محکمہ صحت ملتان میں اہم عہدوں پر بے قاعدگیوں میں ملوث سٹاف تعینات

محکمہ صحت ملتان میں اہم عہدوں پر بے قاعدگیوں میں ملوث سٹاف تعینات

ملتان (وقائع نگار)صوبائی حکومت کے گڈ گورننس کے دعوؤں کے برعکس محکمہ صحت ملتان میں اہم عہدوں پربے قاعدگیوں میں ملوث وسٹاف تعینات کردیاگیاہے ۔ چیف ایگزیکٹو افیسر ہیلتھ ڈاکٹر عاشق حسین ملک پرمظفر گڑھ میں بطور ای ڈی او ہیلتھ تعیناتی کے دوران ادویات کی بوگس خریداری بھرتیوں میں بے قاعدگی فراڈ ودیگر سنگین الزامات پر پیڈ ایکٹ 2006کے تحت انکوائری(بقیہ نمبر12صفحہ12پر )

کاحکم دیاگیاتھا۔ اس طرح ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈاکٹرعلی مہدی پردرجہ چہارم ملازمین کی بھرتی میں بے قاعدگی کے الزام کے تحقیقات ہوئیں اوران پر الزامات ثابت ہوگئے ہیں ۔ مگر ضلعی انتظامیہ دور سابق ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر راؤ ظفر کی ملی بھگت کے باعث انکوائری کو دبا گیا ہے جس پر ساڑھے تین ماہ گزرنے کے باوجود قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے اس بارے میں ذرائع کاکہناہے کہ ضلعی انتظامیہ کا اہم شخصیت کے قریبی دوست مظفر آباد کے قریبی علاقے کے رہائشی ہے نے سفارش کرکے ڈاکٹر علی مہدی کی انکوائری رکوادی ہے اسی طرح محکمہ صحت ملتان کے سپرنٹنڈنٹ مہرشفیق احمد کے خلاف غیرقانونی طورپر ترقی لینے اوربیٹے ثمر شفیق کو مستقل بنیادوں پرقواعد کے خلاف سنیٹری پٹرول بھرتی کروایا۔ جس پر انکوائریاں ہوئیں۔ دونوں الزام ثابت ہوگئے ۔ تاہم ڈی سی کو اپیل کے بعد ان پر لگے الزامات ختم کرتے ہوئے دوبارہ سپرنٹنڈنٹ تعینات کردیاگیاہے محکمہ صحت ذرائع کاکہناہے کہ مہر شفیق نے اپنے بیٹے ثمرشفیق کوانکوائری کی وجہ سے سینٹری پٹرول کے عہدے استعفیٰ دلواکر شہبازشریف جنرل ہسپتال میں بطور سٹور کیپربھرتی کروادیاہے ۔ جبکہ ان دونوں کی سابقہ انکوائریاں دیگر افسران کوبھی دبارہ دے دی گئی ہیں جن پرفیصلہ ابھی باقی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر