اے وقت مجھے آزاد کر دے!

اے وقت مجھے آزاد کر دے!
 اے وقت مجھے آزاد کر دے!

  

’اے وقت مجھے آزاد کر دے!‘‘۔۔۔ محترمہ فوزیہ اعوان کی خواہش ہے، تمنا ہے، اور وقت سے التجا بھی ہے کہ وہ وقت کی جکڑ بندیوں سے آزادی چاہتی ہیں۔متذکرہ عنوان سے یہ دراصل فوزیہ اعوان کا اوّلین شعری مجموعہ ہے، جو ابھی ابھی تازہ تازہ چھپ کر ہمارے ہاتھ آیا ہے۔۔۔!محترمہ فوزیہ اعوان کو مَیں نے مختلف رسائل و جرائد میں پڑھا ہے، خصوصاً اظہر جاوید کے ’’تخلیق‘‘ میں اور کنول فیروز کے ’’شاداب‘‘ میں، یُوں مَیں محترمہ فوزیہ اعوان کے نام اور کام سے بخوبی واقف تھا، وہ کنول فیروز کی قریبی عزیزہ بھی ہیں اور ممتاز شاعر سید ضمیر جعفری کی بیوی کی بہن کے بیٹے اور ہمارے ایک زمانے کے دوست اسد ہاشمی کی سابق اہلیہ محترمہ بھی۔۔۔! اسد ہاشمی، شاعر، ادیب، ماہر تعلیم کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے اُن کی صاحبزادی مائرہ ہاشمی نے زیر نظر کتاب کا خوبصورت ٹائٹل بنایا ہے۔

محترمہ فوزیہ اعوان کا کُل کلام چھپنے سے پہلے کنول فیروز کی وساطت سے مجھ تک پہنچا اور مجھے حرف حرف، لفظ لفظ، سطر سطر اس مجموعۂ کلام کو پڑھنے کا موقع ملا، پھر قلم برداشتہ اپنے تاثرات قلمبند کرنے کا بھی۔۔۔! میرے خیال میں ایک بات تو طے ہے کہ فطری طور پر محترمہ فوزیہ اعوان شاعرہ ہیں۔۔۔ ایک صاحبِ فہم و ذکا شاعرہ۔۔۔! ان کے پہلو میں ایک حساس دِل دھڑکتا ہے، ایسا حساس دِل جس نے وصال و ہجر کے صدمے سہے ہیں، ہجر کے صدمے تو خیر ہوئے، وصال کے صدمے یعنی کیا؟ دراصل وصال کے لمحے بھی اُن کے لئے صدمے ہی تھے جو اُنہیں طویل مُدت تک چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی سہنے پڑے۔ بقولِ خود اُن کے:

وصل میں بھی ہجر کا ہے یوں گُماں

بج رہی ہوں درد کی شہنائیاں

اَور رہے ہجر کے صدمے تو وہ تو وہ مستقل برداشت کر رہی ہیں۔۔۔ یہ سہنا، برداشت کرنا، جب زبانِ حال سے بیان نہیں ہو پاتا تو قلم کی نوک سے صفحۂ قرطاس پر رقم ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ مجھے اُن کی بَرتی ہوئی ہر صنفِ سخن کو پڑھ کر معلوم ہُوا۔ غزل، نظم، ہائیکو۔۔۔ وہ کسی بھی صنف میں بند نہیں، مجموعے میں غزلیں تو برائے نام ہی ہیں تاہم کم کم غزلوں میں بھی بعض شعر چونکاتے ضرور ہیں۔ وہ بنیادی طور پر نظم کی اسیر ہیں، وہ بھی آزاد نظم کی۔۔۔ ان کی متنوع نظموں میں مجھے ’’جسم‘‘۔’’ عورت‘‘۔۔۔ ’’مَیں اور وہ‘‘۔۔۔ ’’رب کی رضا‘‘۔۔۔ ’’نیلی چڑیا‘‘ اور ’’مَیں کیا کروں؟‘‘۔۔۔ خاص طور پر پسند آئیں۔مَیں آج تک فوزیہ اعوان سے ’’بہ نفسِ نفیس‘‘ ملاقاتی نہیں ہو سکا تاہم یُوں سمجھ لیجئے بقول اصغر گونڈوی:

