قطر کے سفارتی بائیکاٹ کے اثرات

قطر کے سفارتی بائیکاٹ کے اثرات
 قطر کے سفارتی بائیکاٹ کے اثرات

  

سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادی ممالک کی جانب سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع ہونے سے مشرق وسطیٰ کے اندر ایک ایسا بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے جو اس خطے کے حالات کو بری طرح سے متاثر کر ے گا۔ قطر کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا بظاہر مقصد تو یہی بتایا جارہا ہے کہ قطردہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ قطر، بحرین میں سعود خاندان کے مخالفین کو امداد دے رہاہے، یمن میں حوثیوں، جبکہ خود سعودی عرب کے اندرشیعہ اکثریتی علاقے القطیف میں بھی سعود خاندان کے مخالفین کی مدد کر رہا ہے۔ ان تمام الزامات میں صداقت ہو یانہ ہو، مگر جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ قطر ’’داعش‘‘ کی حمایت کر رہا ہے تو یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے،کیونکہ قطر کے ساتھ ساتھ خود سعودی عرب بھی شام میں بشارالاسد کا تختہ اُلٹنے کے لئے کئی ایسے انتہا پسند مسلح گروپوں کو امداد دیتا آیا ہے جو بعد میں ’’داعش‘‘ کا حصہ بنے۔۔۔حالیہ بحران کا فوری سبب تو یہ ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ریاستی میڈیا نے ایک خبر جاری کی جس میں قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی اس رپورٹ کو بار بار پیش کیا گیا، جس میں قطر کے امیر تمیم بن الحماد الثانی کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ عربوں کی ایران کے ساتھ دشمنی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اسی خبر میں قطر کے امیر کو مصر میں فعال کردار ادا کرنے والی سعودی مخالف تنظیم ’’اخوان المسلمون‘‘ اور ’’حماس‘‘ کی بھی حمایت میں بیان دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ قطر کی حکومت نے فوری طور پر اس خبر سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ24مئی کو قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو ہیک کیا گیا، پھر یہ جھوٹی خبر نشر کردی گئی، مگرسعودی عرب، مصر اور اس کے خلیجی اتحادی ممالک قطر کے اس موقف کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

یہ خبر جھوٹی ہویا سچی، سعودی عرب نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے قطر کے خلاف معاشی اور سفارتی محاذکھول دیا ہے۔ قطر کا واحد زمینی رابطہ سعودی عرب سے ہی ہے اور اس زمینی راستے سے ہی قطر کے لئے خوراک اور دیگر ضروریات کا سامان لایا جاتا ہے، تاہم قطر کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے بائیکاٹ کے اعلان کے ساتھ ہی ایران نے اعلان کر دیا ہے کہ قطر اپنی خوراک منگوانے کے لئے اس کی تین بندرگاہوں کو استعمال کرسکتا ہے۔ قطر نے 2014ئمیں مصر کے فوجی انقلاب (جس میں اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کا تختہ اُلٹا گیا تھا) کی مخالفت کی تھی اور سعودی عرب کے برخلاف محمد مرسی کی حکومت کی حمایت کی تھی، جس کے باعث آٹھ ماہ کے لئے سعودی عرب نے قطر کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا تھا۔ دراصل سعودی عرب اور قطر کے تعلقات 1995ء سے ہی تذبذب کا شکار رہے ہیں۔ 1995ئمیں قطر کے موجودہ امیر تمیم کے باپ حماد بن خلیفہ نے اپنے والد خلیفہ بن حماد کو اقتدار سے جبری طور پر بے دخل کردیا تھا۔ اس وقت سعودی عرب اور دوسری عرب شاہی ریاستوں میں اس خاندانی بغاوت کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا تھا، کیونکہ خدشہ تھا کہ کسی ایک عرب ملک میں اگر ایسی نظیر بن گئی(بیٹا، باپ کو جبری طور پر اقتدار سے محروم کردے) تو سعودی عرب اور دوسری شاہی ریاستوں میں بھی ایسی خاندانی بغاوتیں شروع نہ ہوجائیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی خلیجی ممالک نے حمادبن خلیفہ کو اقتدار سے بے دخل کرنے، جبکہ کئی رپورٹوں کے مطابق اس کو قتل کرنے کے لئے بھی کئی سازشیں کیں جو ناکام ثابت ہوئیں۔ 2013ئمیں جب حماد نے اقتدار اپنے بیٹے تمیم کے حوالے کیا تو وہ ان سب حقائق سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ اب قطر کے حالیہ سفارتی بائیکاٹ کا اصل مقصد یہی ہے کہ قطر کو ایران کے خلاف ایسا ہی سخت اور جنگی موقف اپنانے پر مجبور کیا جائے جو موقف خود سعودی عرب اور اس کے حلیف عرب ممالک کا ایران کے حوالے سے ہے۔ قطر نے اپنے سفارتی بائیکاٹ سے ایک ہفتہ قبل سعودی عرب کو خوش کرنے کے لئے فلسطین کی تنظیم حماس(جس کے ایران سے تعلقات ہیں) کے کئی راہنماوں کو اپنے ملک سے نکلنے کا حکم دیا تھا، مگر قطر کا یہ اقدام سعودی عرب کو مطمئن نہ کر سکا۔

قطر کی حکومت کا یہ دعویٰ درست ہے کہ سعودی عرب، قطر کو بھی ایک ایسی عرب سیٹلائٹ ریاست بنانا چاہتا ہے، جس کے سیاسی، معاشی اور خارجہ امور کے فیصلے صرف سعودی مفادات کو ہی سامنے رکھ کرکئے جائیں۔ ہر خود مختار ملک کی طرح قطر کا بھی حق ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفادات کو ہی سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دے۔ عرب ممالک کی مخالفت کے باوجود قطر نے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کئے۔ جنوبی خلیج فارس پر قدرتی گیس فیلڈ کے لئے بھی قطر اور ایران کا اشتراک رہا۔ حال ہی میں قائم ہونے والے اسلامی عسکری اتحاد میں قطر نے خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ اس ساری صورت حال میں یہ بات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ جہاں ایک طرف قطر کا بائیکاٹ کرنے والے سعودی عرب اور خلیجی ممالک امریکہ کے حلیف ہیں تو وہیں دوسری طرف قطر کو بھی امریکہ اپنا اہم اتحادی تسلیم کرتا ہے۔ قطر میں موجود الحدیدائر بیس اس کی سب سے اہم مثال ہے۔ امریکہ نے قطر میں موجود اس ائربیس کو افغا نستان اور عراق میں جنگی کارروائیوں کے لئے کئی مرتبہ استعمال کیا امریکہ کے موجودہ سیکرٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلرسن حکومت میں آنے سے پہلے امریکی ملٹی نیشنل کمپنی’’ایگزون موبل‘‘(تیل کی کمپنی) کے چیف ایگزیکٹو تھے اور قطرمیں توانائی کے شعبے میں سب سے اہم کردار اسی ایگزون موبل کمپنی کا ہی رہا ہے۔ ان عوامل کے باعث امریکہ، قطر جیسے اہم حلیف کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا کہ وہ سیدھا ایران کی گود میں جا بیٹھے۔ سب سے بڑھ کر قطر کے موجودہ37سالہ امیر تمیم بھی جہاں ایک طرف ایران سے اچھے تعلقات رکھنا چاہ رہے ہیں وہیں دوسری طرف امریکہ کی بھی مخالفت نہیں چا ہتے۔

سعودی عرب کو ابھی حال ہی میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سے جو حمایت حاصل ہوئی ہے، اس کی بناپر مغربی میڈیا کے کئی حلقے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ سعودی عرب ،قطر پر حملہ بھی کرسکتا ہے۔ 2011ئمیں بحرین میں حمادبن عیسیٰ کی حکومت کو بچانے کے لئے سعودی عرب نے بحرین میں اپنی فوج داخل کرکے حماد کی شاہی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کو کچلا تھا۔ اب قطر کے سفارتی بائیکاٹ سے مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ایران کی چپقلش میں مزید اضا فہ ہوگا۔ ایران میں پا رلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر دہشت گرد حملے اور ایران کی جانب سے سعودی عرب کو ان حملوں کا مورد الزام قرار دینا اس جانب واضح اشارہ کررہاہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا حصول مستقبل قریب میں ایک خواب ہی ہے۔خطہ عرب میں یہ تقسیم کسی بھی صورت خطے کے مفادات میں نہیں ہے۔ یہی حربہ استعمال کرتے ہوئے اس خطے کے جغرافیے کوکئی مرتبہ تبدیل کیا گیا ہے۔ لگ بھگ ڈیڑھ صدی سے اس خطے میں سامراجی قوتیں یہی کھیل کھیل رہی ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادی ممالک کی جانب سے قطرکے سفارتی بائیکاٹ کے بعد پاکستان نے اب تک بہت متوازن موقف اپنایا ہے اور دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ قطر کے سفارتی بائیکاٹ سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان کے جہاں ایک طرف سعودی عرب سے اچھے تعلقات ہیں تو وہیں پاکستان کے قطر کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔ پاکستان کے قطر کے ساتھ ایل این جی کے معاہدے بھی ہیں۔ پاکستان نے اس معاملے پر مصالحانہ کردار ادا کرنے پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا ہے، اگر پاکستان اور ترکی جیسے ممالک، جو اس تنازعہ میں غیر جانبدار ہیں، وہ اس مسئلے کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کر پائیں تو یہ سودمند رہے گا۔

مزید : کالم