نظام عدل میں انقلاب کی امید

نظام عدل میں انقلاب کی امید
 نظام عدل میں انقلاب کی امید

  

صدقہ جاریہ کے تصور سے تو دیگر مسلمانوں کی طرح آگاہ تھا ہی، لیکن ’’گناہ جاریہ‘‘ کا فلسفہ مجھے سپریم کورٹ کے سابق جج فلک شیر نے سمجھایا ،ان کے اپنے طے کردہ اصول ہیں جن کے تحت انہوں نے ایک جج کی حیثیت سے اپنی زندگی گزاری ،ہائی کورٹ کے جج بنے تو اپنے چیمبر سے ٹیلی فون کا کنکشن کٹوا دیا کہ جج کا انتظامیہ اور لوگوں سے رابطوں کا کیا کام ،نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ان سے پیار کرنے والوں کی کمی نہیں تاہم ان کی اصول پسندی نے ایسے مخالفین کو بھی جنم دیا جو دشمنی کی حد تک چلے گئے ۔سپریم کورٹ کے جج بنے تو صدر مملکت کو ایک عرضداشت بھیج دی کہ عدلت عظمیٰ کے ججوں کی سنیارٹی طے کرتے وقت ان کی ہائی کورٹ میں بطور جج ملازمت کی مدت کو بھی شامل کیا جائے ۔اس فارمولا کے تحت وہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہوتے اور چیف جسٹس پاکستان بننے کے آئینی طور پر حق دار ٹھہرتے۔ مارچ 2007ء میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے افتخار محمد چودھری کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ سے معطل کیا اور وکلاء نے ان کی بحالی کے لئے تحریک شروع کر دی تو پرویز مشرف کو جسٹس فلک شیر کی عرضداشت یاد آ گئی ،فائل کی گرد جھاڑ کر صدر صاحب کی میز پر رکھ دی گئی اور جسٹس فلک شیر سے رابطے کا خصوصی اہتمام کیا گیا ۔ایوان صدر نے ان کی عرضداشت منظور کرنے کے لئے ایک شرط رکھی کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو وردی میں صدر کا الیکشن لڑنے کی سپریم کورٹ سے اجازت کا اہتمام کرنے کا وعدہ کرلیں تو انہیں چیف جسٹس پاکستان مقرر کردیا جائے گا۔میں اس بات کا شاہد ہوں کہ جسٹس فلک شیر نے اپنے ’’اصولوں‘‘ کے تحت افتخار محمد چودھری کو ناپسندیدہ ترین شخصیات میں شامل کررکھا تھا ،اس کے باوجود ان کی جگہ لینے کے لئے انہوں نے ایوان صدر کی شرط مسترد کردی کہ یہ شرط ان کے اصولوں کے منافی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے تو اپنے چیمبر میں ٹیلی فون کا کنکشن بھی لگوا لیا ،ان کا خیال تھا کہ چیف جسٹس کا ایک انتظامی کردار بھی ہے اور انتظامی عہدیدار کی حیثیت سے رابطوں کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،یہی وہ وقت ہے جب انہوں نے مجھے گناہ جاریہ کا فلسفہ سمجھایا ،ان دنوں لاہور ہائی کورٹ میں ججوں کی خالی اسامیوں پر تعیناتیوں کے لئے مختلف ناموں پر غور ہورہا تھا ،ماضی کی طرح مقتدر حلقوں کی جانب سے بعض نام مجوزہ ججوں کی فہرست میں شامل کرانے کی کوششیں ہورہی تھیں ،معاملہ قدرے طول پکڑ گیا تو مَیں نے ایک روز عرض کیا ،حضور نئے ججوں کے تقرر کے لئے سفارشات بھجوانے میں تاخیر مناسب نظر نہیں آتی ۔فرمایا کہ کیا آپ چاہتے ہیں مَیں گناہ جاریہ کا ارتکاب کروں ؟ پھر کرسی پر بیٹھے بیٹھے ایک طرف کو جھکے اور ایک بریف کیس اٹھا کر میز پر سامنے رکھ لیا ۔بریف کیس پر ہاتھ مارا اور کہا اپنی تو پوری تیاری ہے۔’’انہوں‘‘ نے مجھے یہاں سے بھیجنے کا فیصلہ کرلیا تو مجھے سامان اکٹھا کرنے کے لئے بھی وقت درکار نہیں ہو گا،بس یہ بریف کیس اٹھانا اور چلے جانا ہے۔ کیا مَیں دیدہ دانستہ کسی ایسے شخص کو ہائی کورٹ کا جج بنوا دوں، جس کے بارے میں مجھے علم ہو کہ وہ اس عہدہ کا اہل نہیں یا وہ عدل کے معاملہ میں بدنیت ہے۔ مَیں یہ گناہ اپنے ذمہ کیوں لوں ؟ایسا شخص جب بھی انصاف کے ترازو کا توازن بگاڑے گا میں بلاوجہ اس کے گناہ میں شریک ہو جاؤں گا،مَیں گناہ جاریہ سے بچنا چاہتا ہوں۔اچھے ججوں کا تقرر صدقہ جاریہ ہے تو برے ججوں کی تعیناتیاں گناہ جاریہ ہیں۔

