قومی اسمبلی ،اجلاس مچھلی منڈی بن گیا،حکومت اور اپوزیشن میں شدید نعرہ بازی

قومی اسمبلی ،اجلاس مچھلی منڈی بن گیا،حکومت اور اپوزیشن میں شدید نعرہ بازی

اسلام آباد (آن لائن، این این آئی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی تقریر پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے شور شرابے کے باعث سپیکر سردار ایاز صادق کو اجلاس کچھ دیر کیلئے ملتوی کر نا پڑا۔متحدہ اپوزیشن نے شیخ رشید پر حملہ کرنے والے ملزم کی تصاویر وزیر اعظم نواز شریف ‘ شہباز شریف اور دیگر مرکزی قیادت کے ساتھ ایوان زیریں میں لہرا دیں ۔قومی اسمبلی میں ہنگامہ حکومت اور اپوزیشن کے نازیبا الفاظ ۔ گو نواز گو گلی گلی میں شور ہے نواز شریف چور ہے حکمران جماعت کی جانب سے بھی زرداری کے خلاف نعرے بازی ایوان مچھلی منڈی بن گیا ۔ سپیکر کے لئے ایوان چلانا مشکل ہو گیا تو انہوں نے اجلاس کو پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کو ایوان زیریں کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم یہ حلف اٹھاتے ہیں کہ ذاتی مفادات کی بجائے ملکی مفادات کو ہی اہمیت دیں گے آئین کے تحت جو لوگ بھی حلف اٹھاتے ہیں ان کا اہم کردار ادا کرتے ہیں ریاست کو چلانے کے لئے آئین نے ایک طریقہ دیا ہے حکومت بھی پارلیمنٹ کے تابع ہوتی ہے اور جواب دہ ہوتی ہے کبھی آمر آتے ہیں اور لوگ ان کو نکال باہر بھی کرتے ہیں آمریت کے فیصلوں کی وجہ سے ہی ملک دولخت ہوا اور عوامی بات کو ترجیح نہیں دی جاتی تھی اور ون مین ون شو ہوتا ہے ہمیں بڑی خوشی تھی کہ پانچ سال جمہوریت کے بعد اقتدار ایک جمہوری حکومت کو دیا جس پر سب نے بیٹھ کر ڈھول بجایا اور خوشیاں منائیں ابھی چار سال گزر گئے ہیں اور اتار چڑھاؤ بھی آتے رہے ہیں کبھی پارلیمنٹ فیصلوں کے لئے یکجا ہو گئی کبھی کسی کو فیصلے اور اپنی منوانے کے لئے سڑکوں پر آنا پڑا ہے کل کا جو واقعہ پیش آیاہے وہ انتہائی غیر منصفانہ اور غلط رویہ تھا دونوں سائیڈوں پر بیٹھے ہوئے ممبران کی حیثیت ایک جیسی ہوتی ہے اسی شخص نے اگر 21 سال پہلے کچھ قرضہ دیا تھا اور وہ واپس لینا بھی تھا تو اس کا یہ طریقہ کار نہیں ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آ گیا ہے اس کو اتنی جرات کس نے دی ہے وہ شخص پہلے پاس کے بغیر ہی آیا تھا لیکن جب یہ مسئلہ اٹھایا گیا تواس کے فوری بعد اس کا پاس بنا دیا گیا ۔ خورشید شاہ نے ملک نور اعوان کی نون لیگ کے رہنماؤں وزیر اعظم اور صدر کے ساتھ بنائی ہوئی تصویر میں بھی دکھائیں جس کے بعد ایوان مچھلی بازار بن گیا ۔ اپوزیش نے شیم شیم کے نعرے لگائے جس پر میاں منان نے کہاکہ شیخ رشید کی تصویر وزیر اعظم کے ساتھ بھی ہے جس پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ کچھ لوگوں کی تصویر ضیاء الحق کے ساتھ بھی ہے جس پر حکومتی اراکین عابد شیر علی نے کہاکہ آپ کی عزیر بلوچ کے ساتھ تصویر ہے ۔خورشید شاہ کے اس بیان پر عابد شیر علی کھڑے ہو گئے اور شیم شیم کے نعرے لگانا شروع کر دیئے اور دیگر اراکین نے بھی شور شرابہ شروع کردیا۔جس پر خورشید شاہ نے کہا کہ میں ایک پارلیمنٹ کے ممبر کا کیس لڑ رہا ہوں جب عابد شیر علی کے ساتھ پرویز مشرف نے زیادتی کی تو بھی ہم نے احتجاج کیا تھا ۔خورشید شاہ نے کہا کہ یہ حکومت ہی ایسی راہیں ا ور موقع دیتے ہیں کہ ہم ایسی بات کرتے ہیں تمام لوگ ڈکٹیٹر کے ذریعے ہی ملک میں واپس آئے تھے ورنہ کوئی بھی نہیں آ سکتا تھا جب شہباز شریف لاہور میں آئے تھے تو کتنے لوگ ان کو لینے کے لئے ایئرپورٹ پرموجود تھے ان میں سے زیادہ لوگ پی پی کے تھے جب لندن میں کچھ لوگوں نے نعرہ لگایا نواز شریف قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں تو انہوں نے کہا کہ دفعہ ہو جاؤ ۔جس پر عابد شیر علی نے کہا کہ عزیر بلوچ ‘ آیان علی اور میرے باپ کو کلاشنکو ف کے کیس میں حوالات میں بند کر دیا گیا تھا آپ سب لوگ چور ہو جس پر پی پی پی راہنما اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ آپ کا باپ جمعہ داروں کے بھی پیسے کھا گیا تھا ایسا مظلوم طبقہ جو ماہانہ چند سو روپے کماتا ہے اس کے پیسے بھی کھا گیا تھا جس پر عابد شیر علی آپے سے باہر ہو گئے اور ہاتھوں کے اشاروں سے اور زور زور سے عزیر بلوچ ‘ عزیر بلوچ کہا جس پر خورشید شاہ نے کہا کہ جب عابد شیر علی کے باپ کے ساتھ زیادتی ہوئی تب بھی ہم نے احتجاج کیا اور اس کے خلاف کھڑے ہوئے جس پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ فوری طور پر اس پر ایکشن لیا اور اس شخص کو گرفتار بھی کرایا ۔ اور رات 11 بجے تک وہ شخص حوالات میں تھاخورشید شاہ نے جمشید دستی کی گرفتاری کو بھی غلط ہے اور کہا کہ اگر آپ کی اجازت سے گرفتاری ہوئی ہے تو پھر ٹھیک ہے ورنہ یہ غلط قدم ہے اگر یہی رویہ رکھا گیا تو یہاں کوئی بات ہی نہیں کر سکتا ۔ایوان میں ہنگامہ پربا ہونے پر اسپیکر نے وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب سے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مجھے سارجنٹ کو بلانا پڑیگا جس پر شیخ آفتاب نے حکومتی ارکان کو بٹھانے کی کوشش کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے عابد شیر علی کے دھمکی آمیز انداز گفتگو پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور ماحول میں تلخی پر ایوان کی کارروائی 15 منٹ کیلئے ملتوی کر کے اپوزیشن لیڈر اور وفاقی وزراء کو اپنے چیمبر میں بلا لیا۔

