میئر کراچی کی قیادت میں بلدیاتی نمائندوں کا سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرہ،اپوزیشن کا واک آؤٹ

میئر کراچی کی قیادت میں بلدیاتی نمائندوں کا سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی ...

کراچی (این این آئی)میئرکراچی وسیم اختر کی قیادت میں شہر کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے جمعہ کو سندھ اسمبلی کے باہر اختیارات کے حصول اور بجٹ میں بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے مجوزہ ترقیاتی سکیمیں نہ رکھنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر’’ میگاپروجیکٹ سے غیر منتخب علاقائی نمائندوں کی اسکیمیں منظورکرانا نامنظور ،کراچی کے شہریوں کے ساتھ ظلم و انصافی نامنظور،کے ایم سی کا معاشی قتل عام بند کرو ،سندھ کا بجٹ نامنظور‘‘ اور دیگر نعرے درج تھے ۔بلدیاتی نمائندوں نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی ۔احتجاج کے دوران اسپیکر آغا سراج درانی کی صدرات میں سندھ اسمبلی کا اجلاس بھی جاری تھا ،جس پر پولیس نے کبوتر چوک پر قائم اسمبلی کی طرف جانے والے دونوں دروازے بند کردیئے اور مظاہرین کو باہر ہی روک دیا ۔اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری اسمبلی کے باہر موجود تھی ۔ تفصیلات کے مطابق اختیارات کے حصول اور بجٹ میں بلدیاتی نمائندوں کی جاب سے مجوزہ ترقیاتی اسکیمیں نہ رکھنے کے خلاف مئیرکراچی وسیم اختر کی قیادت میں سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ شہریوں کے مسائل کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے اور سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہیں گے۔ ہمیں کچرے سے صاف کراچی چاہئے، حکومت نے جو 416 ملین روپے دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اسے پورا کرے، کے ایم سی کے مالی حالات بہت خراب ہیں۔ ہم پہلے ان سے نمٹ لیں پھر کے الیکٹرک کی باری ہے، اووربلنگ اور لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک کو ٹرپ کردیں گے۔وسیم اختر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کو پلاننگ کے تحت تباہ کر رہی ہے۔ بجٹ میں کراچی کے لئے کچھ نہیں رکھا گیا ہے، پرامن احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے۔ سندھ اسمبلی کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں۔ سندھ حکومت اتنی ڈری ہوئی ہے کہ احتجاج بھی نہیں کرنے دیتی۔ آج ہمیں تالے لگائے جا رہے ہیں، کل تالے لگانے والوں کو تالے لگیں گے۔دوسری جانب سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا تو ایم کیو ایم کے رکن سید سردار احمد نے اسپیکر سے درخواست کی اور کہا کہ سندھ اسمبلی کے باہر مئیر اور دیگر منتخب نمائندے احتجاج کررہے ہیں۔ کوئی حکومتی وزیر ان سے جاکر ملے تو بہتر ہوگا اور مئیرکراچی سے بات چیت کریں۔ شاید مسئلے کا حل نکل آئے۔ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ایم کیو ایم کے میئر کے ساتھ تمام جماعتوں کے بلدیاتی نمائندے احتجاج کر رہے ہیں ۔بجٹ میں میئر کراچی کی ایک اسکیم بھی نہیں رکھی گئی ہے ۔ہم حکومت کو بتائیں گے کہ مظاہرہ کیا ہوتا ہے یہ مظاہرہ تو کچھ بھی نہیں۔جمہوریت میں دروازے بند نہیں کئے جاتے،خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اسمبلی کی اکثریت کی بنیاد پراپوزیشن کی تمام تقاریر ارو تجاوزیر مسترد کردیتی ہے ۔احتجاج کرنے والوں نے ایک دن میں یہ کام نہیں کیا ۔میئر کراچی نے اسکیمیں وزیراعلیٰ کو دیں لیکن وزیراعلیٰ سندھ نے ایک بھی اسکیم منظور نہیں کی ۔ایوان کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے ۔یہ ایوان عوام کا ہے ۔میئر ،ڈپٹی میئر ہزاروں منتخب نمائندوں کے ساتھ باہر احتجاج پر ہوہم یہاں بیٹھ کر حکومت کی تقاریر سنیں یہ ہم سے نہیں ہوگا۔جس پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ سیکیورٹی کی وجہ سے دروازے بند کئے گئے ہیں ۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اگر میئر کراچی سے سیکیورٹی خدشات ہیں تو پھر وزیر اعلی سے بھی خدشات ہونے چاہئیں ۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ جس اسمبلی نے پاکستان کی قرارداد منظور کی اس کے خلاف ایک ادارہ احتجاج کررہا ہے، دنیا میں کسی جگہ اسمبلی کے خلاف احتجاج نہیں ہوتا، اگر احتجاج کرنا مقصود ہے تو حکومت کے خلاف کیا جائے۔اسپیکر سند ھاسمبلی آغا سراج درانی نے کہا کہ احتجاج کرناچاہئے لیکن اسمبلی کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کے خلاف کیاجاتاہے ۔حکومت نے پرامن احتجاج کرنے سے کسی کو نہیں روکا ۔جس معاملے پر احتجاج ہورہاہے اس پر ایوان میں بات کی جاسکتی ہے ۔ایوان میں بات کرنے کے بجائے اسمبلی کی گیٹ پر کھڑے ہوکر احتجاج کرنامناسب نہیں ۔ایوان میں بیٹھ کر ارکان آوازیں لگاتے ہیں اور طبلے بجاتے ہیں ۔میں نے میئر کراچی کو سندھ اسمبلی آنے پر خوش آمدید کہا تھا۔اسمبلی کی وقعت کو کم نہ کیا جائے ۔

میئر کراچی

مزید : صفحہ اول