مجھے نہیں معلوم گناہ جاریہ کے حوالے سے مذہبی احکام کیا ہیں تاہم میرے دماغ میں جسٹس فلک شیر کا گناہ جاریہ کا نظریہ بیٹھ چکا ہے اور کبھی کسی معزز عدالتی شخصیت سے ملاقات کا موقع ملتا ہے تو میں ایک واعظ کی طرح اس فلسفے کا پرچار کرتاہوں ،مجھے صاحبان اقتدارکے اقدامات کو صدقہ جاریہ اور گناہ جاریہ کی کسوٹی پر پرکھنے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کے انتظامی اقدامات کو بھی میں اسی نظریہ کی عینک لگا کر دیکھتا ہوں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کیس مینجمنٹ اور داد رسی کے متبادل نظام (اے ڈی آر)کے لئے جو تگ ودو کررہے ہیں وہ ثمر آورہوگئی تواس سے نظام عدل میں ایک انقلاب برپا ہوجائے گا ۔اے ڈی آر سسٹم کے تحت پنجاب کے تمام اضلاع میں مصالحتی مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں،جبکہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت 19 اداروں کے ساتھ ثالثی کے ذریعے تنازعات کے حل کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوچکے ہیں ۔مصالحتی مراکز کے لئے کام 90ء کی دہائی میں شروع ہوا ،چیف جسٹس راشد عزیز کے دور میں اے ڈی آر پائلٹ پراجیکٹ شروع ہوا جو ایک سال4ماہ تک بڑی کامیابی سے چلا، جس دوران اس پراجیکٹ کے تحت قائم ثالثی کی عدالتوں نے 85فیصد مقدمات نمٹا دیئے تھے ۔بدقسمتی سے عدلیہ کو اس پراجیکٹ کے حوالے سے ابتداء میں وکلاء کے متعدد منتخب نمائندوں کے علاوہ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے میں شہرت رکھنے والی پیشہ وکالت سے وابستہ دو بہنوں کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا کہ اے ڈی آر سسٹم پوری شدومد سے نافذ ہوگیا تو وکلاء بے روز گار ہوجائیں گے ۔یہ سسٹم اس لئے بھی چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کے دل کے قریب ہے کہ وہ خو د بھی برطانیہ کے ایک ادارے کے سند یافتہ ’’میڈی ایٹر‘‘ ہیں۔اس سسٹم کے تحت عدالت میں زیر سماعت مقدمہ فریقین کی باہمی رضا مندی سے میڈی ایٹر کو بھیج دیا جاتا ہے ،وہاں اگر فریقین میں مصالحت ہوجائے تو عدالت مصالحت نامے کی بنیاد پر ڈگری جاری کر دیتی ہے بصورتِ دیگر عدالت اپنا فیصلہ سناتی ہے ۔

