حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے ؟

حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے ؟
 حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے ؟

  

سابق چیئرمین پی سی بی چوہدری ذکاء اشرف کے سابق پی اے سردار صاحب کا فون آیا ۔ کہنے لگے کہ نون لیگ والے میڈیا پر کھڑے ہو کر جے آئی ٹی پر تنقید کرنے کے بجائے سپریم کورٹ میں درخواست کیوں دائر نہیں کرتے ؟ ....ہم نے برجستہ جواب دیا کہ نون لیگ والے سپریم کورٹ کے حوالے سے وہی موقف رکھتے ہیں جو کسی عاشق نامرا د کا اپنے معشوق کے باب میں تھا کہ تیرے سامنے بیٹھ کے رونا تے دکھ تینوں نیؤں دسنا!

پھر کہنے لگے کہ عمران خان نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف سے فوراٌ استعفیٰ لیں کیونکہ وہ جے آئی ٹی کی کارروائی پر اثر انداز ہو رہے ہیں تو ہم نے عرض کیا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ خان صاحب سب کچھ ہم نے ہی کرنا ہے ، کچھ آپ بھی کرمرلیں !

آج کل بحث کا عام موضوع ہے کہ حکومت جے آئی ٹی کو متنازع بنا رہی ہے ۔ ایسا کہنے والے حکومت سے مراد وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو لیتے ہیں حالانکہ نہال ہاشمی حکومت کا حصہ ہیں نہ طلال چوہدری ،دانیال عزیز حکومت ہیں اور نہ ہی آصف سعید کرمانی۔ ہاں البتہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ ضرور حکومت ہیں لیکن صوبائی حکومت کا جے آئی ٹی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی جے آئی ٹی کے سامنے وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔

جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی ہے اور جے آئی ٹی تبھی متنازع ہو سکتی ہے اگر اس کو بنانے والا ادارہ متنازع ہو۔ چونکہ سپریم کورٹ متنازع نہیں ہے اس لئے جے آئی ٹی متنازع نہیں ہو سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جے آئی ٹی مخصوص ممبران کانام نہیں ہوسکتا۔نہ ہی جے آئی ٹی کا مطلب اس میں بیٹھے ہوئے پانچ ممبران ہیں کیونکہ ممبران بدل سکتے ہیں ،مگر جے آئی ٹی کا سکوپ نہیں بدل سکتا۔

جہاں تک متنازع ہونے کا تعلق ہے تو جے آئی ٹی کے ممبران تو متنازع ہو سکتے ہیں اور قرائین و شواہد بتاتے ہیں کہ ان میں چند ایک متنازع ہیں بھی لیکن جہاں تک جے آئی ٹی بحیثیت ایک فورم ہے ، اس کے متنازع ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ جے آئی ٹی کا مقصد سچ تک پہنچنا ہے لیکن ممکن ہے کہ جے آئی ٹی کے ممبران جھوٹ کا سہار ا لے کر اس سچ تک پہنچنے کی کوشش کریں ۔ جھوٹ کے سہارے ڈھونڈا ہوا سچ متنازع ہوجاتا ہے جبکہ سچ کا سہار ا لے کر جھوٹ کو جھوٹ ثابت کردیا جائے تو جھوٹ رفوچکر ہو جاتا ہے جس طرح دھرنے کے دوران جاوید ہاشمی نے سچ کا سہار ا لے کر عمران خان اور ان کے پیچھے کارفرما قوتوں کا جھوٹ بے نقاب کردیا تھا اور ایک بڑی سازش توڑ پہنچنے سے پہلے ٹوٹ گئی تھی اور اس کے نتیجے میں بننے والے کمیشن نے 2013کے انتخابات کو شفاف قرار دیا تھا۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے واٹس ایپ کی کال ہو ، حسین نواز کی تصویر کا اجراء ہو یا پھر سپریم جوڈیشل کونسل کی عمارت میں ایمبولینس بلانے کا معاملہ ہو، ایسا لگتا ہے کہ جے آئی ٹی حکومت کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور نون لیگ کی یہی پالیسی ہے کہ جے آئی ٹی کی آڑ میں کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ تفتیش کے 60دنوں میں پراپیگنڈہ مشینری کو تیز کرکے حکومت کو ساٹھ دن سے پہلے چلتا کرے۔ نون لیگ نے بحیثیت سیاسی جماعت کے اس سازش کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کا ارادہ کرلیا ہے اور اپنے پتے احتیاط سے کھیل رہی ہے ، اسے معلوم ہے کہ دوسری جانب سے بھی تاش کے پتے ایک ایک کرکے پھینکے جارہے ہیں اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر فیصلے سے پہلے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ نون لیگ کو اندازہ ہے کہ عوام کی اکثریت پانامہ کو حقیقی طور پر ثابت ہونے سے پہلے کسی بھی فیصلے کو نہیں مانے گی ، خواہ وزیر اعظم کو گاڈ فادر کا لقب ملے یا حکومت کو سیسلین مافیا کا !

نون لیگ نے جیسے کو تیسا کے مصداق فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا تہیہ کرلیا ہے اور اس ضمن میں آخری حد تک جانے کو بھی تیار نظرآتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان پنجاب کے عوام کو وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف باہر نکال سکتے ہیں ؟....اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو جے آئی ٹی کی فائنڈنگ حکومتی دیوار کے لئے آخری دھکا ثابت ہو سکتی ہے لیکن اگر جواب ناں میں ہے تو جے آئی ٹی اس دیوار کے بوجھ تلے دب کر ختم بھی ہو سکتی ہے ۔

B

مزید : کالم