ایک مسئلہ، ایک کہانی

ایک مسئلہ، ایک کہانی
 ایک مسئلہ، ایک کہانی

  

پس ثابت ہواکہ ہر دور میں وطن عزیز کسی ایک مسئلے کی گرفت میں رہتا ہے، باقی سب مسئلے اس میں دب کررہ جاتے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟ اس پر ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے تو باقاعدہ قومی مباحثے تک کرائے، مگر آج تک سرکاری طور پر اس حوالے سے کوئی اعلان نہیں ہوسکا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟۔۔۔ ایک ملک جو بیسیوں مسائل میں الجھا ہوا ہے، اس کا سب سے بڑا مسئلہ تلاش کرنا ہے بھی جان جوکھم کا کام، لیکن ہر دور میں کوئی نہ کوئی واقعہ، مسئلہ یا موضوع ایسا ضرور سامنے آتا رہتا ہے کہ لاکھ توجہ ہٹائیں، نظر اس سے ہٹتی ہی نہیں۔۔۔ مثلاً آج کل کی مثال لیں تو ہر طرف سے جے آئی ٹی، جے آئی ٹی کی آوازیں ہی سنائی دیتی ہیں۔ آج کا سب سے بڑا اور اہم ترین مسئلہ گویا یہی ہے۔ اس کے نیچے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی دب گیا ہے اور مہنگائی کا بھی۔جب بھی کوئی چینل آن کرو، جے آئی ٹی کے حوالے ہی سے بریکنگ نیوز چل رہی ہوتی ہے۔ اس معاملے کو ایک فلمی رنگ دینے میں حکومت کے مصاحبین نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ کبھی اسے قصائی، کبھی جیمز بانڈ، کبھیمتعصب کبھی ظالم کے خطابات دے کر ایک ایسی فضا پیدا کردی گئی ہے، جیسے جے آئی ٹی کوئی مولا جٹ ہے، جو گنڈاسہ لے کر خاص طور پر شریف خاندان کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔

اب اس مسئلے کی، جو پوری قوم کے اعصاب پر طاری ہوگیا، گرفت اتنی زیادہ ہے کہ اس نے ہر واقعے اور معاملے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ مثلاً ایک ہی دن جب شیخ رشید اور جمشید دستی کے ساتھ دوواقعات پیش آئے تو کہا یہ گیا کہ حکومت جے آئی ٹی سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ حربے استعمال کررہی ہے۔ شیخ رشید سے قومی اسمبلی کے احاطے میں ملک نور محمد اعوان نامی ایک شخص نے 22لاکھ روپے مانگے کہ انہوں نے گاڑی لے کر اس کی رقم ادا نہیں کی۔ یہ سکرپٹ جس نے بھی لکھا بہت بھونڈا لکھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ اونچا اونچا بول کر ایک ڈرامہ کررہا ہے اور میڈیا کو سنانا چاہتا ہے۔ وہ شیخ رشید سے بازوپکڑ کر رقم کا تقاضا ایسے کررہا تھا، جیسے شیخ رشید کی جیب میں بائیس لاکھ روپے موجود تھے اور وہ دے نہیں رہے تھے۔ موقع پر وہ شخص قومی اسمبلی میں انٹری پاس بھی نہ دکھا سکا، البتہ بعد میں میڈیا کے ذریعے ایک پاس سامنے آیا، جو ڈپٹی سپیکر کے مہمان کوٹے میں جاری کیا گیا تھا۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، پی ٹی وی کا زمانہ تو ہے نہیں کہ آپ کل کی کھلی دکانیں دکھا کر آج کی ہڑتال کو ناکام ثابت کرسکیں۔ سویہ حقیقت بھی سامنے آگئی کہ پیسے مانگنے والا شخص مسلم لیگ (ن) کا سرگرم کارکن ہے، اس کی وزیر اعظم نواز شریف، صدر مملکت، وزراء اور نہال ہاشمی کے ساتھ تصویریں بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ اس پر عمران خان اور شیخ رشید نے تنقید کرتے ہوئے اسے جے آئی ٹی کی تفتیش سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک ڈرامہ قرار دیا۔ ادھر جمشید دستی کی گرفتاری کے معاملے کو بھی حکومتی انتقام سے جوڑ دیا گیا۔ اسے صدر مملکت کے خطاب کے دوران جمشید دستی کے سیٹیاں بجانے اور بجٹ کے دوران ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے کا شاخسانہ قرار دیا گیا۔ میرے نزدیک جمشید دستی کو گرفتار کرکے حکومت نے اس کی مقبولیت میں جو تھوڑی بہت کمی رہ گئی تھی، اسے بھی پورا کردیا ہے۔

پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ جمشید دستی کو اس کے حلقے میں ہرانا اب کسی کے بس کی بات نہیں۔ اسی حلقے سے جڑے ایک قومی اسمبلی کے حلقے سے نور ربانی کھر ممبر قومی اسمبلی ہیں۔ پچھلے دنوں مقامی اخبارات میں اشتہار اور سوشل میڈیا پر حلقے کے عوام نے یہ دہائی دی کہ انہوں نے پچھلے چار سال سے حلقے کے عوام کو منہ نہیں دکھایا۔ تلاش گمشدہ کے عنوان سے انہوں نے یہ اشتہار چھپوایا۔ ایسے میں جمشید دستی عوام کے لئے ایک نعمت غیر مترّقبہ سے کم نہیں کہ ہر وقت انہیں دستیاب رہتا ہے۔ ایک فون کال پر لوگوں کے پاس پہنچ جاتا ہے اور دبنگ سیاست کرتا ہے۔ جس واقعہ میں جمشید دستی کو گرفتار کیا گیا ہے، وہ زبردستی نہری پانی کو کھولنے کا کیس ہے۔۔۔ جو لوگ مظفر گڑھ اور اس کے گردونواح کی صورت حال جانتے ہیں، ان کے علم میں ہے کہ علاقے کے سارے وڈیرے نہری پانی چراتے ہیں یا محکمے کی ملی بھگت سے اپنی زمینوں تک لے جاتے ہیں، جبکہ کاشتکار پانی کو ترستے رہ جاتے ہیں اور اُن کی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ میری جمشید دستی سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مَیں نے یہ سب کچھ اِس مسئلے کی طرف حکومت کی توجہ دِلانے کے لئے کیا ہے تاکہ غریب کاشتکاروں کو ان کے حصے کا پانی مل سکے، لیکن انہیں یہ نیکی مہنگی پڑ گئی اور انہیں مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا۔ اتفاق ہے کہ جس روز جمشید دستی کے خلاف مقدمہ درج ہوا، اُس روز کراچی میں نہال ہاشمی کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی۔ جمشید دستی کی گرفتاری کے لئے تو سپیکر قومی اسمبلی نے فوری اجازت دے دی، مگر نہال ہاشمی کی گرفتاری کے لئے پولیس نے کوئی کوشش کی اور نہ ہی چیئرمین سینیٹ سے رجوع کیا گیا، اس سے یہ تاثر ابھرا کہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے۔

گھوم پھر کر نظر دوڑائی جائے تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ لمحۂ موجود میں جو سیاسی تناؤ نظر آ رہا ہے، اُس کے ڈانڈے پاناما کیس اور جے آئی ٹی کی تفتیش سے ملتے ہیں۔ پاناما کیس اور جے آئی ٹی کے معاملے کو درمیان سے نکال دیا جائے تو کچھ بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا جو وجہ تنازعہ ہو۔ اب یہ ڈرامہ تو نجانے ساٹھ دن میں حل ہوتا ہے یا نہیں، مگر اس کی وجہ سے باقی سارے مسئلے تو دیوار سے لگا دیئے گئے ہیں کہ اپوزیشن کی ترجیحات بھی اسی ایشو کے گرد گھوم رہی ہیں، حالانکہ ملک میں بجٹ سیشن چل رہا ہے، جو بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس پر توجہ دینے کی بجائے اپوزیشن لیڈر ہوں یا دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما، وہ سر شام جو بھی پریس کانفرنس کرتے ہیں،وہ جے آئی ٹی پر ہوتی ہے اور اُس میں یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ حکومت جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ اُدھر حکومت کے وزراء اور مشیران بھی صبح دوپہر شام جے آئی ٹی کا ورد کرتے دکھائی دیتے ہیں، کبھی حسین نواز کی تصویر، کبھی اُن کے تین تین گھنٹے انتظار، کبھی جے آئی ٹی کے ارکان کی جانبداری کے الزامات اور کبھی اُن کے گواہوں کو ڈرانے کی باتیں کر کے لہو گرماتے رہتے ہیں۔

دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ ایک مسئلے کو اتنا اہم بنا دیا جائے کہ باقی سارے معاملات اس کے نیچے دب جائیں۔ اپوزیشن سیشن بھی چھوڑ دے اور دیگر عوامی مسائل پر بھی آواز نہ اٹھائے۔ برطانیہ میں انتخابات سے چند روز پہلے دہشت گردی کے پے در پے واقعات پیش آئے،لیکن وہاں یہ نہیں ہوا کہ معمولات زندگی رک گئے ہوں، چیمپئن ٹرافی کے میچ بھی جاری رہے اور قومی انتخابات بھی ہو گئے۔ ہم ایک ہی معاملے کو لے کر اسے چیونگم کی طرح چباتے چلے جاتے ہیں، وہ مسئلہ چاہے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، لیکن جب سارے طاقتور اس پر نظریں جما کر بیٹھ جاتے ہیں تو وہ مسئلہ دیو ہیکل شکل اختیار کر لیتا ہے، پھر سیاسی کشیدگی بڑھتی ہے، بے یقینی پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ جمہوریت تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔ نجانے وہ دن کب آئے گا جب ہم اس کوتاہ نظری کے غبار سے نکل کر ایک حقیقی جمہوریت کے دائرے میں داخل ہوں گے؟

مزید : کالم