آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
 آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

  

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پندرھویں تراویح

سورۃ فاطر : 35 ویں سورت

سورۂ فاطر مکی ہے، 45 آیات اور 5 رکوع ہیں۔ ترتیب نزول کے لحاظ سے نمبر 43 ہے۔ بائیسویں پارہ کے تیرہویں رکوع سے سترہویں رکوع تک ہے۔ سورت کا نام پہلی آیت ہی میں درج لفظ ’’فاطر‘‘ سے لیا گیا ہے۔ اس سورت کو’’سورت الملائکہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ بھی پہلی آیت ہی سے لیا گیا ہے۔ یہ سورت قیام مکہ کے دور متوسط میں نازل ہوئی جب ظلم وجبر شدت اختیار کر گیا تھا۔ سورت میں کفار کے رویہ پر ناصحانہ تنبیہ وملامت بھی ہے اور معلمانہ انداز میں فہماش بھی ، کفار کو شرک سے ڈرایا گیا ہے اور مومنوں کو بڑی بڑی بشارتیں دی گئی ہیں۔ارشاد ہوا جس طرح اللہ بادل اور بارش سے مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، اسی طرح حشر میں بھی وہ سب کوزندہ کر دے گا۔سب اس کی بادشاہی ہے اور کفار جن کو اپنا معبود بناتے ہیں وہ توکھجور کے ایک چھلکے تک کے مالک نہیں ہیں اور وہ تو تمہاری پکار بھی نہیں سن سکتے نہ تمہاری حاجت پوری کر سکتے ہیں ۔ اندھا اور آنکھوں والا، اندھیرا اور اجالا، سایہ اور دھوپ ، زندہ اور مردہ برابر نہیں اور کفار جو مردہ ہیں، وہ آپؐ کی بات کیا سنیں گے؟ بیشک اللہ کی کتاب پڑھنے والے، نماز پڑھنے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ایسی تجارت کرتے ہیں جس میں کوئی خسارہ نہیں ہو گا۔ قرآن حق ہے جو اگلی کتابوں کی تصدیق بھی کرتا ہے اور اس کتاب کے وارث ، اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوں گے۔۔۔ اور جو شخص اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا وہ جنت میں بہت عیش میں ہو گا اور وہی کہے گا کہ اللہ کا بے حد شکر ہے کہ اس نے ہم کو غم سے نجات دی ۔

سورۂ یٰسین : 36 ویں سورت

سورۂ یاسین مکی ہے، 83آیات اور 5رکوع ہیں ۔ ترتیب نزول کے لحاظ سے 41 ویں سورت ہے۔ یہ بائیسویں پارہ اٹھارہویں رکوع سے شروع ہو کرتئیسویں پارہ کے چوتھے رکوع تک جاتی ہے۔ آغاز میں حروف مقطعات ہیں اور یہی دو حروف اس سورت کا نام بھی ہیں۔ سورۂ یٰسین کو قرآن پاک کا دل قرار دیا گیا ہے۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا: ’’قریب المرگ کے پاس سورۂ یٰسین پڑھا کرو‘‘۔ مصلحت یہ تھی کہ مرتے وقت مسلمان کے سامنے تمام اسلامی عقائد بھی آ جائیں اور آخرت کا پورا نقشہ بھی ۔ لفظ یٰسین کے مفسرین نے مختلف معانی بیان کئے ہیں، یعنی’’اے انسان‘‘ یا ’’اے شخص‘‘ اور بعض نے کہا کہ یہ ’’یاسید‘‘ کا مخفف ہے۔ عیسیٰ ؑ کے دو حواریوں کا ذکر ہے کہ جو انطاکیہ گئے تھے، لیکن لوگ ان پر ایمان نہ لائے۔ تیسرے حواری بھیجے گئے ۔ ان پر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ پھر ایک شخص جس کا بیٹا ان دو حواریوں کی دعا سے اچھا ہو گیا تھا اپنی قوم سے اللہ کی پرستش کرنے کے لئے کہنے لگا کہ یہ وہ ذات ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب کو جانا ہے۔ اس تبلیغ پر اس شخص کو اس کی قوم نے ہلاک کر دیا۔

