انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی انتظامی غفلت ، 13 شعبوں کیلئے 3 پروفیسرز

انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی انتظامی غفلت ، 13 شعبوں کیلئے 3 پروفیسرز

لاہور (جنرل رپورٹر) انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ انتظامی غفلت اور اقربا پروری کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ میڈیکل کی گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگریوں کے 13 شعبہ جات میں صرف 3 پروفیسرز تعینات ہیں۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں قائم انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے حوالے سے 13 شعبہ جات میں ماسٹر ان پبلک ہیلتھ (MPH) ماسٹر ان ہاسپیٹل مینجمنٹ (MHM) ماسٹر ان مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MOH) ایم فل کمیونٹی میڈیسن FCPS (کمیونٹی میڈیسن) سمیت پوسٹ گریجویٹ کے ساتھ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے گریجویٹ ڈگری کورس کرائے جاتے ہیں۔ اس ادارے میں ہونے والے ڈگری پروگراموں کے اعلیٰ معیار کی وجہ سے 1980ء تک اس کو ایشیا میں نمایاں حیثیت کا حامل ادارہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ 27 سالوں کے دوران ہر دور حکومت کے ارباب اقتدار نے اس ادارے کے ساتھ مسلسل سوتیلے پن کا سلوک کیا ہے۔ 13شعبہ جات میں صرف تین پروفیسرز کی تعیناتی حکومتی ترجیحات میں اس کی اہمیت ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اعلیٰ حکام نے ان تین پروفیسروں میں سے بھی مائیکرویالوجی کی پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر کو تبدیل کرکے پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹی بی تعینات کرکے ادارے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے تعلیمی معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انسٹیٹیوٹ میں آٹھ پروفیسرز کی آسامیوں میں سے چھ آسامیاں خالی ہیں۔ پروفیسر زرخشاں کی انسٹی ٹیوٹ سے تبدیلی سے صورتحال اور زیادہ سنگین ہوگئی ہے۔ پروفیسر زرخشاں کو ٹی بی کنٹرول پروگرام کے ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کردیا گیا ہے جہاں پروفیسر عامر نثار پہلے ہی اچھے طریقے سے کام کر رہے تھے۔ اس صورتحال سے انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ انتہائی پریشان ہیں اور ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ

مزید : علاقائی