فریقین کے درمیان مصالحت نہ ہونے کی صورت میں مصالحتی مرکز کی کارروائی کو عدالت میں بطور شہادت پیش نہیں کیا جاسکتا اس لئے میڈی ایٹر کے پاس معاملہ لے جانے میں کسی فریق کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔دُنیا بھر میں مصالحتی نظام قائم ہے اور ان مراکز میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ میڈی ایٹرکے طور پرکام کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ ذمہ داری ججوں کو دی گئی ہے ،اس حوالے سے چند روز قبل سول ججوں کو تربیتی کورس کروایا گیا، جس میں 72ججوں نے حصہ لیا اور ان میں سے 61نے کامیابی حاصل کی کہ یہی کامیابی کے تناسب کا طے شدہ معیارہے ۔ان تمام ججوں کو متعلقہ اضلاع کے مصالحتی مراکز میں تعینات کر دیا گیا ہے۔یہ پراجیکٹ ابتدائی طورپر لاہور میں شروع کیا گیا اور دو ماہ میں 178 مقدمات مصالحتی مرکز کو بھیجے گئے،جن میں سے 122 میں فریقین کے درمیان مصالحت ہو گئی۔ یہ مقدمات سالہاسال سے لٹکے ہوئے تھے ۔کیس مینجمنٹ کے حوالے سے ایسا لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے کہ ہر ضلع میں 3،3سینئر سول جج کام کریں گے۔ انتظامی جج کے طور پر یہ جواب دعویٰ کی وصولی سے لے کر نوٹسز کی تعمیل تک کے ذمہ دارہوں گے جس کے بعد ہی کیس سماعت کے لئے عدالت میں جائے گا ۔ضابطہ دیوانی میں انقلابی ترامیم منظوری کے آخری مراحل میں ہیں،جن کے تحت کیس منیجر وکیل نہیں، بلکہ جج ہو گا ۔وکیل اپنی بحث کا تحریری خلاصہ عدالت میں پیش کرنے کے پابند ہوں گے اور کسی وکیل کو 20منٹ سے زیادہ بحث کے لئے وقت نہیں دیا جائے گا۔ٹرائل شروع ہونے کے بعد کسی کو التواء نہیں ملے گااورکیس نمٹائے بغیر کسی جج کا تبادلہ بھی نہیں کیا جائے گا۔عدالت پہلے معاملہ مصالحتی مرکز کو بھیجے گی اگر 30روز میں اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر عدالت تنقیحات قائم کرے گی ۔ 30 دن میں ٹرائل مکمل ہوگا ،محفوظ کئے جانے کے بعد جج 7دن میں فیصلہ سنانے کا پابند ہوگا ۔سائلین کو فیصلے کی نقول کے حصول کے لئے درخواست نہیں دینا پڑے گی۔جج فیصلہ سناتے ہی اس کی مصدقہ نقول فریقین کو فراہم کریں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عدالت کی ڈگری کے بعد اس پر عمل درآمد کے لئے الگ سے دعویٰ دائر نہیں کرنا پڑے گا،بلکہ ڈگری جاری کرنے والا جج اپنے فیصلے پر عمل درآمد بھی کروائے گا۔

پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں اس وقت 1700 جج کام کر رہے ہیں ان کے پاس 13 لاکھ مقدمات زیر سماعت ہیں۔روایتی انداز میں اور اسی رفتار سے مقدمات نمٹائے جاتے رہے تو زیر التواء مقدمات کو نمٹانے کے لئے 320 سال کا عرصہ درکار ہو گا۔انصاف میں تاخیر پر قابو پانے کا ایک ہی طریقہ نظر آ رہا ہے اور وہ مصالحتی مراکز کے ذریعے دادرسی کا طریقہ کار ہے،جہاں سائلین کو چائے اور بسکٹ کے ساتھ ان کے مسائل کو حل دیا جاتا ہے۔ مَیں تویہ تجویز بھی دوں گا کہ قابل راضی نامہ فوجداری مقدمات کے لئے بھی اسی طرز پر ثالثی کا ایک نظام قائم کیا جائے ۔جب اے ڈی آر پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا تو وکلاء راہنماؤں میں سے صرف لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر ظفر اقبال کلانوری عدلیہ کے ساتھ تھے ،آج عدلیہ کوانصاف کی فوری فراہمی کے اس پراجیکٹ کے لئے تقریباً تمام بار ایسوسی ایشنز ، پاکستان بار کونسل اور پنجاب بارکونسل کی حمایت اور تعاون حاصل ہے ۔گناہ جاریہ کے حوالے سے میں اگر کچھ کہنا بھی چاہوں تو شاید وہ 100فیصد درست نہ ہو کیوں کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور نیتوں کو صرف اللہ ہی جانتا ہے تاہم اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ کیس مینجمنٹ اور اے ڈی آر سسٹم کے حوالے سے اقدامات کامیابی پر منتج ہوئے تو یہ ایک صدقہ جاریہ ہو گا۔

مزید : کالم