پاکستان ، بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت مل گئی ، آئیے ، اچھی ہمسائیگی کا 5سالہ معاہدہ کر لیں : نواز شریف

پاکستان ، بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت مل گئی ، آئیے ، اچھی ...

آستانہ ( مانیٹرننگ ڈیسک 228 ایجنسیاں )پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت مل گئی ہے اور وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اسے تاریخی لمحہ قرار دیا ہے ۔، پاکستان کے ساتھ بھارت بھی تنظیم کا رکن بن گیا ہے۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والی تقریب میں شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت کی دستاویزات پر دستخط کئے۔اس موقع پر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھارت کو بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت ملنے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو مبارک باد پیش کی۔وزیر اعظم کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج تاریخی دن ہے، پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم میں مکمل رکن کی حیثیت سے شامل ہوگیا ہے۔ امن وامان کی صورتحال اور معیشت بہتر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں،دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں مل کرآگے بڑھنے کیلئے ایس سی او انتہائی اہم پلیٹ فارم ہے۔ ایس سی او رکن ملکوں کے درمیان اچھی ہمسائیگی کا آئندہ 5 سال کے لیے معاہدہ ہونا چاہیے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں حصہ لیا، پاکستان میں امن وامان کی صورتحال اور معیشت بہتر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم ترقی کیلئے امن اور باہمی اعتماد فراہم کر نے کا پلیٹ فارم ہے شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں پاکستان اور بھارت کے مستقل رکن بننے کے حوالے سے علیحدہ اعلامیہ جاری ہوا جس پر تمام رکن ممالک نے دستخط کئے۔وزیر اعظم نواز شریف اور نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی ۔،افغان صدر اشرف غنی نے پاک بھارت وزرائے اعظم کو مبارکباد پیش کی۔واضح رہے کہ پاکستان 12 سال کے طویل انتظار کے بعد شنگھائی تعاون کونسل کا مستقل رکن بنا ہے، علاقائی تعاون کی تنظیم کی قیادت روس اور چین کر رہے ہیں۔اس سے قبل شنگھائی تعاون تنظیم کے ہر اجلاس میں پاکستان بطور مبصر شرکت کرتا تھا، تاہم اب پاکستان تمام رکن ممالک کی مشترکہ رائے سے شنگھائی تعاون کونسل کا رکن بن چکاہے۔ ، وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری خطے کے ملکوں کو قریب لائے گی ، ہمیں دہشتگردی اور غربت کا خاتمہ ، انسداد منشیات کرنا ہے ، ایس سی او مستقبل میں مختلف خطوں کے درمیان کلیدی رابطے کا ذریعہ بنے گا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نوازشریف نے مستقل رکنیت کے لیے رکن ملکوں کی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا ایس سی او مستقبل میں مختلف خطوں کے درمیان کلیدی رابطے کا ذریعہ بنے گا۔چین پاکستان اقتصادی راہداری خطے کے ملکوں کو قریب لائے گی۔ پاکستان علاقائی تعاون کے فروغ میں اپنا موثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمیں دہشتگردی اور غربت کا خاتمہ ، انسداد منشیات کرنا ہے۔ اجلاس سے قازقستان کے صدر نور سلطان نذر بایوف ، روسی صدر ولاد میر پیوٹن سمیت دیگر ممالک کے سربرا ہوں نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے سربراہ اجلاس کی میزبانی پر قازقستان کے صدر اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مکمل رکنیت کے لیے ایس سی او کے رکن ممالک کی حمایت پر شکر گزار ہیں ہم نے تنظیم کے سربراہ اجلاس اور اس کے فورمز میں مؤثر شرکت کی ہے اور ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ ہمارے گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتے ہیں۔ پاکستان ایس سی او کے چارٹر اور شنگھائی اسپرٹ پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے ، انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایس سی او رکن ممالک کے درمیان اچھی ہمسائیگی کا آئندہ 5 سال کے لیے معاہدہ ہونا چاہیے۔وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ایس سی او مستقبل میں مختلف خطوں کے درمیان کلیدی رابطے کا ذریعہ بنے گا۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا اور مل کر آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

