جیمز کومی کی ٹرمپ پر ایک اور اخلاقی برتری

جیمز کومی کی ٹرمپ پر ایک اور اخلاقی برتری

واشنگٹن (اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی انتخابات میں روسی کنکشن کی غیر جانبدارانہ تحقیقا ت کرنے کی پاداش میں برطرف کئے جانیوالے ڈائریکٹر ایف بی آئی جیمز کومی نے سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے روبرو ااپنی غیر معمولی شہادت سے جہاں ٹرمپ کا پول کھول دیا وہیں جیمز کومی کے تفصیلی بیان اور بعد میں سوالات اور جوابات کے سیشن سے ایک بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے ایک ذمہ دار اور جراتمند افسر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیئے اور اپنی برطرفی کا بدلہ لینے کیلئے صدر ٹرمپ پر کوئی ایسا ملبہ نہیں ڈالا جس کی ذمہ داری ان پر نہیں آتی تھی۔ تفتیش کے بارے میں بھی انہوں نے سچائی بیان کی اور اس فورم پر پہلی مرتبہ یہ بتایا گیا کہ ا یف بی آئی یا دوسری ایجنسیوں کی تفتیش کے مطابق ابھی تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ روس نے انتخابی نتائج میں رد و بدل کیا ہو، تاہم انتخا با ت میں ایسی مداخلت کے شواہد سامنے آئے ہیں جن کے نتیجے میں ہیلری کلنٹن اور ڈیمو کریٹک پارٹی کا امیج خراب ہو اور بلاواسطہ طور پر ٹر مپ کو فائدہ پہنچے۔ ڈیمو کریٹک نیشنل کمیٹی کی داخلی خط و کتابت افشاء ہونے سے ثبوت ملا کہ پارٹی ہائی کمان کی ہمدردیاں ہیلری کلنٹن کیسا تھ ہیں اور وہ اسے پارٹی ٹکٹ دلانے کی جدوجہد کررہی ہے، اسی طرح سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سرکاری ای میل ہیلری کلنٹن کے ذاتی کمپیو ٹر پر موصول ہونے کے بارے میں حقائق کو بھی ہیک کرکے حاصل کرنے کا کام مبینہ طور پر روس نے کیا جس کا ہیلری کے متوقع ووٹرز پر منفی اثر پڑا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ذاتی اٹارنی مارک کیسووز کے ذریعے اس گواہی کا جو جواب دیا اس میں حقائق کو جھٹلانے کی بجائے سارا زور اس بات پر تھا کہ ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر نے غیر قانونی طور پر کلاسیفائیڈ انفارمیشن کو افشاء کیا ہے۔اس سارے عمل کا اہم پہلو یہ ہے کہ سینیٹ کمیٹی کے چیئر مین اور وائس چیئرمین صدر ٹرمپ کی حکمران جماعت سے متعلق ہیں لیکن احتساب اور انصاف کی خاطر اصل حقائق جاننے کیلئے وہ صدر کا ذرا لحاظ نہیں کررہے۔ امریکہ کا صدر اپنے ماتحت محکمہ انصاف کے تحت قائم ایجنسی ایف بی آئی کے سربراہ سے رعایت کیلئے اس سے بار بار درخواستیں کررہا ہے یہ الگ بات ہے کہ ایک دیانت دار اور ذمہ دار افسر کو متاثر کرنے میں ناکامی کے بعد انہوں نے برطرفی کی بد نامی مول لی اور اس افسر کو انٹیلی جنس کمیونٹی کا ہیرو بنادیا، یہ ایک اور ثبوت ہے کہ جب وسیع تر قومی مفاد کا معاملہ ہو تو اس پر دونوں بڑی جماعتیں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک جمع ہو جاتی ہیں چاہے پھر اس کی زد میں ملک کا صدر ہی کیوں نہ آجائے۔ جمعرات کو صبح دس بجے کارروائی کے آغاز پر جمیز کومی نے اپنا بیان دیااور پھر سوالات کے جوابات دیئے، جیمز کومی نے بتایا انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر نامزد ہوئے اور عہدہ سنبھالنے کے بعد کے اوقات میں ان کیساتھ انٹر ایکشن کے موضوع پر اظہار خیال کریں تاہم وہ ساری تفصیل کی بجائے صرف ان پہلوؤں پر بات کررہے ہیں جن میں کمیٹی کو دلچسپی ہوسکتی ہے۔ جیمز کومی نے بتایا وہ نامزد صدر سے نیویارک کے ٹرمپ ٹاور میں سب سے پہلے چھ جنوری کو ملے جہاں انہیں اور ان کی نیشنل سکیورٹی ٹیم کو انٹیلی جنس کمیٹی کے ان نتائج سے آگاہ کیا جو اس نے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کی کوششوں کے حوالے سے تیار کی تھیں بعد میں جیمز کومی نے نامزد صدر کو تنہائی میں انٹیلی جنس نتائج کے حساس حصوں سے آگاہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کچھ معاملات کی ابھی تصدیق باقی تھی تاہم انٹیلی جنس کمیونٹی نے یہ ضروری سمجھا کہ آنیوالے صدر کو صحیح صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ یہ ذمہ داری میں نے قبول کی تھی کیونکہ نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کی رائے میں ایف بی آئی ڈائریکٹر کی حیثیت سے مجھے یہ کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے نامزد صدر کیساتھ جو پہلی ملاقات کی تھی اسے ’’ڈاکو منٹ‘‘ کرنے کیلئے میں نے مجوس کیا کہ مجھے ایک میمو جاری کرنا چاہئے۔ جیمز کومی نے بتایا انہوں نے صدر ٹرمپ کی دعوت پر 27 جنوری کی شام ان کیساتھ ڈنر کیا اور میری توقع کیخلاف اس ملاقات کے وقت کوئی اور وہاں موجود نہیں تھا۔ صرف نیوی کے دو سٹیوارڈ کھانا دینے کیلئے اندر آتے تھے۔ صدر ٹرمپ نے گفتگو کا آغاز اس سوال سے کیا کہ کیا میں ایف بی آئی کا ڈائریکٹر رہنا چاہتا ہوں جو مجھے کافی عجیب لگا کیونکہ گزشتہ ملاقاتوں میں وہ دو مرتبہ اس امید کا اظہار کرچکے تھے کہ میں اس عہدے پر موجود رہوں گا اور میں بھی جواباً انہیں بتا چکا تھا میں اپنا عہدہ برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔ اب انہوں نے کہنا شروع کیا کہ بہت سے لوگ اس عہدے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جس طرح گزشتہ برس میں نے غلط رویہ رکھا اس سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید میں یہ عہدہ چھوڑنا چاہتا ہوں۔ جیمز کومی نے بتایا میری چھٹی حس نے مجھے یہ سمجھایا کہ تنہائی کا ڈنر اور اس میں سب سے پہلے اسی سوال سے بات شروع کرنے کا مطلب کیا ہوسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اصل میں چاہتے تھے میں ان سے درخواست کروں کہ مجھے اس عہدے پر رہنے دیا جائے اور وہ مجھے اس کا وعدے کرکے میرے سرپرست کا کردار شروع کردیں اور اپنی مرضی منوائیں۔ اس سے مجھے تشویش ہوئی کیونکہ روایتی طور پر انتظامیہ میں ایف بی آئی کا کردار بہت خود مختارانہ ہوتا ہے۔ میرا جواب تھا مجھے اپنے جاب سے محبت ہے اور معمول کے مطابق میں اپنے عہدے کے دس سال پورے کرنا چاہتا ہوں لیکن میں نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ جس طرح سیاستدان سو چتے ہیں میں اس طرح کا ’’قابل اعتماد‘‘ نہیں ہوں۔ لیکن میں نے جن کیساتھ بھی کام کیا ہے انہیں پورا یقین ہوتا ہے کہ میں ہمیشہ سچ بولوں گا۔ اس پر صدر کا یہ کہنا تھا ’’مجھے وفاداری کی ضرورت ہے اور میں وفاداری کی ہی توقع رکھتا ہوں‘‘۔ اس کا میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دو سرے موضوعات پر بات ہونے کے بعد صدر ٹرمپ ڈنر کے اختتام پر پھر اسی موضوع پر آگئے۔ ایک مرتبہ میں نے انہیں واضح بھی کیا تھا کہ محکمہ انصاف اور ایف بی آئی کو وائٹ ہاؤس سے خود مختار کیوں ہونا چاہئے۔ میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ پوری تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ ملکی صدور چونکہ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ زیادہ تر مسائل ’’انصاف‘‘ سے متعلق ہوتے ہیں اسلئے محکمہ انصاف اور ان کی ایجنٹوں کو قابو میں رکھنا ضروری ہے، میں نے وفاداری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ ہمیشہ مجھ سے دیانتدار ہی پاؤ گے‘‘ انہوں نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا میں بھی یہی چاہتا ہوں ’’دیانت دارانہ وفاداری‘‘ میں نے کہا مجھ سے یہی توقع رکھنی چاہئے لیکن میری مراد وہ نہیں تھی جو ٹرمپ کے ذہن میں تھی۔جیمز کومی نے بتایا اس کے بعد دوسری ملاقات 14 فروری کو اوول آفس میں ہوئی جہاں صدر کیساتھ انسداد دہشت گردی کے بارے میں بریفنگ ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے تمام سینئر حکام کو رخصت کرکے صرف مجھے تنہائی میں بات کرنے کیلئے روک لیا، حتیٰ کہ میرے باس اور محکمہ انصاف کے سربراہ اٹارٹی جنرل جیف سیشنز کو بھی فارغ کردیا۔ جب ہم اکیلے رہ گئے تو انہوں نے کہا ’’میں مائیک فلین کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ فلین نے ایک روز قبل استعفیٰ دیدیا تھا، صدر مجھے بتا رہے تھے فلین نے رو لیول سے بات کرکے کوئی غلطی نہیں کی تھی لیکن اس سے استعفیٰ اسلئے طلب کیا گیا کیونکہ اس نے نائب صدر کیساتھ غلط بیانی کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے کلاسیفائیڈ انفارمیشن کے افشاء ہو نے کے مسئلے پر کافی لمبی چوڑی بات کی اور پھر کہنے لگے فلین اچھا آدمی ہے اسلئے آپ بھی اس کے معاملے کو جانیں دیں‘‘۔ وہ فلین کے بارے میں ایف بی آئی کی تفتیش کو ختم کرنے کی بات کررہے تھے لیکن میں نے اس کا جواب دینے کی بجائے صرف اتنا کہا فلین واقعی ایک اچھا آدمی ہے بلکہ وہ روس کنکشن کے بارے میں مکمل تحقیقات کے خاتمے کی بات کررہے تھے جس کی مجھے واضح سمجھ نہیں آئی، جیمز کومی کا کہنا تھا میرے لئے یہ بات باعث تشویش تھی کیونکہ ایف بی آئی کا ایک آزاد خود مختار تفتیشی ادارے کے طور پر بہرحال ایک کردار ہے۔ میں نے واپس آکر محکمے کے سینئر حکام سے مشورہ کیا تو سب کی رائے یہ تھی ایجنسی کو صدر کا مشورہ نہ مانتے ہوئے اپنا آزادانہ کام جاری رکھنا چاہئے، اچھا ہوا محکمے کے سربراہ اٹارنی جنرل سیشنز سے بات نہیں کی جو شاید ساتھ نہ دیتے، دو ہفتے بعد انہوں نے ٹرمپ کی حمایت میں بات کی تو کانگریس کمیٹی نے اس معاملے میں اٹارنی جنرل کا کردار ختم کردیا اور ڈی اٹارنی جنرل کو یہ کردار سونپ دیا گیا۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے جیمز کومی کو ان کے دفتر میں 30 مارچ کو فون کیا ان کا کہنا تھا روسی کنکشن کی تحقیقات ان پر چھایا ہوا ایک ایسا ’’غبار‘‘ بن گیا ہے جس کی بناء پر ان کی ملک کیلئے کام کرنیکی صلاحیت متاثر ہورہی ہے، انہوں نے اپنی صفائی پیش کی کہ ان کا روس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے نہ ہی وہ روس سے تعلق قائم کرنیوالے لوگوں سے کوئی واسطہ رکھتے ہیں۔ انہیں روس موجودگی کے دوران احساس ہوتا رہا ہے کہ ان کی بات چیت ٹیپ ہورہی ہے۔ انہوں نے مجھ پر زور دیا کہ کسی نہ کسی طرح ان کے سر پر منڈلاتا ہوا یہ ’’غبار‘‘ ہٹا دیا جائے۔ جیمز ومی نے جواب دیا ہم سارے معاملے کی تفتیش جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں اس پر صدر نے پوچھا پچھلے ہفتے کانگریس میں روس کے بارے میں سماعت ہوئی تو وہاں آ پ نے یہ کیوں تصدیق کی کہ ٹرمپ کی انتخابی ٹیم اور روس کے درمیان ممکنہ رابطے کی تفتیش کی جارہی ہے۔ جیمز کومی نے صدر کو بتایا کانگر یس کے دونوں جماعتوں سے متعلق ارکان اس امر کا مطالبہ کررہے ہیں اور سینیٹر گراسلی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی توثیق کو اسوقت تک کیلئے روک لیا تھا جب تک انہیں تحقیقات کی تفصیل نہ بتائی جائے۔ جیمز کومی نے صدر کو بتایا ہم نے کانگریس کو آگاہ کردیا تھا اسوقت ہم صدر کی ذات کے بارے میں الگ سے کوئی تفتیش نہیں کررہے، اس پر انہوں نے اصرار کیا کہ ایف بی آئی اس کے بارے میں پبلک بیان کیوں نہیں دیتی۔ جیمز کومی نے کہا انہوں نے صدر کو نہیں بتایا کہ ان کا محکمہ ایسا کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ بیان بازی کردیں اور کل کو صدر کی ذات کے بارے میں بھی تفتیش کرنی پڑ جائے، جیمز کومی نے بتایا 11 اپریل کو ایک بار پھر صدر ٹرمپ کا فون آیا کہ انہوں نے ان کے بارے میں پبلک بیان جاری کرنے کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے کہ صدر کی ذاتی طور پر کوئی تفتیش نہیں ہورہی۔ صدر کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں قائم مقام ڈپٹی اٹارنی جنرل کو یہ درخواست پہنچا دی گئی ہے لیکن ان کا ابھی تک جواب موصول نہیں ہوا۔ صدر نے کہا وہ اپنے سٹاف کو کہیں گے اس معاملے کا پیچھا کریں کیونکہ اس ’’غبار‘‘ کے باعث ان کے کام میں رکاوٹ ہورہی ہے۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ سے جیمز کوٹی کی بات نہیں ہوئی۔

جیمز کومی برتری

مزید : صفحہ اول