اسلام آباد(این این آئی) سینیٹ نے قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل 2017ء متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا ۔جمعہ کواجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے تحریک پیش کی کہ تمام تعلیمی اداروں میں مسلمان طلباء کیلئے قرآن پاک کی تعلیمات کو لازمی پڑھانے کیلئے قانون وضع کرنے کا بل قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل 2017ء قومی اسمبلی کی منظور کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے ٗصدر نشین نے بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔اجلاس کے دور ان پوسٹ آفس (ترمیمی) بل 2017ء متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ وزیر قانون زاہد حامد نے تحریک پیش کی کہ پوسٹ آفس ایکٹ 1898 میں مزید ترمیم کرنے کا بل پوسٹ آفس (ترمیمی) بل 2017ء قومی اسمبلی کی منظور کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ صدر نشین نے ایوان کی رائے حاصل کرنے کے بعد بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔اجلاس کے دور ان عوامی اہمیت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمان کے اندر ایک شخص نے شیخ رشید کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور پارلیمان کی سیکیورٹی پر مامور عملہ کھڑا دیکھتا رہا۔ اس واقعہ کا نوٹس لیا جائے۔ یہ کسی ایک ایوان کا نہیں‘ سینٹ کا بھی معاملہ ہے۔ صدر نشین نے یہ معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔قائد حزب اختلاف کے عوامی اہمیت کے معاملے پر جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا کہ کل جیسے ہی شیخ رشید کے ساتھ یہ واقعہ ہوا اس کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمر کو اس واقعہ پر سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان فوری طور پر شیخ رشید سے ایوان میں ملے اور ملزم کو تحویل میں لے کر اس کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزم کو عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔اجلاس کے دور ان وزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمان نے تحریک پیش کی کہ غیر قانونی بے دخلی ایکٹ 2005ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل غیر قانونی بے دخلی (ترمیمی) بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔ صدر نشین نے بل کی شق وار منظوری حاصل کرنے کے بعد حتمی منظوری کے لئے بل ایوان میں پیش کیا۔ ایوان بالا نہ اتفاق رائے سے بل کی منظوری دے دی۔دوسری طرف شیری رحمن نے لیڈی سینیٹر کہنے پر احتجاج کیا ہے ۔ جمعہ کو اجلاس کے دور ان وزیر قانون زاہد حامد نے ماحولیات کے حوالے سے سینیٹر شیری رحمن کے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے متعدد بار شیری رحمن کا لیڈی سینیٹر کے طور پر ذکر کیا جس پر شیری رحمن سیخ پا ہوگئیں اور احتجاج کیا کہ انہیں لیڈی سینیٹر کیوں کہا جارہا ہے ٗیہ تفریق نہیں ہونی چاہیے جس کے بعد وزیر قانون نے انہیں صرف فاضل سینیٹر ہی کہا تاہم وزیر قانون کی تقریر کے بعد وہ اپنی نشست پر کھڑی ہوگئیں اور ایک بار پھر احتجاج کیا کہ انہیں خاتون سینیٹر کیوں کہا گیا وزیر قانون نے وضاحت کی کہ اعتراض کے بعد انہوں نے ایک بار بھی خاتون سینیٹر نہیں کہا۔

مزید : صفحہ اول