ماضی میں ہائیکورٹ میں کچھ غلط ہوا تو اسے انتظامی طور پر درست کیا جاسکتا ہے: چیف جسٹس منصور علی شاہ

ماضی میں ہائیکورٹ میں کچھ غلط ہوا تو اسے انتظامی طور پر درست کیا جاسکتا ہے: ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عدالت عالیہ میں آؤٹ آف ٹرن بھرتیوں اور ترقیوں کا جائزہ لینے کا عندیہ دے دیا، چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے مزید ریمارکس دیئے کہ انہیں کسی کا ڈر نہیں، ہر قیمت پر میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا،ماضی میں اگر ہائیکورٹ میں کچھ غلط ہوا ہے تو اسے انتظامی طور درست کیا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے ہائیکورٹ کے سینئر کورٹ ایسوسی ایٹ اکمل خان کی ہائیکورٹ میں آؤٹ آف ٹرن بھرتی والے افسروں اور میرٹ سے ہٹ کر ترقیاں لینے والے افسروں کے خلاف درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے اعتراض کیا کہ بطور چیف جسٹس انہیں اس کیس کی سماعت نہیں کرنی چاہیے، چیف جسٹس نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ درخواست ناقابل سماعت ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کا غلط مطلب نکالا جا رہا ہے، عدالت نے کیس منتقلی کی متفرق درخواست واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ لاہور ہائیکورٹ کا رول 26چیف جسٹس کو صوابدیدی اختیار دیتا ہے لیکن اس مطلب یہ نہیں کہ صوابدیدی اختیار کی آڑ میں اندھا دھند بھرتیاں کر لی جائیں، شفافیت اور برابری کا اصول صوابدیدی اختیار پر بھی لاگو ہوتا ہے، درخواست گزار نے کہا کہ سابق چیف جسٹس اعجاز احمد چودھری اور خواجہ شریف کے دور میں صوابدیدی اختیار کا اندھا دھند استعمال کرکے نااہل لوگوں کو ہائیکورٹ میں بھرتی کیا گیا جس پر چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ 5سابق چیف جسٹسز کے دور میں رول 26کا غلط استعمال نہیں ہوا، پھر بھی اگر ماضی میں ہائیکورٹ میں کچھ غلط ہوا ہے تو اس درست کیا جا سکتا ہے، ، درخواست گزار چاہے تو انتظامی طور پر آؤٹ آف ٹرن بھرتیوں اور ترقیوں کا معاملہ دیکھ سکتے ہیں، درخواست گزار اور ان کے وکلاء یقین رکھیں کہ اگر انتظامی طور پر جائزہ لیا گیا تو ہر بھرتی اور ترقی کا میرٹ پر فیصلہ ہوگا، چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے مزید ریمارکس دیئے کہ انہیں کسی کا ڈر نہیں، ہر قیمت پر میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا لیکن آئینی درخواست کے ذریعے اس معاملے پر فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، درخواست گزار نے استدعا کی کہ انہیں انتظامی طورپر درخواست دینے کے لئے مہلت دی جائے جس پر عدالت نے مزید سماعت 23جون تک ملتوی کر دی ہے۔

مزید : صفحہ آخر