اس شخص کے قتل کے بعد اللہ کا غضب اس قوم پر ہوا اور وہ سب ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہو گئے۔ افسوس ان لوگوں پر جو اپنے رسول کا مذاق اڑاتے ہیں، آخر وہ سب اللہ کے حضور لائے جائیں گے۔ اے میرے محبوب ﷺ اگر لوگ آپؐ کی بات نہیں مانتے تو آپؐ غم نہ کریں، اللہ ان سب سے نمٹ لے گا جب وہ حاضر کئے جائیں گے۔ کفار کو یقین نہیں کہ وہ دوبارہ بھی پیدا ہوں گے۔ وہ اللہ جو ایک مرتبہ پیدا کر سکتا ہے، وہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے اور اللہ تو بعض ہرے درختوں کی رگڑ سے بھی آگ پیدا کر دیتا ہے اور وہ تو آسمانوں اورزمین جیسی اور بھی چیزیں بنانے کی قدرت رکھتا ہے، بلکہ وہ جس چیز کو بنانا چاہتا ہے تو صرف فرما دیتا ہے کہ ہو جا، تو وہ فوراً ہو جاتی ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ہر چیزکا قبضہ ہے۔ اوراسی کی طرف سب کو جانا ہو گا۔

سورۃ الصّٰفت : 37 ویں سورت

سورت صافات مکی ہے، 182 آیات اور 5 رکوع ہیں، نزول کے لحاظ سے 56 ویں سورت ہے۔ تئیسویں پارہ کے پانچویں رکوع سے نویں رکوع تک ہے ۔ سورت کانام پہلی ہی آیت کے لفظ’’والصافات‘‘ سے لیا گیا ہے جس میں اللہ کے حضور صف باندھے کھڑے ہونے والوں کا ذکر ہے۔ اس سورت میں کئی رسولوں ؑ اور نبیوں ؑ کا تذکرہ ہے، خصوصاً حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کاواقعہ بھی ہے۔ ان واقعات کے ذریعے توحید کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ سورت مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی جب مخالفت پوری شدت سے برپا تھی۔ تنبیہ کے ساتھ ترغیب اور تفہیم سے بھی کام لیا گیا ہے۔ سورت کی آخری آیات میں اہل ایمان کے لئے بشارت بھی ہے۔ ارشاد ہے میرے محبوب ﷺ حق لے کر آئے ہیں اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق بھی فرما دی ہے ۔ ہمارے چنے ہوئے بندے آخرت میں رزق اور میوے حاصل کریں گے اور جنت کے باغوں میں عزت حاصل کریں گے اور مختلف راحتیں ان کو ملیں گی اور نوح ؑ اور ان کے گھر والوں کو بڑی تکلیف سے اللہ نے نجات دی اور انہی کی اولاد سے دنیا میں نسل چلی۔ نوح ؑ اعلیٰ درجے کے کامل الایمان بندوں میں سے ہیں اور انہی کے گروہ میں سے ابراہیم ؑ ہیں۔ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی۔ وہ قوم نجوم کی بہت معتقد تھی۔ چنانچہ وہ سمجھی کہ ابراہیم ؑ نے ایک مرتبہ جو اپنے بیمار ہونے کا امکان بتایا تو وہ لوگ سمجھے کہ انہوں نے علم نجوم کے ذریعے ایسا معلوم کیا ہے اور اب وہ کسی متعدی مرض میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ وہ لوگ متعدی مرض سے بہت ڈرتے تھے اس لئے وہ ان سے پھر گئے۔ ابراہیم ؑ نے ان لوگوں کے خداؤں سے (بتوں) سے پوچھا کہ کیا تم نہیں کھاتے؟ کیا تم نہیں بولتے؟ پھر ابراہیم ؑ نے ان بتوں کو پارہ پارہ کر دیا اور کفار سے فرمایا کہ تم لوگ اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے بتوں کو کیوں پوجتے ہو؟ ان لوگوں نے پتھر کی ایک بہت بڑی چار دیواری بنائی اور اس میں آگ بھر دی تاکہ ابراہیم ؑ کو اس میں ڈالا جائے۔ وہ ڈالے گئے لیکن اللہ نے ان کو آگ سے نکال لیا اور وہ لوگ ذلیل ہوئے۔ پھر ابراہیم ؑ کو ایک عقلمند بیٹا (اسمعیل) دیا گیا اوروہ بڑا ہوا اور کام کے قابل ہوگیا تو ابراہیم ؑ نے اللہ کی طرف سے دیئے ہوئے خواب کا اس سے ذکر کیا کہ میں تجھے اللہ کی رضا پر ذبح کرنا چاہتا ہوں، تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہا کہ آپ ضرور اس کام کو کیجئے جس کا آپ کو حکم ہے اور انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ تو جب ابراہیم ؑ اور ان کے صاحبزادے نے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکا دیا اور باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لٹایا تو اللہ نے ندا فرمائی کہ بس اے ابراہیم ؑ ، آپ نے میری فرمانبرداری کمال کو پہنچا دی (بس کافی ہے) یونس ؑ کو مچھلی نے نگل لیا، لیکن وہ اللہ کی تسبیح کرتے تھے اس لئے اللہ نے ان کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکال دیا، پھر جب وہ صحت یاب ہوئے تو انہوں نے بہت لوگوں کو ہدایت دی۔سلام ہے پیغمبروں پر اور ساری خوبیاں اللہ رب العالمین ہی کو زیبا ہیں۔

