ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستار کی پانچ کیسز میں ضمانت منظور

ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستار کی پانچ کیسز میں ضمانت منظور

کراچی(اسٹاف رپورٹر)انسداد دہشت گردی عدالت نے میڈیا ہاؤسز پر حملہ اور اشتعال انگیز تقریرکے پانچ کیسز میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی ضمانت منظور کرلی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستارنے کہاہے کہ 22 اگست کی تقریر سے متعلق مقدمات سیاسی ہیں ، سندھ حکومت ان مقدمات پر نظرثانی کرے ، چھاپے اور گرفتاری کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔جمعہ کو انسداد دہشت گردی عدالت میں میڈیا ہاوسز پر حملہ اور اشتعال انگیز تقریر کیسز کی سماعت ہوئی ۔متحدہ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار، عامرخان اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے ۔سہراب گوٹھ پولیس نے شواہد نہ ملنے پر دو مقدمات کو اے کلاس کردیا ۔ عدالت نے پولیس رپورٹ کی منظوری نہیں دی اور ان مقدمات میں فاروق ستار کی 20، 20 ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کی ۔ عدالت نے بریگیڈ ، عزیز آباد اور ملیر سٹی تھانوں میں درج تین مقدمات میں 50،50 ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کی۔سماعت 16 جون تک ملتوی کر دی ۔مقدمات کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستارنے بتایاکہ عدالت کی جانب سے تمام مقدمات میں ضمانت مل گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ 22 اگست کی تقریر سے لا تعلقی کرنے والوں پر مقدمات بنتے ہی نہیں ، مقدمات سیاسی ہیں ، حکومت سندھ ان مقدمات پر نظر ثانی کرے ۔ مقدمات کی جانچ پڑتال کے لئے کمیٹی بنائی جائے ، چھاپے اور گرفتاری کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ مخیر حضرات نے ایک کروڑ روپے ڈونیشن دی ہے جس سے ہم اپنے کارکنان کی زر ضمانت عدالت میں جمع کرائیں گے ۔ میئر کراچی کے احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جب جمہوریت میں لوگوں کا رویہ آمرانہ ہو گا تو احتجاج ہی ہوگا۔مئیر کراچی اور ہم نے ہر فورم پر اپنے اختیارات مانگے لیکن مایوسی ہوئی۔اب ہم نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے اور عوام کی عدالت میں بھی آگئے ہیں

مزید : کراچی صفحہ اول