کیا شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت پا ک بھارت تعلقات پر جمی برف پگھلاسکے گی ؟

کیا شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت پا ک بھارت تعلقات پر جمی برف پگھلاسکے گی ؟

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

پاکستان اور بھارت، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن بن گئے ہیں، دونوں ملک اب تک مبصر چلے آ رہے تھے۔ وزیراعظم نوازشریف نے اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ ہمارے گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتے ہیں۔ پاکستان تنظیم کے چارٹر اور شنگھائی سپرٹ پر عمل درآمد کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایس سی او کے رکن ملکوں کے درمیان اچھی ہمسائیگی کا آئندہ پانچ سال کیلئے معاہدہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایس سی او مستقبل میں مختلف خطوں کے درمیان کلیدی رابطے کا ذریعہ بنے گا۔ ایس سی او کے چارٹر میں ایک اہم شق یہ ہے کہ رکن ممالک آپس کے تعلقات خوشگوار رکھیں گے۔ اگر اس ایک شق پر ہی اس کی روح کے مطابق عمل کرلیا جائے تو تمام رکن ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوسکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ شق پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر جمی ہوئی برف کو بھی پگھلا سکے گی یا نہیں؟ یہ سوال اس لئے بھی کرنا پڑتا ہے کہ دونوں ملک اس وقت بھی سارک تنظیم کے رکن ہیں لیکن یہ تنظیم بھی دونوں ملکوں کو اختلافات کم کرکے قریب آنے پر آمادہ نہیں کرسکی۔ جب سے دونوں ملکوں نے سارک تنظیم قائم کی ہے کئی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے سربراہان حکومت کشیدہ ماحول میں ایک دوسرے سے ملے۔ گزشتہ برس اسلام آباد میں سارک سربراہ کانفرنس ہونے والی تھی تمام تیاریاں مکمل تھیں لیکن بھارت نے آخری وقت پر اسے سبوتاژ کردیا۔ سارک کانفرنس کے چارٹر کے مطابق اگر ایک بھی رکن کانفرنس میں شرکت پر آمادہ نہ ہو تو اجلاس نہیں ہوسکتا لیکن اسلام آباد کانفرنس کا انعقاد روکنے کیلئے بھارت بھوٹان جیسے ملکوں کو بھی استعمال کر رہا ہے جو ہر وقت بھارت کے طفیلی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ جب سے یہ کانفرنس قائم ہوئی ہے کوئی بڑا کارنامہ اس لئے انجام نہیں دے سکی کہ بھارت اس کانفرنس کو اپنے زیر سایہ رکھ کر رکن ملکوں پر اثرانداز ہونا چاہتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بن کر پاکستان اور بھارت اس کی بہتری میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے کانفرنس میں بڑی اچھی تجویز پیش کی ہے کہ رکن ممالک کے درمیان اچھی ہمسائیگی کیلئے پانچ سالہ معاہدہ ہونا چاہئے۔ اس تجویز کو اگر رکن ملکوں کی جانب سے پذیرائی ملتی ہے تو پاکستان اور بھارت اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ یہی دو ملک ایسے ہیں جو ایٹمی طاقتیں بھی ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کے ایک خاص نکتے سے نیچے نہیں اترتے، اگر کبھی کبھار سوئی تھوڑی بہت سرکتی ہے تو بڑے مختصر وقفے کے بعد پارہ دوبارہ چڑھ جاتا ہے۔ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اگر سارک تنظیم دونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتی تو شنگھائی تعاون تنظیم کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے جسے لہرا کر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہو جائے گی اس کا جواب یہ ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں خطے کی دو عالمی طاقتیں بطور رکن شریک ہیں یہ روس اور چین ہیں۔ دونوں ملکوں کی یہ خواہش بھی ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے طے کرلیں۔ چین تو کئی بار پاکستان اور بھارت دونوں کو مشورہ دے چکا ہے کہ وہ اپنے تنازعات باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کریں اب بھی روس اس بات کیلئے کوشاں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آئندہ مذاکرات کیلئے کوئی امید افزا روڈ میپ طے کرلیا جائے۔ دونوں سربراہان حکومت آستانہ میں صرف خالی خولی مسکراہٹوں کے تبادلے اور ایک نمائشی مصافحے تک محدود رہے (کیمروں سے بچ کر کوئی ملاقات ہوئی ہو تو کہانہیں جاسکتا) ۔رسمی کلمات کے ذریعے حال احوال پوچھا، بات اس سے زیادہ نہ بڑھ سکی لیکن دونوں ملکوں کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اب وہ ایک وسیع تر فورم کے رکن بن گئے ہیں جس میں دو بڑی عالمی طاقتیں بھی شریک ہیں اور آئندہ برسوں میں ترکی جیسا ملک بھی اس کی رکنیت حاصل کرسکتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ تنظیم خطے میں علاقائی تعاون کی بہت بڑی تنظیم بن کر ابھرنے کا پوٹینشل اپنے اندر رکھتی ہے اور اگر وزیراعظم نوازشریف کی تنظیم کی اچھی ہمسائیگی کے نظریئے کو پذیرائی حاصل ہوتی ہے تو تعلقات کی بہتری میں اس تنظیم کا کردار بہت مفید ثابت ہوگا۔ اگرچہ بھارت نے چین کی ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا تھا تاہم ابھی تک اس کے دروازے بھارت پر بند نہیں ہوئے۔ بھارت اگر چاہے تو اب بھی اس منصوبے میں شریک ہوسکتا ہے جو تین براعظموں کو آپس میں ملانے کا باعث بنے گا اور جس کے بعض پراجیکٹ عملاً کام شروع بھی کرچکے ہیں اور اگلے دو تین سال میں ان میں بڑی تیزی آ جائے گی۔ تنازعات کو حل کرنے کیلئے چین نے جو نظریہ اپنایا وہ پوری دنیا کیلئے قابل تقلید ہونا چاہئے۔ چین، تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور عالمی فورموں پر وہ ون چائنہ پالیسی کی خلاف ورزی کی کسی بڑی سے بڑی قوت کو بھی اجازت نہیں دیتا کہ اس مسئلے پر چین نے امریکہ کے ساتھ بھی سخت مؤقف اختیار کیا، چین اس پوزیشن میں بھی ہے کہ تائیوان پرحملہ کرکے اسے بزور قوت اپنے ملک میں شامل کرلے لیکن اس نے ایسا کرنے سے ہمیشہ گریز کیا اور ایسے اقدامات کا آغاز کیا جن کے ذریعے دونوں خطوں کے عوام کو قریب لاکر اس مسئلے کا فطری حل تلاش کیا جائے۔ دونوں ملکوں کے درمیان لوگوں کی آمدورفت کو آسان بنا دیا گیا ہے اور دونوں ملکوں کی فضائی کمپنیاں ایک دوسرے کے علاقوں میں آپریٹ کرتی ہیں۔ تنازعات سے گریز پائی اور کشیدگی سے اجتناب چین کی ایسی پالیسی ہے جس نے اسے اپنی تمام تر توجہ اپنی اقتصادیات پر مرکوز کرنے کا راستہ دکھایا اور اقتصادی ترقی نے چین کی دفاعی قوت کی مضبوطی میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اب چین ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہے اور چند برس بعد اس شعبے میں بھی اپنی بالادستی کے پھریرے لہراتا ہوا نظر آئے گا۔

برف

 

مزید : تجزیہ