سورۃ ص :38 ویں سورت

سورۂ ص مکی ہے، 88 آیات اور 5 رکوع ہیں۔ترتیب نزول کے لحاظ سے بھی 38 ویں سورت ہی ہے۔تئیسویں پارہ کے دسویں رکوع سے چودھویں تک ہے۔آغاز ہی میں حرف مقطع ہے اور وہی اس سورت کا نام قرار پایا۔یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب آپؐ نے اعلانیہ دعوت کا آغاز کیا اور سرداران قریش میں کھلبلی مچ گئی تھی۔یعنی زمانہ نزول نبوت کا چوتھا سال۔بعض روایات کے مطابق جناب ابو طالب کے آخری مرض کے زمانہ میں نازل ہوئی (اور یوں زمانہ نزول نبوت کا دسواں یا گیارہواں سال بنتا ہے) سورت میں بتایاگیا ہے کہ مخالفت کسی خامی یا نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ محض حسد، تکبر اور بڑوں کی تقلید ہے۔ داؤد علیہ السلام پر اللہ کے انعامات کا ذکر ہے کہ ان کیلئے پہاڑ بھی مسخر کر دیئے گئے تھے جو ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔پرند بھی آپ کے پاس جمع ہو کر تسبیح کرتے تھے۔ان کو مضبوط سلطنت، عمدہ حکمت اور قول فیصل کی نعمتیں بھی حاصل تھیں۔ایک رات دو فریق ان کے پاس ایک فیصلے کے لئے آئے۔انہوں نے فیصلہ تو دیدیا لیکن بعض چیزیں ان کی نظر سے اوجھل ہو گئی تھیں اس لئے انہوں نے اللہ سے مغفرت چاہی اور سجدے میں گر گئے۔یعنی یہاں تعلیم ہے کہ اگر کوئی لغزش ہو جائے تو فوراً اللہ سے رجوع کرنا چاہئے۔داؤد ؑ کے صاحبزادے سلیمان علیہ السلام کو اللہ پاک نے بہت اچھا بندہ بنایا تھا۔

بڑی حکومت دی تھی۔کثیر تعداد میں گھوڑے دیئے تھے۔ہوا بھی مسخر تھی اور بہت سے اختیار دیئے گئے تھے۔ایوب علیہ السلام کو دشمنوں نے بڑی اذیتیں دی تھیں۔انہوں نے اللہ سے مدد چاہی۔اللہ نے فرمایا کہ آپ اپنا پیر زمین پر ماریں تو ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کیلئے جاری ہو گیا۔اس کے پانی سے آپ کی تمام تکلیفیں دور ہو گئیں۔

سورۃ الزمر:39 ویں سورت

سورۂ زمر مکی ہے 75 آیات اور 8 رکوع ہیں۔ نزول کے لحاظ سے 59 ویں سورت ہے۔تئیسویں پارہ کے پندرھویں رکوع سے شروع ہو کر چوبیسویں پارہ کے پانچویں رکوع تک ہے۔سورت کا نام آیت 71 سے لیا گیا ہے۔حبشہ کی ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔روح المعانی کے مطابق آیت 10 حضرت جعفر طیارؓ اور ان کے ساتھیوں کے حق میں نازل ہوئی جب وہ حبشہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کر چکے تھے۔سورت میں بتایا گیا ہے کہ خالص اللہ کی بندگی کرنی چاہئے اور شرک سے بچنا چاہئے۔ قیامت کا ذکر ہے کہ پہلے صور کی آواز سے سب بے ہوش ہو جائینگے اور دوبارہ صور کی آواز سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ایک نئی زمین ہو گی جو اللہ کے نور سے جگمگا اٹھے گی، پھر اعمال کی کتاب رکھی جائیگی، انبیاء ؐ لائے جائینگے اور سچا فیصلہ ہوگا اور جس شخص نے جو کچھ کیا ہے اس کا بدلہ اسے ملے گا۔لیکن جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں وہ جب جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو اس کے دروغہ ان کو سلام کر کے پیشوائی کرینگے اور جنت میں ہمیشہ کے لئے داخل کرینگے۔ *

مزید : کالم