سینیٹ ،غیر قانونی دبے خلی کا ترمیمی بل منظور،قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا

سینیٹ ،غیر قانونی دبے خلی کا ترمیمی بل منظور،قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل ...

اسلام آباد(این این آئی) سینیٹ نے قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل 2017ء متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا ۔جمعہ کواجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے تحریک پیش کی کہ تمام تعلیمی اداروں میں مسلمان طلباء کیلئے قرآن پاک کی تعلیمات کو لازمی پڑھانے کیلئے قانون وضع کرنے کا بل قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل 2017ء قومی اسمبلی کی منظور کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے ٗصدر نشین نے بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔اجلاس کے دور ان پوسٹ آفس (ترمیمی) بل 2017ء متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ وزیر قانون زاہد حامد نے تحریک پیش کی کہ پوسٹ آفس ایکٹ 1898 میں مزید ترمیم کرنے کا بل پوسٹ آفس (ترمیمی) بل 2017ء قومی اسمبلی کی منظور کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ صدر نشین نے ایوان کی رائے حاصل کرنے کے بعد بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔اجلاس کے دور ان عوامی اہمیت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمان کے اندر ایک شخص نے شیخ رشید کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور پارلیمان کی سیکیورٹی پر مامور عملہ کھڑا دیکھتا رہا۔ اس واقعہ کا نوٹس لیا جائے۔ یہ کسی ایک ایوان کا نہیں‘ سینٹ کا بھی معاملہ ہے۔ صدر نشین نے یہ معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔قائد حزب اختلاف کے عوامی اہمیت کے معاملے پر جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا کہ کل جیسے ہی شیخ رشید کے ساتھ یہ واقعہ ہوا اس کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمر کو اس واقعہ پر سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان فوری طور پر شیخ رشید سے ایوان میں ملے اور ملزم کو تحویل میں لے کر اس کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزم کو عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔اجلاس کے دور ان وزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمان نے تحریک پیش کی کہ غیر قانونی بے دخلی ایکٹ 2005ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل غیر قانونی بے دخلی (ترمیمی) بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔ صدر نشین نے بل کی شق وار منظوری حاصل کرنے کے بعد حتمی منظوری کے لئے بل ایوان میں پیش کیا۔ ایوان بالا نہ اتفاق رائے سے بل کی منظوری دے دی۔دوسری طرف شیری رحمن نے لیڈی سینیٹر کہنے پر احتجاج کیا ہے ۔ جمعہ کو اجلاس کے دور ان وزیر قانون زاہد حامد نے ماحولیات کے حوالے سے سینیٹر شیری رحمن کے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے متعدد بار شیری رحمن کا لیڈی سینیٹر کے طور پر ذکر کیا جس پر شیری رحمن سیخ پا ہوگئیں اور احتجاج کیا کہ انہیں لیڈی سینیٹر کیوں کہا جارہا ہے ٗیہ تفریق نہیں ہونی چاہیے جس کے بعد وزیر قانون نے انہیں صرف فاضل سینیٹر ہی کہا تاہم وزیر قانون کی تقریر کے بعد وہ اپنی نشست پر کھڑی ہوگئیں اور ایک بار پھر احتجاج کیا کہ انہیں خاتون سینیٹر کیوں کہا گیا وزیر قانون نے وضاحت کی کہ اعتراض کے بعد انہوں نے ایک بار بھی خاتون سینیٹر نہیں کہا۔

مزید : کراچی صفحہ اول