دستی کی گرفتاری کیخلاف عوامی راج پارٹی ، پیپلز سرائیکی پارٹی کے مظاہرے

دستی کی گرفتاری کیخلاف عوامی راج پارٹی ، پیپلز سرائیکی پارٹی کے مظاہرے

ملتان ( جنرل رپورٹر) عوا می راج پارٹی اور پیپلز سرائیکی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی گرفتاری اور سنٹرل جیل میں پابند سلاسل کرنے کے خلاف کارکنوں کے الگ الگ احتجاجی مظاہرے،24گھنٹے میں رہائی کا مطالبہ ‘ فوری رہا نہ کرنے پر جگہ جگہ احتجاج کا اعلان، عوامی راج پارٹی کے (بقیہ نمبر11صفحہ12پر )

زیراہتمام سنٹرل جیل چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت عوامی راج پارٹی کے رہنماؤں چوہدری عامر کرامت، عامر سلطان گورایہ ، میاں مظہر عباس نے کی اس موقع پر کارکنوں نے گو نواز گو کے نعرے بھی لگائے اور جمشید دستی کی گرفتار ی کی شدید مذمت بھی کی اس موقع پر ان کا کہنا تھاکہ جمشید دستی اسلام آباد سے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے کہ انہیں وزیراعلی پنجاب کے ایماء پر نہر کا پانی زبردستی کھلوانے کے الزام میں ملوث کرکے گرفتار کیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا اگر انہیں گرفتار ہی کرنا تھا تو جمشید دستی کے مطابق انہیں پہلے قومی اسمبلی کے سپیکر سے اجازت لینا چاہیئے تھی لیکن موجودہ حکومت نے آمریت کی بدترین مثال قائم کی اور انہیں گرفتار کرکے چار جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا گیا اگر ان پر درج جھوٹے مقدمات خارج نہ کئے گئے اور انہیں رہا نہ کیا گیا تو وہ بھرپور احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے اور چناب پل غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دی جا ئے گی جبکہ پیپلز سرائیکی پارٹی کے سربراہ ملک ذوالنورین بھٹہ کی قیادت میں عزیز ہو ٹل چوک پر جمشید دستی کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ جمشید دستی کی گرفتاری سرائیکی تحریک کے خلاف ایک سازش ہے۔ علاوہ ازیں پیپلز سرائیکی پارٹی کے زیر اہتمام عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید خان کی گرفتاری کے خلاف عزیز ہوٹل چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ملک ذوالنورین بھٹہ نے کہا کہ جمشید خان دستی کو گرفتار کرنا سرائیکی صوبے کی تحریک کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے مظلوم و محکوم قوم کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے عوامی لیڈر کو رہا کیا جائے اگر24گھنٹوں میں رہا نہ کیا گیا تو تخت لاہور کی بادشاہت کے خلاف سرائیکی خطہ کے ہر چوراہے پر احتجاجی دھرنے دےئے جائینگے۔پیپلز سرائیکی پارٹی کے کارکنوں نے ’’مظلوم قوم کے حقوق کی جنگ لڑنے والے جمشید دستی کو رہا کرو‘‘ اور دیگر نعرے لکھے ہوئے احتجاجی کتبے بھی اٹھارکھے تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر