قتل کا الزام، پاکستانی نژاد امریکی شہری کے دوبارہ ٹرائل کا امکان

قتل کا الزام، پاکستانی نژاد امریکی شہری کے دوبارہ ٹرائل کا امکان
قتل کا الزام، پاکستانی نژاد امریکی شہری کے دوبارہ ٹرائل کا امکان

  

واشنگٹن (صباح نیوز)اپنی گرل فرینڈ کے قتل کے الزام میں گذشتہ 18 برس سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود پاکستانی نژاد امریکی شہری عدنان سید کے کیس کا دوبارہ ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔

سیریل نامی پوڈ کاسٹ کے ذریعے شہرت پانے والے اس کیس کے مرکزی ملزم کا دعوی ہے کہ انہوں نے اپنی گرل فرینڈ کو قتل نہیں کیا تھا اور وہ بے قصور ہیں جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا۔بعدازاں امریکی عدالت نے کہا کہ 37 سالہ عدنان سید کا دوبارہ ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔اس کیس کو امریکی ذرائع ابلاغ نے نظر انداز کیا ہوا تھا لیکن پھر اسے ہفتہ وار پوڈکاسٹ نے اٹھایا جو بعد ازاں امریکا میں خاصا مقبول ہوگیا۔یہ پوڈ کاسٹ تفتیشی صحافت، کسی شخص کی زبانی داستان اور ڈرامائی داستان گوئی پر مشتمل ہے جس کی ابتدائی 12 اقساط میں توجہ کا مرکز عدنان سید کی کہانی رہی اور اسے دنیا بھر میں 17 کروڑ پچاس لاکھ مرتبہ ڈان لوڈ کیا گیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔اس شو نے عدنان سید کے کیس میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی اور اس حوالے سے شکوک و شبہات سامنے آرہے ہیں کہ کیا ملزم کو ٹرائل کے دوران مناسب نمائندگی حاصل ہوئی یا پھر واقعی انہوں نے اپنی گرل فرینڈ ہائے من لی کو قتل کیا۔ایک امریکی صحافی سارہ کوئنگ نے عدنان سید کے اہلخانہ کی درخواست پر پولیس دستاویزات کا نئے سرے سے مطالعہ کیا اور ان کے پوڈ کاسٹ کی توجہ کا مرکز اس کیس میں تفتیش کی بے اصولی پر رہی، جس کے بعد ملزم کے جرم پر شکوک و شہبات نے جنم لیا۔بعدازاں عدنان سید نے اپنے وکیل کے توسط سے امریکی ریاست میری لینڈ کے علاقے ایناپولس کی ایک عدالت سے رجوع کیا۔عدنان سید کے وکیل نے ایک انٹرویو میں کہا ا کہ ہمیں معلوم ہے کہ عدنان کو غیر قانونی طور پر مجرم قرار دیا گیا ہے، وہ بے قصور ہونے کے باوجود جیل میں ہیں۔پاکستانی گھرانے سے تعلق رکھنے والے سید عدنان اور جنوبی کورین گھرانے سے تعلق رکھنے والی ہائے من لی میری لینڈ کے ایک اسکول میں پڑھا کرتے تھے جہاں وہ دونوں عشق میں مبتلا ہوگئے اور دونوں ہی نے اپنے والدین سے اس تعلق کو چھپائے رکھا۔پولیس کے مطابق تقریبا 18 سال قبل میری لینڈ کے شہر بالٹی مور کے جنگلات میں ایک کورین لڑکی کی گلا کٹی لاش زمین سے برآمد ہوئی اور اس قتل کے شبہ میں عدنان سید کو حراست میں لے لیا گیا تھا جو اس وقت 17 برس کے تھے، بعد ازاں عدالت نے 2000 میں انھیں عمر قید کی سزا سنا دی تھی۔عدنان سید کے حوالے سے لکھی جانے والی ایک کتاب عدنان کی کہانی: انصاف کی تلاش کی مصنفہ رابعہ چوہدری نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'عدنان ایک اچھا انسان ہے اور اچھے مزاج کا مالک ہے'۔انہوں نے کہا کہ عدنان کے کیس کے حوالے سے فنڈز اکھٹے کیے جا چکے ہیں، اس کیس میں نئے تحقیقاتی افسران آ چکے ہیں اور نئے شواہد بھی حاصل ہو چکے ہیں، یہ سب سیریل کی کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر عدنان سید کے ہزاروں حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کا نیا ٹرائل چاہتے ہیں، تاہم ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہوسکا کہ عدالت اپنا فیصلہ کب سنائے گی

مزید : بین الاقوامی