پنجاب اسمبلی، حکومت کی طرف سے بجٹ اجلاس میں مطالبات زر منظوری کیلئے پیش، اپوزیشن کٹوتی کی تحاریک لے آئی

پنجاب اسمبلی، حکومت کی طرف سے بجٹ اجلاس میں مطالبات زر منظوری کیلئے پیش، ...

لاہور ( نمائندہ خصوصی ‘ کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں گزشتہ روزحکومت نے مطالبات زر منظوری کے لئے پیش کر دئیے جس پر اپوزیشن کٹوتی کی تحاریک لے آئی ، اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی آمد کا سن کر متعدد حکومتی اراکین بھاگے بھاگے ایوان میں پہنچے ، اپوزیشن کو کورم کی نشاندھی کا موقع نہ مل سکا اور وزیر خزانہ کو بھی بجٹ پر بحث سمیٹتے ہو ئے تقریر کرنے میں آسانی ہو گئی ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز ایک گھنٹہ 47منٹ تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی زیر صدارت شروع ہو ا ۔جس میں حکومت نے اجلاس میں 43 مطالبات زر پیش کر دئیے تاہم حکومت او راپوزیشن کی باہمی مشاورت سے ان میں سے چھ مطالبات زر پر اپوزیشن کی طرف سے کٹوتی کی تحاریک پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ گزشتہ روز اجلاس میں شعبہ تعلیم کے حوالے سے وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے مطالبہ زر پیش کیا کہ رقم 40ارب 74کروڑ 96لاکھ63ہزار روپے سے زیادہ نہ ہو گورنر پنجاب کو ایسے اخراجات کے لئے عطا کی جائے جو 30جون 2018کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران صوبائی مجموعی فنڈ سے قابل ادا اخراجات کے ماسوا دیگر اخراجات کے طور پربسلسلہ مد تعلیم برداشت کرنے پڑیں گے جس اپوزیشن نے کٹوتی کی تحریک پیش کی کہ تعلیم کے شعبہ کے لئے رقم کم کر کے ایک روپیہ کر دی جائے جس کی وزیر تعلیم رانا مشہود نے مخالفت کر دی ۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی مراد راس نے اپنی کٹوتی کی تحریک کے حق میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ کا تعلیم پر بجٹ بڑھانے کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ عملی طور تعلیم کے بجٹ میں ایک فیصد کمی ہوئی ہے ، ایک استاد کئی کئی مضمون پڑھا رہا ہے حالانکہ ایک استاد دوسے زیادہ مضمون پڑھانے سے معیار کم ہو جاتا ہے ۔انہو ں نے کہاکہ 2015-16میں 4121سکولوں کو سولر پر بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ کے لئے کنسلٹیشن فیس ڈیڑھ کروڑ اور مختص رقم ڈیڑھ ارب رکھی گئی جو بعدازاں منصوبہ ختم کر دیا گیا اب بجٹ میں اس مد میں جو رقم رکھی گئی ہے وہ کنسلٹیشن فیس 50کروڑ اور 4000 سکولوں کے لئے 17 ارب مختص کی رقم مختص کی گئی ہے یعنی دس ارب روپے کرپشن اور سات ارب روپے کا کام ہو گا۔صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بجٹ بحث کے اختتام پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران کہا کہکسی سیکٹر کی مراعات کم کی گئی ہیں نہ پبلک پراپرٹی کسی کے سپرد کی جا رہی ہے ۔ آئندہ مالی سال میں تعلیم کا بجٹ رواں سال کی نسبت 33فیصد زیادہ رکھا گیا ہے۔ پبلک سکولوں میں مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور عدم موجود سہولیات کی فراہمی کے لیے آؤٹ سورسنگ کی آزمودہ پالیسی کے تحت اس شعبہ میں پہلے سے سر گرم عمل معروف فلاحی اداروں کی خدمات مستعار لی جا رہی ہیں تا کہ ماہرین کی مدد سے نظام کی کمزوریوں کو دور کیا جا سکے اور عام آدمی کے بچوں کو معیاری تعلیم دی جا سکے۔ BHUsاور RHCsکو بہتر بنایا جا رہے ۔ حکومت پنجاب پر قرضوں کے حوالے سے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ سال 2016-17کے اختتام پر حکومت پنجاب کا واجب الادا قرض 568ارب روپے ہوگا جس میں سے 554ارب بیرونی جبکہ 14ارب اندرونی ہے۔ بیرونی قرضوں کا 81فیصد ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے حاصل کیا گیا ہے جبکہ تمام اندرونی قرضے حکومت پاکستان کی وساطت سے حاصل کیے گئے ہیں۔ 30جون تک حکومت پنجاب کا کل قرضہ صوبائی معیشت (GRP)کا 3.24فیصد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے حکومت پنجاب ایک جامع پالیسی پر کاربند ہے جو 2014 میں ترتیب دی گئی اور پنجاب کی ترقیاتی منصوبہ بندی (Growth Strategy) کا حصہ ہے جس کی بدولت رواں مالی سال میں پنجاب میں گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی اور دیگر تمام فصلوں کے پیداوری اہداف بھی مکمل ہوئے ۔ اس لیے یہ کہنا بالکل درست نہیں کہ حکومت بغیر کسی پالیسی کے اس شعبہ کو چلا رہی ہے۔ ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ آبپاشی، ماہی گیری، جنگلات ، خواراک اور لائیو سٹاک زراعت کے ذیلی شعبے ہیں ان کی ترقی کے بغیر زراعت کی بہتری ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب ان شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

مزید : صفحہ آخر