سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب سے صنعتکاری کو فراغ ملے گا:انیسہ زیب

سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب سے صنعتکاری کو فراغ ملے گا:انیسہ زیب

پشاور( سٹاف رپورٹر) خیبر پختونخوا کی وزیر معدنی ترقی اور محنت انیسہ زیب طاہر خیلی کی زیر صدارت جمعہ کے روز پشاور میں صوبائی منرل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن اتھارٹی (میفا) کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں رکن صوبائی اسمبلی اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے معدنی وسائل سردار اورنگزیب نلوٹھا اور سیکرٹری محکمہ معدنیات و میفاسید ظہیر الاسلام شاہ کے علاوہ اتھارٹی کے دیگر ممبران سیکرٹری قانون مختار احمد،ایڈیشنل سیکرٹری فنانس مشرف خان،ڈائریکٹر سنٹر آف ایکسیلنس ان جیالوجی پشاور یونیورسٹی ڈاکٹر نعمت اللہ ،چیئرمین شعبہ مائننگ انجینئرنگ یوای ٹی پشاور، امان الملک، صدر چیمبر آف کامرس حاجی محمد افضل ،صدر وومن چیمبر شمامہ ارباب ،ڈی جی معدنیات سید محمد شاہ، مائین اونرز اور ورکرز کے صدور اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اتھارٹی کی گزشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی جبکہ فرنٹیئر ورکر آرگنائزیشنFWOکو ہری پور میں ایک سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کے لئے پراسپکٹنگ لائسنس کے اجراء کے سلسلے میں متعدد امور کا قانونی اور تکنیکی جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں اتھارٹی کے ممبران نے اپنی آراء پیش کیں۔واضح رہے کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے ضلع ہری پور میں سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کے لئے صوبائی حکومت سے معدنی لائسنس حاصل کرنے کے لئے رجوع کیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈیویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی(KPEZDMC) کے ساتھ طے شدہ شرائط کے تحت ایف ڈبلیو او اراضی کے حصول میں حکومت کو سو فیصد ادائیگی ایڈوانس میں کر ے گی اور مذکورہ علاقے کی تعمیر و ترقی پر بھی مذکورہ لیز کے دوران10کروڑ روپے سالانہ خرچ کرے گی ۔اس طرح ایذڈمک کے ذریعے حکومت کو مذکورہ سیمنٹ پلانٹ کے منافع سے آغاز میں ایک فیصد حصہ جبکہ بعد میں 10فیصد حصہ بھی ملے گا۔میفا اجلاس میں ممبران نے اس موقع پر ایف ڈبلیو او کو پراسپکٹنگ لائسنس کے لئے 3ہزار ایکڑ پر محیط اراضی کے لائسنس کے اجراء کی متفقہ طور پر اصولی منظوری دے دی تاہم یہ ہدایت کی کہ مذکورہ اراضی کا رقبہ تین ہزار ایکڑ سے زائد نہ ہو۔مذکورہ لینڈ بالکل فری ہو اور وہاں پر کوئی اور لیز کے لئے کان کنی نہ ہو رہی ہو۔ اراضی اوور لیپ بھی نہ ہو اور نہ کسی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔ اتھارٹی نے ا مید ظاہر کی کہ مذکورہ منصوبہ عوامی مفاد میں ہے اور اس سے صوبائی حکومت کو زیادہ ریونیو آئے گا۔اس موقع پر صوبائی وزیر معدنی ترقی انیسہ زیب طاہر خیلی نے توقع ظاہر کی کہ اس اہم منصوبے کے ذریعے نہ صرف صوبے میں صنعتکاری کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ روزگار کے وسیع تر مواقع بھی میسر آ سکیں گے اور سرکاری خزانے کو کہیں زیادہ ریونیو آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبر پختونخوامیں 7سیمنٹ پلانٹس چل رہے ہیں جبکہ 19نئی سیمنٹ فیکٹریوں کو حکومت نے نئے لائسنسز جاری کئے ہیں جس سے صوبے میں سیمنٹ انڈسٹری کا ایک انقلاب آئے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول