برطانیہ انتخابات ، حکمران جماعت اکثریت سے محروم، حکومت سازی کیلئے ڈی یو پی سے معاہدہ طے

برطانیہ انتخابات ، حکمران جماعت اکثریت سے محروم، حکومت سازی کیلئے ڈی یو پی ...

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے الیکشن میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد پانچویں نمبر پر آنیوالی جماعت ڈی یو پی سے حکومت سازی کا معاہدہ کرلیا ہے۔برطانیہ میں ہونیوالے حالیہ انتخابات میں کنزرویٹیو پارٹی نے 650 میں سے 318 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے پاس سادہ اکثریت کیلئے مطلوبہ 326 ارکان کی حمایت حاصل نہیں، جسکے لیے پارٹی نے ایک اور جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) سے شراکت اقتدار کے حوالے سے رابطے کئے ہیں۔ڈی یو پی نے حالیہ انتخابات میں 10 نشستیں اپنے نام کی ہیں، دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان حکومت سازی کیلئے معاملات طے پاگئے ہیں۔ اسی بنیاد پر تھریسا مے نے اپنی پارٹی سے استعفے کیلئے اٹھنی والی آوازوں پر کان دھرنے کے بجائے ملکہ برطانیہ سے ملاقات کرکے حکومت سازی کی اجازت حاصل کرلی ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تھریسا مے نے دوبارہ حکومت بنانے کا اعلان کیا اور کہا بریگزٹ کے معاملے پر بات چیت دس دن کے اندر شروع کردی جائے گی۔دوسری جانب لیبر پارٹی ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے جس کے ارکان کی تعداد 261 ہے، ایوان زیریں میں تیسری بڑی سیاسی قوت اسکاٹش نیشنل پارٹی ہے جس نے 35 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی نے لیبر پارٹی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد دونوں جماعتوں کے مجموعی ارکان کی تعداد 296 ہوجائے گی۔ لیبر پارٹی نے اس کے علاوہ دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے دارالعوام میں اکثریت نہ ملنے کے باوجود بکنگھم پیلس میں ملکہ برطانیہ سے حکومت سازی کیلئے اجازت طلب کی ہے۔اطلاعات کے مطابق تھریسامے کی ملکہ کیساتھ ملاقات 20 منٹ جاری رہی۔ ملاقات کے بعد وہ واپس ڈاؤننگ سٹریٹ روانہ ہو گئیں جہاں انھوں نے پریس بریفنگ میں کہا کہ وہ حکومت سازی کر رہی ہیں اور ان کی حکومت بے یقینی کو ختم اور ملک کو محفوظ بنانے کیلئے کام کرے گی۔ کنزرویٹو اور ڈی یو پے مل کر کام کریں گے اور کئی سالوں سے دونوں جماعتوں کے خاص تعلقات ہیں۔بریگزٹ کے پرانے ٹائم ٹیبل پر بات چیت جاری رہے گی۔انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ بریگزٹ مذاکرات میں ملکی مفادات کا تحفظ کریں گی اور برطانوی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالیں گی۔جبکہ لیبر جماعت کے سربراہ جیریمی کوربن نے تھریسامے سے کہا ہے کہ وہ حکومت سازی سے دستبردار ہو جائیں اور لیبر جماعت حکومت سازی کیلئے تیار ہے۔ادھر لبرل ڈیموکریٹک رہنما ٹم فیرن کا کہنا ہے انھیں 'شرمندہ ہونا چاہیے' اور 'اگر ان میں ایک اونس بھی اپنی عزت ہے تو' انھیں مستعفی ہونا چاہیے۔تھریسامے نے جب انتخابات کا اعلان کیا تھا اسوقت کے مقابلے میں اب انھیں 12 نشستیں کم حاصل ہوئی ہیں اور انھیں حکومت سازی کیلئے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔

برطانیہ انتخابات

مزید : صفحہ اول