اصغر سے ملے لیکن اصغر کو نہیں دیکھا

اشعار میں سنتے ہیں کچھ کچھ وہ نمایاں ہے

بالواسطہ طور پر مَیں نے فوزیہ اعوان کے ہاتھ کے بنے ہوئے سینڈوچز کھائے ہیں اور اُن کے سُگھڑاپے کا قائل ہُوا ہوں۔ اُن کا کلام بالاستیعاب پڑھا تو اُن کی زندگی کے نہُفتہ پَرت بڑے قرینے اور سلیقے سے خود پر کُھلتے محسوس کئے۔گویا مَیں نے ’’اول طُعام بعدۂ کلام‘‘ کا مزا لیا۔قارئینِ ’’بادِ شمال‘‘ فی الحال صرف کلام سے لطف اندوز ہوں وہ بھی غزلیہ کلام سے۔۔۔ مزید لطف اور لذتِ کام و دَہن کے لئے کتاب کی تقریبِ رونمائی کا انتظار کریں۔! محترمہ فوزیہ اعوان کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

پھر وہی ہم ہیں وہی تنہائیاں

راس کب آئی ہیں بزم آرائیاں

ہے بظاہر زندگی کتنی حسَیں

اور اندر غم کی گہری کھائیاں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھول خوشبو رنگ سارے راستے میں بہہ گئے

منزلوں کی خواہشوں میں ہم تو تنہا رہ گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دِل کو سیماب کی طرح پایا،

اک جگہ یہ بھلا کہاں ٹھہرا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجھ میں گو کوئی خاص بات نہ تھی

تجھ سا لیکن کوئی ملا بھی نہیں

خوش رہیں آپ اپنی دُنیا میں

آپ سے اب کوئی گِلہ بھی نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تری تلاش تو جینے کا اک بہانہ ہے

تُو مل گیا جو مجھے اس کے بعد کیا ہو گا؟

یہ تو تھے غزل کے چند اشعار، ایک نظم مکالمے کی صورت میں صفحہ79 پر درج ہے اور پھر دوبارہ اسے صفحہ193پر بھی درج کیا ہے۔ ظاہر ہے محترمہ فوزیہ اعوان کی دوہری پسندیدہ ہو گی۔ ملاحظہ ہو نظم ’’مَیں کیا کروں؟‘‘۔۔۔

اُس نے کہا، اُداس ہوں

مَیں نے کہا کہ مَیں بھی ہوں

اُس نے کہا، چلا ہوں مَیں

مَیں نے کہا، مَیں کیا کروں؟

لیکن چلا گیا ہے وہ

کوئی کہے مَیں کیا کروں؟

ایک اور مختصر سی نظم بعنوان’’نیلی چڑیا‘‘ بھی مرکزِ توجہ بنتی ہے:

نرم ملائم ریشمی کونپل

پیروں میں کیوں مَسل رہے ہو؟

شاخ پہ بیٹھی نیلی چڑیا

خوف سے تھر تھر کانپ رہی ہے!

240صفحے کی یہ کتاب سفید کاغذ پر سنگل ٹائٹل کے ساتھ مکتبہ ’’شاداب‘‘ لاہور سے چھپی ہے۔ قیمت بھی 300روپے مناسب ہی ہے مگر کتاب کا عنوان باوزن بھی ہو سکتا تھا جیسا کہ اندرونی صفحات میں صحیح عنوان یوں ہے:

اے و قت آزاد مجھ کو کر دے!

مزید : کالم