جمشید دستی کو فوری رہا نہ کیا گیا تو سڑکوں پر آجائینگے‘ سرائیکی رہنما

جمشید دستی کو فوری رہا نہ کیا گیا تو سڑکوں پر آجائینگے‘ سرائیکی رہنما

ملتان(جنرل رپورٹر)سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنماؤں رانا فراز نون ، ظہور دھریجہ ، عاشق بزدار ، ملک اللہ نواز وینس ، ماسٹر مبین شجاع آبادی ، صوفی تاج گوپانگ اور مظہر کات نے عوامی راج پارٹی کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی جمشید احمد خان دستی کی گرفتاری کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے(بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

کہا ہے کہ سپیکر کی اجازت کے بغیر کسی ممبر اسمبلی کو گرفتار کرنا خلاف آئین اور خلاف قانون ہے ،اگر جمشید دستی کو رہا نہ کیا گیا تو سرائیکی جماعتیں سڑکوں پر احتجاج کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کھربوں کے سکینڈل پانامہ لیکس والے بھی جیل سے باہر ہیں اور جن لوگوں نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں 14 افراد کو شہید کیا ان کا بھی آج تک بال بیکا نہیں ہوا مگر جمشید دستی کو پانی کے مسئلے پر گرفتار کر لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے ، ہمارا مطالبہ ہے کہ ارکان اسمبلی خصوصاً سرائیکی وسیب کے ارکان اسمبلی اس وقت تک اسمبلی کا بائیکاٹ کریں جب تک جمشید دستی رہا نہیں ہو جاتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ حکمران ثابت کریں کہ جمشید دستی نے زبردستی پانی لیکر اپنے رقبے کو سیراب کرنے کی کوشش کی، اگر حقداروں کو پانی دلانے کا معاملہ ہے تو پھر حکمران معافی بھی مانگیں اور جمشید دستی کو رہا بھی کریں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نو سرائیکی وسیب کو کربلا بنا دیا ہے ، سرائیکی وسیب کے لوگوں کا پانی بند کر کے یہ لوگ یزیدی کردار ادا کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ بات صرف کسی ایک نہر کے پانی کی نہیں بلکہ پورے خطہ سرائیکستان کے حق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے ، اپر پنجاب سرائیکی وسیب کے حصے پر ڈاکہ ڈال کر اپنے حصے سے زیادہ پانی لے رہا ہے اور مزید ظلم یہ کہ سرائیکی وسیب کے حصے کا پانی سندھ کو بھی دے دیا جاتا ہے اورپھر نعرہ لگایا جاتا ہے کہ بڑے بھائی پنجاب نے قربانی دی ، حالانکہ وہ پانی پنجاب کا نہیں سرائیکی وسیب کا ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اب بات جمشید دستی کی گرفتاری سے شروع ہوئی ہے تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچناچاہیے انہوں نے کہا کہ جمشید دستی سے لفظ جنوبی پنجاب اور بعض دوسرے مسائل پر شدید اختلاف اپنی جگہ مگر وسیب کے غریب مزدوروں اور کسانوں کے لئے وہ جہاں جائیں گے ہم ان کے ساتھ ہونگے اب ان ارکان اسمبلی کا فرض ہے کہ وہ اسمبلی میں وسیب کے ساتھ ہونے والے مظالم کی آواز بلند کریں یا پھر چلو پانی میں ڈوب کر مرجائیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر