وزارت داخلہ عدالت عظمیٰ، ججز ،جے آئی ٹی ارکان کا تحفظ کرے، افتخار چودھری

وزارت داخلہ عدالت عظمیٰ، ججز ،جے آئی ٹی ارکان کا تحفظ کرے، افتخار چودھری

لاہور (نامہ نگار خصوصی) سابق چیف جسٹس چیئرمین پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی افتخار محمد چودھری نے عدالت عظمیٰ، جے آئی ٹی، سپریم کورٹ کے ججز اور جے آئی ٹی کے ارکان کے تحفظ کے لئے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے ، وزارت داخلہ سے کہا گیا ہے کہ وزراء اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ماضی کے رویہ کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ اس کے ججز اور ان کے خاندانوں جے آئی ٹی کے ارکان اور ان کے خاندانوں کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔تین صفحات کے خط میں کہا گیا ہے کہ بطور سابق چیف جسٹس میں پانامہ کیس کی سماعت کو بغور دیکھ رہا ہوں۔ عدالت عظمیٰ کا سپیشل عملدرآمد بینچ جے آئی ٹی کی تفتیش کی نگرانی کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملک میں بلاامتیاز قانون کی حکمرانی کے لئے ایک موقع فراہم کیا ہے۔ اگر اس موقع پر کوئی عام آدمی یا طاقتور شخصیات کو کسی الزام میں سزا ہو جاتی ہے تو یہ قانون کی حکمرانی کی طرف اہم پیشرفت ہو گی۔ بدقسمتی سے پانامہ کیس میں وزیراعظم پاکستان اور ان کے خاندان کے افراد پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات ہو رہی ہے۔ وزیراعظم بطور سربراہ سیاسی جماعت اور سربراہ حکومت جے آئی ٹی پر بالواسطہ یا بلاواسطہ اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ؤ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سپریم کورٹ میں جب پانامہ کیس کی سماعت ہو رہی تھی جبکہ جب عملدرآمد بینچ اور جے آئی ٹی جمع کئے گئے مواد کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ وزیراعظم کے سپورٹر بشمول وزرا، ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے عدلیہ کو دھمکیاں دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ ان میں سے ایک رہنما نے سپریم کورٹ سے یہ کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنی بندوقیں شریف خاندان پر تان لی ہیں جبکہ ان میں سے ایک نے جے آئی ٹی کو قصاب کی دکان قرار دیا۔ نہال ہاشمی نے ججوں اور ان کے بچوں کو دھمکیاں دینے کے حوالے سے تمام حدیں عبور کر لیں۔ نہال ہاشمی نے پہلے استعفیٰ دیا اور پھر واپس لے لیا۔ اداروں کے حوالے سے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اگر ان کے خلاف فیصلہ آیا تو وہ سپریم کورٹ پر حملے سے گریز نہیں کریں گے۔ جیسا کہ انہوں نے 1997ء میں کیا تھا۔ اس کیس میں اس سیاسی جماعت کے 8 ملز موں کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا بھی ہوئی تھی۔ اس لئے ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ کی مداخلت ضروری ہے۔

افتخار چودھری

مزید : علاقائی