سعودی عرب سمیت 4ممالک نے 59شخصیات ، 12اداروں پر پابندی لگا دی

سعودی عرب سمیت 4ممالک نے 59شخصیات ، 12اداروں پر پابندی لگا دی

واشنگٹن، ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )امریکی انٹیلی جنس اداروں اور محکمہ خزانہ کی جاری رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قطر کے حکمران آل ثانی خاندان کے افراد دہشت گرد تنظیموں کی معاونت اور القاعدہ جیسے گروپوں کو بھاری مدد، قطر میں پناہ وتحفظ دینے میں ملوث پائے گئے ہیں جبکہ سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے مشترکہ طور پر 59 شخصیات اور 12 اداروں پر دہشتگردی کیلئے سرمایہ اور قطر سے امداد لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر پابندی لگا دی ہے ۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اور وزارت خزانہ کی دستاویزی رپورٹس میں بتایا گیا ہے قطر کے حکمراں آل ثانی خاندان کے افراد اپنے سیاسی اثرو رسوخ کی بنیاد پردہشت گرد تنظیموں کی براہ راست معاونت ،اپنے ہاں پناہ ، ایجنڈے کو دوسرے ملکوں تک پہنچانے میں مدداور انہیں ہرطرح کی سہولت فراہم کرتے رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق قطری وزیر اوقاف و مذہبی امور وزیر داخلہ عبداللہ بن خالد بن حمد آل ثانی نے قطر میں قائم اپنے نجی فارم ہاؤس میں 100 شدت پسندوں کو پناہ مہیا کی، ان میں افغانستان میں لڑنے والے جنگجو بھی شامل ہیں۔ انہیں دوسرے ملکوں کے سفر کیلئے پاسپورٹس فراہم کیے گئے۔ ان میں سرفہرست القاعدہ کے خالد شیخ محمد اور دیگر شامل ہیں۔ قطری وزارت مذہبی امور براہ راست ان شدت پسندوں کی مالی مدد بھی کرتا رہا ہے۔حکمراں خاندان کی ایک اور شخصیت عبدالکریم آل ثانی پر عراق میں القاعدہ کے کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی کو پناہ دینے اور 2002ء میں اسے افغانستان سے عراق منتقل کرنے میں مدد فراہم کی اور ساتھ ہی اسے شمالی عراق میں اپنی تنظیم کے قیام کیلئے ایک ملین ڈالر کی رقم بھی مہیا کی گئی۔ادھر سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے عزم کی خاطر متحد ہیں تاکہ اسے سرمایہ فراہم کرنیوالے سوتے بند کرنے سمیت دہشت گردی کو شکست دی جا سکے ،اس ضمن میں مذکورہ ریاستوں نے 59 شخصیات اور 12 اداروں کو دہشت گردوں کی فہرستوں میں شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس فہرست میں اضافہ

وقتا فوقتا کیا جاتا رہے گا۔پابندیوں کا شکار بننے والے اکثریتی اداروں کا تعلق قطر سے ہے جو بقول بیان دوحہ کی دوہری پالیسی کا مظہر ہے۔

مزید : صفحہ اول