قطری بحران۔۔۔ ثالثی کوششیں کس حد تک کامیاب ہو سکیں گی؟

قطری بحران۔۔۔ ثالثی کوششیں کس حد تک کامیاب ہو سکیں گی؟

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی اور بحران کے حل کے لئے سفارتی سطح پر بھرپور کوشش کرے گا، پاکستان ثالثی کے لئے بھی تیار ہے، سعودی عرب، قطر اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات انتہائی اہم ہیں، مسلم اُمہ بھی معاملہ سلجھانے میں کردار ادا کرے۔ خلیجی اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کسی صورت بہتر نہیں، ہم مسلم اُمہ کے اتحاد کے قائل ہیں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں جہاں وزیراعظم نواز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے ہوئے ہیں،ان کی ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی جس میں قطر اور خلیجی ممالک کے تعلقات کے بحران پر تبادلہ خیالات کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے اِس بات پر اتفاق کیا کہ خلیجی اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لئے مل کر کام کیا جانا چاہئے۔ قطر اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے جن ممالک نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے تھے اُن کا دائرہ اب مزید پھیل گیا ہے اور اس میں کئی دوسرے مُلک بھی شامل ہو گئے، قطر نے ریاض میں مسلمان عرب ممالک کی کانفرنس میں شرکت کی تھی اور وہ اسلامی ممالک کے نو تشکیل شدہ فوجی اتحاد کا رکن بھی تھا، اِس لئے جب عرب ممالک نے قطر کے ساتھ تعلقات آناً فاناً توڑ لئے اور آگے بڑھ کر مزید ایسے اقدامات بھی کر لئے گئے جو انتہائی سخت کہے جا سکتے ہیں تو بحران اچانک وسیع تر ہو گیا،اِسی دوران امیر کویت نے ریاض کا دورہ کیا اور سفارتی کوششوں کے ذریعے بحران کا حل نکالنے کی کوشش کی،قطر کی حکومت نے بھی سرگرمی دکھائی اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں اپنے نمائندے بھیجے جن کا مقصد بحران کے حل میں مدد طلب کرنا تھا۔ امکان یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف آستانہ سے واپسی پر سعودی عرب اور قطر کا دورہ کریں گے اوربنفسِ نفسِ ثالثی کی کوششیں کریں گے ان کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم مسلمان ممالک کی کوشش تو یہی ہے کہ مسلمان اُمہ کے رُکن ممالک کے درمیان باہمی تنازعات کم ہوں، لیکن ایسے لگتا ہے کہ اختلافات کی یہ خلیج پاٹنا اتنا آسان نہیں ہے اور اگر وزیراعظم نواز شریف اس میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو یہ اپنی جگہ بہت بڑا کارنامہ ہو گا،

جس انداز میں سعودی عرب نے پہل کاری کر کے سات دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اچانک اقدام کیا اس سے تو محسوس ایسے ہوتا ہے کہ اختلافات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی وجوہ فوری نہیں بلکہ پہلے سے موجود ہیں اور سعودی حکمران اخوان المسلمون اور حماس کی سرپرستی پر قطر سے اندر خانے عرصے سے ناخوش چلے آ رہے تھے۔ عین ممکن ہے سعودی عرب نے اِس معاملے پر قطر سے پہلے بھی بات کی ہو،اور مثبت نتائج نہ نکلنے پراب یہ قدم اٹھایا ہو،تاہم وجہ کچھ بھی ہو اِس اقدام سے مسلمان ممالک کی طاقت کمزور ہوئی ہے اور وحدت کو سخت دھچکا لگا ہے۔ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ مغربی مُلک مسلمان ممالک کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے،لیکن کیا یہ مسلمان حکمرانوں کا فرض نہیں کہ وہ خود بالغ نظری کا ثبوت دیں اور ان طاقتوں کا آلۂ کار نہ بنیں جو مسلمانوں میں تفریق کے بیج بوتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قطر اپنی غذائی ضروریات بیرون مُلک سے درآمد کرتا ہے، خشکی کا واحد راستہ سعودی سرحد سے جاتا ہے جو اب بند ہو گئی ہے عرب ممالک کی پابندیوں کے باعث غذائی ضروریات کی قلت پیدا ہونے کا بھی امکان ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ ایک وفد خصوصی طور پر قطر بھیجا جائے جو قطری ضروریات کا جائزہ لے کر غذائی اشیا قطر کو برآمد کرنے کے فوری طور پر انتظامات کرے، پاکستانی برآمد کنندگان کو بھی اپنے وفود قطر بھیجنے چاہئیں جو قطر کے درآمدکنندگان سے مل کر وہاں کی غذائی ضروریات کا جائزہ لیں۔یہ برآمدات سمندری اور فضائی راستے سے جاسکتی ہیں اس وقت پاکستان میں بہت سی اشیائے خوردنی بڑی زیادہ مقدار میں پیدا ہوتی ہیں جو قطر کو آسانی سے برآمد کی جا سکتی ہیں، گندم وافر مقدار میں پاکستان کے اندر موجود ہے اسی طرح چینی کے کارخانہ دار یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اُنہیں فالتو چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ یہ دونوں اشیا برآمد کرنے میں تو کوئی امر مانع نہیں، پاکستان اِس وقت قطر سے گیس درآمد کر رہا ہے اور گیس کی مزید ضرورت بھی ہے اِس لئے اگر پاکستان غذائی اشیاء کی قطری مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے تو قطر اس کا خیر مقدم کرے گا اور بدلے میں پاکستان گیس درآمد کر سکتا ہے۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق ایران نے قطر کی غذائی ضروریات پوری کرنے کا یقین دلایا ہے، اور اپنی بندرگاہیں قطر کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے معلوم نہیں وہ کون کون سی اشیا ہیں جو ایران برآمد کر سکتا ہے تاہم پاکستان اگر اِس سلسلے میں سرگرمی دکھائے گا تو اس میں قطر اور پاکستان دونوں کا ہی فائدہ ہے۔

