کرکٹ ٹیم۔۔۔جذبہ، عزم اور بہتر حکمت عملی، فتح اللہ دے گا

کرکٹ ٹیم۔۔۔جذبہ، عزم اور بہتر حکمت عملی، فتح اللہ دے گا
 کرکٹ ٹیم۔۔۔جذبہ، عزم اور بہتر حکمت عملی، فتح اللہ دے گا

  

اللہ مہربان تو سب مہربان، جو حضرات اور تجزیہ نگار،بھارت سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست کے بعد حساب کتاب میں الجھے ہوئے اور دو جمع دو والا فارمولا بتارہے تھے کہ فلاں ٹیم فلاں سے ہارے، بھارت دونوں میچ ہارے اور پاکستان جیتے تو یہ ہو گا اگر یہ نہ ہوا تو وہ ہو جائے گا وہ سب مطمئن ہوں کہ اب حساب سیدھا ہو گیا، اب صرف دو میچ باقی ہیں، پول میں پاکستان سری لنکا سے جیت جائے اور بھارت کا جنوبی افریقہ سے ہونے والے میچ کا فیصلہ ہو جائے تو جو ٹیم بھی جیتے گی وہ پاکستان کے ساتھ ناک آؤٹ کے لئے کوالیفائی کر لے گی، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اِس وقت چاروں ٹیموں کے دو دو پوائنٹ ہیں اِس لئے اگلے دو میچوں میں جو ٹیمیں جیتیں گی ان کے چار چار پوائنٹ ہو جائیں گے ہارنے والی ٹورنامنٹ سے باہر ہوں گی اور جیتنے والی اگلا مرحلہ کھیلیں گی۔ یوں اب یہ میچ ’’ ڈو اور ڈائی‘‘ والے ہیں۔ سری لنکا کی ٹیم نے بہت ہی اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور اعزاز کا دفاع کرنے والی بھارتی ٹیم کو ہرا کر یہ صورت پیدا کی ورنہ بھارت جیتتا تو سیدھا اگلے مرحلے میں چلا جاتا اور سری لنکا کو پاکستان کے ساتھ جینے مرنے والا مسئلہ پھر کرنا ہوتا (جو کہ اب بھی ہے) کہ اس کے جیتنے پر دو پوائنٹ ہوتے، ہارنے پر ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتا، اب بھی یہی صورتِ حال ہے کہ اگلے دونوں میچ فیصلہ کن ہیں۔ قوم پھر دُعائیں مانگ رہی ہے۔

اب ذرا بات کر لیں ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں، تو جیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی اور یہی فتح اب باتیں بنانے کا موقع دے رہی ہے، ورنہ صورتِ حال کا اندازہ نہیں تھا کہ دو وکٹیں گرنے کے بعد حالات مخدوش نظر آنے لگے تھے یہ تو بھلا ہو بارش کا کہ اس نے فخر زمان کی عزت بڑھا دی اور پاکستان کو فتح دِلا دی۔ اس مرتبہ بھی 1992ء والے ورلڈکپ کا حساب ہوا جب پاکستان کی ٹیم باہر ہو رہی تھی تو بارش نے جنوبی افریقہ پر فتح دِلا دی تھی، تب بھی ہم اللہ کا شکر ادا کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔ یہ بھی اطمینان کی بات ہے کہ ڈیبیو کرنے والے کھبے فخر زمان نے وہ کھیل کھیلا جو آج کی جدید کرکٹ کا ہے اور پہلے دس اوورز میں کھیلا جانا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ فخر زمان کے تیز رفتار31سکور ہی کی بدولت ڈک ورتھ لوئیس طریقہ کار کے باعث19رنز کی برتری مل گئی۔

