سپریم کورٹ پر حکومتی پارٹی کے حملے کا خدشہ ، عدالت کا دفاع کرنے کیلئے کارکن تیارر ہیں : عمران خان

سپریم کورٹ پر حکومتی پارٹی کے حملے کا خدشہ ، عدالت کا دفاع کرنے کیلئے کارکن ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،صباح نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کے بیانات سے اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ لوگ سپریم کورٹ پر حملہ بھی کریں گے لہٰذاپارٹی ورکرز کو تیار رہنے کی کال دے دی کیونکہ ہم سڑکوں پر نکل کر سپریم کورٹ کا دفاع کریں گے، مسلم لیگ(ن) اور نواز شریف کیلئے مزید خطرناک ہونے والا ہوں۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کی موجودگی میں جے آئی ٹی کام نہیں کر سکتی لہٰذاسپریم کورٹ جے آئی ٹی کی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم سے استعفیٰ لے۔ عمران خان نے کہا کہ موٹو گینگ میں نئے نئے فنکاروں کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور پاناما کیس کی جے آئی ٹی پر حملے بھی بڑھتے جا رہے ہیں جس میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے اور جے آئی ٹی پر حملے کا مطلب سپریم کورٹ پر حملہ ہے کیونکہ یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ لوگ جے آئی ٹی کو متنازعہ بنائیں گے اور پھر اس کا بائیکاٹ بھی کر سکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ جے آئی ٹی کو اتنا متنازعہ بنا دیا جائے کہ یہ لوگ ایک بار پھر بچ جائیں جیسے پہلے بچتے آئے ہیں،انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے بھی سپریم کورٹ کو کہا ہے کہ راستے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں جب کہ ایس ای سی پی کاچیئرمین اسحاق ڈار کا آدمی ہے اور ان کے خلاف حدیبیہ پیپر مل کا مقدمہ بھی ہے لہٰذاوہ کس طرح سے ان کے خلاف بیان دے گا۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)والے حسین نواز کو مظلوم بچہ بنا کر پیش کر رہے ہیں مگر حسین نواز 45سال کا ہے اور اس نے 2شادیاں کر رکھی ہیں جبکہ اس کے خلاف اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے کیسز ہیں۔ یہ لوگ جے آئی ٹی سے اس لئے ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا سارا سچ سامنے آ جائے گا، میں نے تو سپریم کورٹ میں بنی گالہ کی اراضی کے سارے خریدو فروخت کے کاغذات پیش کر دیئے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے تو پیش کیسے کریں۔عمران خان نے شیخ رشید کے ساتھ پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر پیش آنے والے واقعہ کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب (ن)لیگ نے پہلے سے پلان کیا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں ن لیگ کے لیے اور نواز شریف کے لیے مزید خطرناک ہونے والا ہوں ۔عمران خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے کارکن نہیں ہوتے بلکہ ان کی پنجاب پولیس ہوتی ہے۔عمران خان نے اس موقع پر رکن اسمبلی جمشید دستی کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی۔

مزید : صفحہ اول