نوز شریف ۔شنگھائی تعاون تنظیم

آستانہ ( مانیٹرنگ ڈیسک 228 ایجنسیاں )وزیراعظم نواز شریف اور روسی صدر ولادیمیرپیوٹن کی درمیان قازقستان کے درالحکومت آستانہ میں ملاقات ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی۔ولاد یمیرپیوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم کامستقل رکن بننے پر وزیر اعظم نوازشریف کو مبارکباد دی۔اس سے پہلے آستانہ میں ایس سی او کے 17ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان مختصر ملاقات ہوئی تھی ۔وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی عشائیے کے دوران ایک دوسرے کے سامنے آئے تو مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے ملاقات کی جس میں وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو مسئلہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، پاکستان میں براہ راست اور افغانستان کے ذریعے بالواسطہ بھارتی مداخلت اور دہشتگردی سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا جبکہ خطے کی صورت حال اور دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،۔ ملاقات کے دوران خطے کی صورت حال اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو مسئلہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، پاکستان میں براہ راست اور افغانستان کے ذریعے بالواسطہ بھارتی مداخلت اور دہشتگردی سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان سے ملاقات بہت اچھی اور مثبت رہی تاہم ملاقات کی تفصیلات نہیں بتائی جاسکتی۔وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کی جانب سے پاکستا ن پر لگائے جانیوالے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں قیام امن اور خوشحالی کیلئے دونوں ملکوں کو ملکر اقدامات کرناہوں گے ، آئیں ملکر کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں،بات چیت کے ذریعے تمام مسائل حل کئے جا سکتے ہیں ،پاکستان پر الزامات کے بجائے ٹھوس ثبوت فراہم کئے جائیں بھر پور کارروائی کریں گے ، ملا فضل اللہ جیسے لوگ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ پاکستان خو دہشت گردی کا شکار ہے۔ وزیراعظم نواز شریف سے افغان صدر اشرف غنی نے ملاقات کی دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا دورانیہ 30منٹ تھا تاہم یہ ملاقات 1گھنٹہ سے زائد تک جاری رہی۔ دونوں سربراہان مملکت کے درمیان اس طویل ملاقات میں انسداد دہشت گردی، خطے کی صورتحال ، پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے سمیت دیگر امورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاباہمی تجارت کے فروغ و تعاون پر بھی بات چیت ہوئی ۔ نواز شریف نے افغان صدر اشرف غنی سے کہا کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہونے والا ملک پاکستان ہے ہمیں بہت زیادہ دہشت گردی کا سامنا ہے پڑوسی ملک افغانستا ن کو پاکستان پر بے بنیادالزامات نہیں لگانے چاہےئے بے بنیاد الزامات کے بجائے پاکستان کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنے چاےئے پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے لہذا دونوں ممالک اپنے تمام معاملات کو بات چیت و افہام تفہیم کے ساتھ بہتر طور پر حل کر سکتے ہیں ۔وزیر اعظم نے افغان صدر کو خطے میں قیام امن اور خوشحالی کیلئے دہشت گردی کیخلاف موثر کارروائی کیلئے پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ آئیں دونوں مل کر دہشت گردی سے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔ بعد ازاں وزیر اعظم نے میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغان صدر سے ملاقات بہت اچھی اور تعمیری رہی جس میں تجارت بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ ملاقات کے بعد افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم نوازشریف باہر آئے تو ایک صحافی کے سوال پر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا تاہم ہماری ملاقات ہمیشہ کی طرح اچھی رہی۔ اشرف غنی نے دہشت گردی سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا ملاقات کے دوران افغان صدر نے وزیراعظم کو تحفہ پیش کیا جو انہوں نے قبو ل کر لیا ۔ ٗوزیر اعظم نواز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس بات پر اتفاق کیاکہ خطے ہ اور دنیا میں امن ہر ملک کے بہترین مفاد میں ہے ۔ وزیر اعظم نے کہااقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے دیرینہ تنازعہ سمیت دور حاضر کے تمام چیلنجوں پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرے ٗوزیر اعظم نواز شریف پاکستان عالمی برادری کا ایک اہم رکن اور اقوام متحدہ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے ٗ سیکرٹری اقوام متحدہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل رکن بننے پر مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان عالمی برادری کا ایک اہم رکن اور اقوام متحدہ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت ایک اہم سنگ میل اور پاکستانی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے دیگر رکن ملکوں کے ساتھ قریبی تعاون اور مستحکم تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔ ۔ نواز شریف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کوششوں کو سراہا اور ریاستوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے مابین امن و تعاون کے ایجنڈے کو آگے لے جانے کی غرض سے باہمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے سیکرٹری جنرل کے مطالبہ کی حمایت کی۔ سیکرٹری جنرل نے 37 سال سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان کے کردار کو سراہا۔

مزید : صفحہ اول