یہ تو اپنی جگہ تاہم یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ جنوبی افریقہ کے ساتھ میچ میں باؤلنگ تو بہتر ہوئی، فیلڈنگ بھی پہلے سے بہت اچھی تھی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کے خلاف دبے دبے کھلاڑی جنوبی افریقہ کے خلاف پُرجوش تھے، فاسٹ باؤلر حسن کی تعریف ہو رہی ہے جو بے جا نہیں، اُس نے اچھی لینتھ سے باؤلنگ کی تو اس کا پھل بھی پایا۔ تاہم دُکھ اِس بات کا ہے کہ محمد عامر اچھی باؤلنگ کرنے کے باوجود وکٹ حاصل نہیں کر پا رہا، شاید مقابل کھلاڑی اُسے دیکھ بھال کر کھیلتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ سکور کم کم دیتا ہے،لیکن یہ تشویش کی بات ہے کہ اسے وکٹ نہیں مل رہی، جنوبی افریقہ کے خلاف ’’بلاک ہول‘‘ میں متعدد گیندیں بھی اسے وکٹ نہ دے سکیں اور ایک اپیل کے خلاف ’’Revision‘‘ بھی ضائع ہو گیا، ہمارے نزدیک اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ ابھی تک بیرونی دباؤ سے نجات نہیں پا سکا کہ گیند کو زیادہ سوئنگ نہیں کرا پا رہا، ورنہ ویسٹ انڈیز میں اس نے جو کھلاڑی آؤٹ کئے وہ عقل مندی سے کئے تھے کہ آؤٹ سوئنگ کراتے کراتے اچانک ان سوئنگ کرا کے کھلاڑی کو پریشان کیا تھا۔ یہ مانا کہ اس ٹورنامنٹ میں بیٹنگ وکٹیں بنائی جا رہی ہیں تاہم یہ مسئلہ تو ہر سیریز میں ہو گا اور کھلاڑی تو وکٹ کی مناسبت سے ہی اپنی کامیابی تلاش کرتے ہیں، حسن کی گیند سوئنگ ہوئی تو وکٹ بھی مل گئی تھی، کوچ کو محمد عامر پر توجہ دینا ہو گی کہ اسے مرکزی باؤلر کی حیثیت حاصل ہے، خود محمد عامر کو واپس آ کر وسیم اکرم کی خدمت میں ضرور حاضر ہونا چاہئے کہ وہ اسے بتا سکیں کہ کس طرح پرانی فارم واپس لائی جا سکتی ہے۔

اب ذرا قسمت کا حال دیکھ لیں کہ سری لنکا کی ٹیم کے عزم نے بھارت جیسی ٹیم پر فتح دلائی اور 322 کا ہدف بھی آسان بن گیا۔ ریٹنگ کے حوالے سے سری لنکا کی ٹیم کے مواقع صرف11فیصد تھے جو بڑھتے بڑھتے ہی سو فیصد ہو گئے، سری لنکا بیٹسمینوں نے ایک مکمل گیم پلان کے تحت مقابلہ کیا، وکٹوں کا تحفظ بھی کیا اور سکور بھی کرتے رہے۔ یہ ٹھیک کہ بعض غلطیاں ہوئیں ان کو قدرت نے نقصان دہ نہ ہونے دیا کہ بھارتی کھلاڑی بھی آخری اوورز میں بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے تھے۔اگرچہ بھارت کے شیکھر اور روہیت شرما نے سکور کئے تاہم سری لنکن کا یہ اعزاز ہے کہ وہ یوراج اور کوہلی کو بہت جلد آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے اور بھارت کو 350نہ کرنے دیئے بہرحال322 کا ہدف بھی بہت مشکل تھا جسے نوجوان سری لنکن نے حاصل کر ہی لیا۔

سری لنکن ٹیم کی اسی کارکردگی کی وجہ سے اب پاکستان کرکٹ ٹیم کو اور بھی بہتر طور پر کھیلنا ہو گا، باؤلنگ میں ذرا بہتر ہونے کے باوجود بیٹنگ والا مسئلہ اپنی جگہ ہے کہ پاکستان کے بیٹسمینوں کو بھی پُراعتماد کھیل پیش کرنا ہو گا خصوصاً سینئر حضرات کو زیادہ توجہ اور محنت کرنا ہو گی۔

اگرچہ ٹاس فیصلہ کن ہوتا ہے تاہم وکٹ دیکھ کر ہی بہتر عمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا، ٹاس جیتے تو وکٹ کی کنڈیشن کے مطابق پہلے یا بعد میں باری لینا ہو گی، سری لنکا کے ساتھ میچ فائنل جیسا ہے،اس ٹیم کے نوجوانوں کا عزم دیکھ لیں اور خود کو تیار کریں،ضروری نہیں کہ وہ آپ کے باؤلنگ اٹیک سے ڈر ہی جائیں، وہ بھی سپنر کو بہتر کھیلتے ہیں۔ بہرحال پروفیسر حفیظ سے باؤلنگ کرانا بہتر رہا، ٹیم میں شعیب ملک بھی ہے، اظہر علی بھی گیند کر سکتا ہے، چنانچہ ورائٹی کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ براہِ کرم بہتر حکمت عملی، گیم پلان اور مکمل جذبے سے کھیلیں، فتح اللہ دے گا یہ آخری میچ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید : کالم