بجٹ میں کسانوں کے ساتھ ہاتھ کیا گیا، مہرین انور

بجٹ میں کسانوں کے ساتھ ہاتھ کیا گیا، مہرین انور

لاہور( لیڈی رپورٹر)سابق وزیر مملکت انصافو پارلیمانی امور مہرین انور راجہ نے کہا ہے کہ بجٹ میں کسانوں کے ساتھ ہاتھ کیا گیا ، زراعت کے لئے ٹیکس فری بجٹ کا نعرہ لگانے والوں نے خفیہ طو رپر کسانوں پر پانچ ارب روپے کا ٹیکس نافذ کردیا ہے ، کسانوں کے لئے زندگی اجیرن کردی ہے اورغریب صوبے کے خادم اعلیٰ کیلئے ایک ارب 76کروڑ میں ہیلی کاپٹر خریدا گیا یہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے حکمرانوں نے اعلان کیا تھاکہ ہم کشکول توڑ دیں گے لیکن 2008ء میں سر پلس جانے والا صوبہ آج 712ارب روپے کا مقروض ہے اور حکمران اب بھی اندھا دھند قرضے لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی اراکین کو بجٹ میں دلچسپی نہیں وہ بھی اس عوام دشمن بجٹ سے پریشان ہیں اس لئے وہ پنجاب اسمبلی کے اجلا س سے غیر حاضر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب میرے لئے قابل محترم ہیں لیکن آرڈیننسز اور اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے صرف دستخط کرنے پر گورنر ہاؤس پر سالانہ کروڑوں روپے اخراجات کئے جارہے ہیں۔ ساڑھے چار سو کنال میں رہنے والے گورنر کو جی او آر میں آٹھ کنال کا گھر دیا جائے ۔ عوام روٹی اور پانی کو ترس رہے ہیں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف خود کو خادم اعلیٰ کہتے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ ہاؤس کے لئے 49کروڑ15لاکھ56ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں اور مقروض صوبے کے عوام کو خادم اعلیٰ 19لاکھ78ہزار روزانہ میں پڑرہے ہیں جبکہ خادم اعلیٰ کے سیکرٹریٹ میں ایک ہزار ملازمین ان کی خدمت پر مامور ہیں۔ کابینہ میں موجود وزراء ہمت کریں اور ان معاملات پر بات کر کے تاریخ میں امر ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ محکموں کے بجٹ میں رواں مالی سال کے مقابلے میں15ارب روپے اضافہ کیا گیا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1