غذائی ضروریات پوری کرنا تو اپنی جگہ ہے اور باہمی تجارت کی وسعت پہلے ہی دونوں حکومتوں کے ایجنڈے پر ہو گی، اصل ضرورت یہ ہے کہ قطر اور عرب ممالک کے اختلافات فوری طور پر ختم کرائے جائیں۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہو گا جو اس وقت عرب ممالک کو تنہا کر چکا ہے اور کوئی عرب مُلک اسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں،فلسطین میں اسرائیل من مانی کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا مضحکہ اڑا رہا ہے مصر اس کی دوستی کا دم بھرنے لگا ہے اور اسی دوستی کی وجہ سے مصری حکومت اپنے ہاں اخوان المسلمون کو کچلنے کے مشن میں مصروف ہے، شام تباہ حال ہے، عراق بھی اسی راستے سے گزر کر اپنے زخم چاٹ رہا ہے، اُردن کی کوئی قوت باقی نہیں رہی، شام اور اردن تو اسرائیل سے اپنے وہ علاقے واپس لینے کی پوزیشن میں بھی نہیں، جن پر67ء میں اس نے قبضہ کر لیا تھا، مصر نے اپنے علاقے اسرائیل سے دوستی کر کے واپس لئے، اب پورے خطے میں ایک ایران ہے جو اسرائیل کی نظروں میں کھٹکتا ہے، ایران کا ایٹمی پروگرام بھی اوباما نے نیو کلیئر معاہدہ کر کے رول بیک کرا دیا تھا، اس کے باوجود اسرائیل کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا اور وہ ایران کو دھمکیاں دیتا رہتا ہے اور جواب میں ایران بھی خاموش نہیں رہتا، اسرائیل کا خواب یہ بھی ہے کہ تمام عرب ممالک کی طاقت ختم کرے، اب وہ ایران سے بھی دو دو ہاتھ کرنا چاہتا ہے لیکن ایران اس کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہے۔

داعش نے ایران کو کمزور کرنے کے لئے وہاں دھماکوں کا آغاز کیا ہے تو ایرانی حکومت بھی جوابی کارروائیاں کرنے سے گریز نہیں کرے گی ان کا رُخ کس جانب ہو گا اس کا تو ابھی اندازہ نہیں لیکن اگر عرب ممالک قطر کی طرح بحرانوں میں مبتلا ہوتے رہے تو اس سے اور کوئی نہیں، اسرائیل اور اس کے مغربی سرپرست ہی خوش ہوں گے۔ اب مسلمان حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ اسرائیل کی خوشی کا سامان کرنا چاہتے ہیں یا مسلمان ممالک کے اتحاد کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں ان حالات میں ثالثی مشن بہت مشکل ہو گا تاہم اس کی کامیابی کے لئے دُعا ہی کی جا سکتی ہے۔

مزید : اداریہ