شیخ رشید سے ادھار کی واپسی کا مطالبہ!

شیخ رشید سے ادھار کی واپسی کا مطالبہ!

پاکستان عوامی مسلم لیگ کے صدر، قومی اسمبلی کے رکن اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے قومی اسمبلی کے باہر خود سے الجھنے والے مسلم لیگ (ن) جاپان کے صدر نوراعوان کے خلاف درخواست دی اور کہا ہے کہ ان کو کوئی جسمانی نقصان پہنچا تو ذمہ دار وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب ہوں گے ، جبکہ نور اعوان کا موقف ہے کہ شیخ رشید نے جاپان میں ان سے کار لی اور 22لاکھ روپے پاکستان جاکر دینے کا وعدہ کیا، لیکن پندرہ سال گزر جانے کے باوجود رقم ادا نہیں، نور اعوان آج کل پاکستان میں ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں دیکھے جاتے ہیں اس حوالے سے ان کی کئی تصاویر بھی وائرل ہوئی ہیں۔ یہ تنازعہ جہاں ہوا وہ سپیکر کی ’’را جدہانی‘‘ ہے اور اس علاقے میں سیکیورٹی کا بھی انتظام ہے کوئی بھی فرد اجازت کے بغیر نہیں جاسکتا، یقیناً نور اعوان مسلم لیگ (ن) اوورسیز کا ایک عہدیدار ہونے کی وجہ سے اجازت ہی سے گیا ہوگا، تاہم اس کا شیخ رشید سے الجھنا مناسب تھا یا نہیں، اب اس کی تحقیق کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ سپیکر کی منشا سے وزیر داخلہ کی ہدائت پر نور اعوان کو حراست میں بھی لیا گیا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو گرفتار کیا گیا یا رفع شر کے طور پر موقع سے ہٹا دیا گیا۔ جہاں یہ واقع افسوسناک ہے، وہاں یہ بات بھی اپنی بجا ہے کہ نور اعوان پیسوں کا مطالبہ کررہا ہے جو اس کے بقول پندرہ سال سے واجب الادا ہیں اور دو سال قبل اس نے تھانے میں رپورٹ بھی کرائی تھی کہ شیخ رشید ان کے پیسے نہیں دیتے الٹا دھمکیاں دیتے ہیں۔اس واقع پر تمام سیاسی راہنماؤں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا تو اسے سیاسی بھی بنالیا گیا ہے حالانکہ یہ تعین ہونا ضروری ہے کہ اگر لین دین کا تنازعہ اتنا پرانا ہے تو پھر محترم شیخ رشید اسے پہچاننے ہی سے کیوں انکار کررہے ہیں؟ اور خود پر حملہ قرار دے کر اسے انتقام قرار دے رہے ہیں، جو بھی ہوا جیسے بھی ہوا، اب اس واقعہ کی تحقیق ہو جانا چاہئے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں کہ کون سچا ہے؟ اگر نور اعوان کا موقف درست ہے تو پھر شیخ رشید کو اس بارے میں سوچنا ہوگا کہ اتنے عرصہ تک کسی کی اتنی بڑی رقم پھنسی ہو تو وہ ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘مظاہرہ نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا؟ بہتر ہوگا کہ سپیکر خود اس واقعہ کی تحقیقات کرائیں اور قصور دار کو اس کے جرم کے مطابق سزادی جائے اور اگر رقم کا مطالبہ جائز ثابت ہو تو یہ رقم بھی دلوائی جائے۔

مزید : اداریہ