے عہدے پر براجمان ہیں اور یہ عہدہ ان کو اسحاق ڈار کے وزیر خزانہ بننے کے بعد دیا گیا۔ ایک چھٹا اکاﺅنٹ جس کا اسحاق ڈار نے ذکر کیا وہ ان کی بیوی کے بھتیجے موسیٰ غنی کا ہے۔ اسحاق ڈار کے بیان کے مطابق سعید احمد صاحب اپنا فارن کرنسی اکاﺅنٹ خود چلاتے تھے جبکہ موسیٰ غنی کا اکاﺅنٹ اسحاق ڈار کے دستخط کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔اسحاق ڈار کے مطابق ان تمام اکاﺅنٹس کے ذریعے جو کریڈٹ لائن لی گئی تھی وہ شریف گروپ آف کمپنیز کو دے دی گئی تھی۔ ان چھ اکاﺅنٹس کے علاوہ بھی اسحاق دڈار نے خود مانا کہ وہ اور بھی کئی اکاﺅنٹس چلاتے رہے جن کے ذریعے قرض حاصل کیا گیا۔ زیادہ تر اکاﺅنٹس قاضی فیملی کے نام پر ہی بنائے گئے اورسٹی بینک، ایمرٹس بینک، اٹلس بینک، البراکا بینک، التوفیق انویسٹمنٹ بینک وغیرہ میں بھی ایسے ہی اکاﺅنٹ چلتے رہے۔ التوفیق کا کیس تو برطانیہ میں چلا اور شریف خاندان کے لندن والے فلیٹ اس قرض کے ساتھ جوڑ دیئے گئے جو شریف خاندان نے ادا کرنا تھا ۔
رحمان ملک نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ لندن میں موجود شریف خاندان کی پراپرٹی کو عدالت نے قبضے میں لے لیا کیونکہ انہوں نے التوفیق بینک کو 32.5 ملین ڈالر نہیں دیئے گئے تھے اور جب یہ پراپرٹی سیز ہوئی تو شریف خاندان نے یہ پیسے جمع کرا کر پراپرٹی ریلیز کرائی۔ یاد رہے کہ یہ سب نوے کی دہائی میں ہوا چنانچہ عدالت کا فیصلہ اس بات کو بھی جھٹلاتا ہے کہ فلیٹ 2006ءمیں خریدے گئے تھے۔ اسحاق ڈار نے اپنے اعترافی بیان میں 1998ءکی میٹنگ کا بھی بتایا جو شہباز شریف کے ساتھ ماڈل ٹاﺅن میں ہوئی جس میں کمال قریشی اور ہارون پاشا وغیرہ بھی شامل تھے۔ اسحاق ڈار کے بقول شہباز شریف نے کہا کہ چونکہ اخبارات میں قاضی فیملی کا نام بار بار آ چکا ہے اس لئے تمام اکاﺅنٹس میں سے رقم فوراً نکال لی جائے اور اس رقم کو مڈل ایسٹ کی ایک خاتون کے ذریعے حدیبیہ پیپرز مل کے اکاﺅنٹ میں شیئر کیپٹل کے طور پر جمع کرا دیا جائے۔ شہباز شریف نے صدیقہ سید محفود خادم کے پاسپورٹ کی کاپی دی کہ ان کے نام سے حدیبیہ کے اکاﺅنٹ سے تمام پیسہ جمع کرایا جائے۔ اس طرح 37 لاکھ ڈالر کی ایک ٹی ٹی اور بعد میں 29 لاکھ ڈالر اور سعید احمد کے اکاﺅنٹ میں موجود ڈالر صدیقہ سید محفود خادم کے شیئر کیپٹل کے نام سے حدیبیہ پیپر مل کے اکاﺅنٹ میں بھیج دیئے گئے۔
ایٹمی دھماکوں کے بعد جو ڈالر شریف خاندان فارن کرنسی اکاﺅنٹ فریز ہونے کی وجہ سے نہ نکلوا سکا ان کو شہباز شریف کے حکم پر روپوں میں 46 روپے فی ڈالر کے حساب سے تبدیل کروا کر حدیبیہ پیپر مل کے اکاﺅنٹ میں ڈالا گیا اس طرح 318 ملین روپے مزید اس اکاﺅنٹ میں گئے۔ اسحاق ڈار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ تمام رقوم بعد میں شریف خاندان نے اپنے قرض اتارنے کیلئے استعمال کی جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ قاضی خاندان کی نہیں بلکہ ان کی اپنی رقوم تھیں۔ منی لانڈرنگ کا یہ گورکھ دھندا انتہائی دلچسپ ہے، یعنی ایک طرف اسحاق ڈار قاضی خاندان کے جعلی اکاﺅنٹ چلا رہے تھے تو دوسری طرف جاوید کیانی، سلمان ضیائ، محمد رمضان اور اصغر علی کے اکاﺅنٹ چلا رہے تھے۔ سرکاری ریکارڈ میں آج بھی یہ ساری تحقیقات موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں قانون کیا اتنا کمزور ہے کہ کسی طاقتور پر ثبوت ہوتے ہوئے بھی ہاتھ نہیں ڈال سکتا؟

مزید :

لاہور -